سیاسی مسافر،آسائشوں کی جنت
تحریر:انورساجدی
اگرچہ نواب ثناء اللہ زہری،نواب محمد خان شاہوانی اور جنرل ریٹائر عبدالقادر بلوچ کی پیپلزپارٹی میں شمولیت بظاہر بلوچستان میں پیپلزپارٹی کے احیاء کیلئے اہم واقعہ ضرور ہے لیکن یہ الیکٹیبلز کاایک نیا سیاسی ایکٹ ہے اس لئے اس کی بہت زیادہ اہمیت نہیں ہے کیونکہ الیکٹیبلز سیاسی مسافر ہوتے ہیں ان کا آنا جانا لگارہتا ہے اور وہ اپنے لئے اقتدار کے نئے مواقع کے متلاشی رہتے ہیں اگر حالات نے پیپلزپارٹی کا ساتھ دیا اور اسے آئندہ انتخابات میں حکومت سازی کا موقع ملا تو جنرل قادر اور ثناء اللہ زہری وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہوسکتے ہیں جبکہ جلد یا بدیر سردار یار محمد رند بھی تحریک انصاف کو چھوڑ کر پیپلزپارٹی کا رخ کرسکتے ہیں اگر ایسا ہوا تو وزارت اعلیٰ کے امیدواروں میں ایک اوراضافہ ہوگا بلوچستان میں چونکہ سیاست پابند سلاسل ہے یہاں کے ہر عمل کو مرکز براہ راست کنٹرول کرتا ہے اس لئے سیاسی جماعتوں کا آزادانہ طور پرپھلنا پھولنا ممکن نہیں ہے بدقسمتی سے1970ء کے بعد بلوچستان میں کبھی آزادانہ انتخابات نہیں ہوئے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد بلوچستان کو ڈائریکٹ کنٹرول کرکے مشق ستم بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
چند ایک جماعتوں کو اپنی شرائط یا تجربہ کے طور پر کام کرنے کی اجازت دی گئی وفاقی منصوبہ کے تحت قوم پرست جماعتوں کے سائز کو ڈائنوسار سے چھوٹا کرکے چھپکلی بنایا گیا انہیں ایک دومرتبہ حکومت بنانے کا موقع دیا گیا تاکہ ان کی نیک نامی پر حرف آسکے ماضی تو اپنی جگہ موجودہ نظام کی بنیاد ایک راجپوت جنجوعہ صاحب نے رکھی ان کے ایک ہاتھ میں ڈنڈا اور دوسرے میں گاجر تھے ان کے دور میں بدترین انتخابی بے قاعدگی دیکھنے میں آئی لیکن مرکز اس سے بھی مطمئن نہ ہوا بلکہ فیصلہ کیا گیا کہ قوم پرستوں کے حصہ میں ناکامی اورنالائقی کاطوق ڈالا جائے ڈھائی تین سال کی حکومت دے کر تاابد یہ پروپیگنڈہ کیاجائے گا کہ بلوچستان کے اپنے لوگوں کو حکومت کا موقع دیا گیا لیکن وہ بلوچستان کیلئے کچھ نہ کرسکے حالانکہ وزیراعلیٰ اور کابینہ ضرور بنائی گئی لیکن اقتدار اوراختیار کبھی نہیں دیا گیا اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ جب چینی صدر کے دورہ اسلام آباد کے دوران جب گوادر کا معاہدہ کیا گیا تو صوبہ کے وزیراعلیٰ کواس تقریب میں مدعو ہی نہیں کیا گیا اسی طرح1997ء میں ایٹمی دھماکوں کے مسئلہ پر وزیراعلیٰ کو سیکورٹی رسک قراردے کر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا ن لیگ نیشنل پارٹی اورپشتونخوا کے درمیان مری کے معاہدہ میں ڈھائی ڈھائی سال کا فارمولہ طے کیا گیا اس دوران پشتونخوا میپ مزے سے حکومت کرتی رہی جبکہ نیشنل پارٹی کوئی کارنامہ سرانجام نہ دے سکی اس دوران پشتونخوا اپنے بنیادی مطالبہ جنوبی پشتونستان کے مطالبہ سے دستبردار ہوگئی جسے اب دوبارہ زندہ کیا گیا تاکہ یہ پارٹی سیاسی طورپر زندہ رہے۔
نواب ثناء اللہ کو وزارت اعلیٰ کی کرسی سے زرداری نے اتارا حالانکہ بنیادی پلان بزرگوں کا تھا زرادری اپنی سیاست کی تاریخ میں پہلی بار بری طرح استعمال ہوگئے انہیں قدوس بزنجو جیسے ناتجربہ کار اور کچی گولیاں کھیلنے والے شخص نے دھوکہ دیا اور زرداری جھانسے میں آگئے اسے سیاست کا جبر کہاجاسکتا ہے کہ جس نواب زہری کووزارت اعلیٰ سے نکالاگیا وہی زرداری کی جماعت کی زینت بن گئے وعدہ یہ ہے کہ جیالا بننے کے بعد ان کے ساتھ ہونیوالی زیادتی کا ازالہ کردیاجائیگا۔
زرداری نے بلوچستان میں سب سے زیادہ احسانات رئیسانی برادران پر کئے بڑے کو وزیراعلیٰ بنایا چھوٹے کو پارٹی صدر اور سینیٹرمنتخب کروایا لیکن انہوں نے وفا نہ کی۔بلوچستان کی اشرافیہ سے ایک نظریہ پرلمبے رہنے کی توقع کرنا بے کار ہے اب جبکہ کسی بھی جماعت کا کوئی نظریہ نہیں ہے تو اشرافیہ آزاد ہے کہ جہاں اقتدار ہو وہاں کارخ کرے۔
بلوچستان کو ریموٹ کے ذریعے ڈائریکٹر کنٹرول کا بڑا ثبوت ثبوت باپ پارٹی ہے سالہا سال کے تجربات کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا جماعت اپنی ہونی چاہئے تاکہ جو سیاسی مسافر ہیں وہ ادھر ادھر بھٹکنے کی بجائے اپنی ہی جماعت کے اندر آکر آمسودہ حال رہیں بلوچستان اسمبلی کی ساخت دیکھئے جے یو آئی اور بی این پی مینگل کو چھوڑ کر باقی اراکین اسمبلی دائمی الیکٹیبلز ہیں وہ ہوا کا رخ دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں اگرکل کلاں مرکز میں تبدیلی آگئی اور دست شفقت ہٹ جائے تو سارے محترم دوست اور مقامات کا رخ کریں گے بلکہ ہدایات کے مطابق اپنی جماعت کا فیصلہ کریں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پسندیدہ فہرست میں نام کے اندراج کے بغیر ان کے لئے الیکشن جیتنا اور وزارتوں پر فائز رہنا ممکن نہیں ہے یہ اشرافیہ انتہائی درجہ کی لگژری لائف گزارنے کی عادی ہوچکی ہے اس سے وہ ہٹ نہیں سکتے بلکہ یہ مقام ان کیلئے حسن بھی سبا کی جنت جیسی ہے اس کے بغیر انکا زندہ رہنا ہی مشکل ہے اس کمزوری کا فائدہ اٹھا کر مرکز بلوچستان میں اپنی من مانی کررہا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے اسی کمزوری کی وجہ سے بلوچستان کے چپہ چپے پر آہنی گرفت مضبوط کی جارہی ہے ساحل کا کیا وسائل کا کیا کچھ بچا ہی نہیں ہے۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جام میر غلام قادر سے کسی صحافی نے پوچھا تھا کہ آپ لوگ ہردفعہ پارٹی کیوں بدلتے ہیں توانہوں نے کہا تھا کہ ہم پارٹی نہیں بدلتے بلکہ پارٹیاں ہمیں بدلتی ہیں یہ لوگ محرومی اور محکومی کو بڑھاوادینے کے سہولت کار ہیں
اسی لئے بلوچستان میں سیاست کرنا ایک عزت والا پیشہ نہیں رہا خیر یہ تو اب سارے ملک کی روایت بن چکی ہے جو آج کے حکمران ہیں کل انہیں چور ڈاکر لٹیرا اور بے ایمان قراردیاجاتا ہے جو بھی کرسی سے اترجاتا ہے اسے ساری دنیا میں بدنام کرکے چھوڑا جاتا ہے اس سلسلے میں نوازشریف اور زرداری کی مثال سامنے ہے اس طرز عمل نے عالمی برادری میں پاکستان کی توقیر ختم کردی ہے۔
گزشتہ سال ڈان اخبار کے ایگزیکٹو اور اے پی ایس کے صدر حمید ہارون جب بی بی سی کے ہارڈ ٹاک میں گئے تو صحافی نے پوچھا کہ آپ کا اخبار ایک بے ایمان اور بدعنوان شخص کی کیوں حمایت کرتا ہے اس کا کوئی جواب تو تھا ہی نہیں کیونکہ نوازشریف سزایافتہ مجرم تھے کسی اخباری ایڈیٹرنے تو انہیں نیک اور پارسا ثابت نہیں کرنا ہے یہ کام توعدالتوں کا ہے
دنیا کو معلوم نہیں کہ پاکستان میں کسی کو گرانا اور کسی کو لانا ایک پولیٹیکل انجینئرنگ کاحصہ ہوتا ہے جس کو گرانا ہو تو اسے چور ڈاکو ثابت کرنا کوئی مشکل کام نہیں جس کو لانا ہوتو وہ چاہے چور اور ڈاکو کیوں نہ ہو اسے عدالتوں سے صادق اور امین ہونے کا سرٹیفکیٹ دلوایا جاتا ہے پھر نام نہاد انتخابات میں اسکے بکسے فرشتے بیلٹ پیپروں سے بھرتے ہیں خود جیتنے والا بھی حیران رہ جاتا ہے کہ اسے اتنے سارے ووٹ کس نے دیئے جس کو لایا جاتا ہے کہ اسے کرسی تو دی جاتی ہے لیکن اقتدار نہیں دیا جاتا ہے ہروزیراعظم کی حیثیت ایک شوبوائے کی ہوتی ہے وزرائے اعلیٰ کی حالت تو اور پتلی ہوتی ہے۔پشتونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان اور پنجاب کے وزیراعلیٰ بیشتر بلدیاتی انتخابات میں کونسلر کا الیکشن ہارے لیکن ان کے سینوں پر وزارت اعلیٰ کے تمغے سجائے گئے خود وزیراعظم عمران خان نے برملا کہا تھا کہ دوسال تو سمجھنے میں ضائع ہوگئے لیکن اس کے باوجود انہیں ایک کامیاب اور تبدیلی لانے کے علمبردار وزیراعظم کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ان کی کارکردگی کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے قوم سے کئی بار خطاب میں اعلان کیا کہ امریکہ کو نہ تو اڈے دیئے جائیں گے اور نہ ہی اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی لیکن امریکہ نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ اس کے بی52بمبار قطر کے اڈے سے اڑے اور انہوں نے افغانستان میں طالبان کے ٹھکانوں پربمباری کی لیکن سوال یہ ہے کہ یہ طیارے کس ملک کی فضائی حدود کراس کرکے افغانستان تک گئے اور واپس دوحہ پہنچے۔لگتا ہے کہ یہ جھوٹ بھی پکڑا جانے والا ہے جس کے بعد درجنوں ترجمال کمرکس کر ٹی وی چینلوں پر آئیں گے اور میں نہ مانوں کی رٹ لگائیں گے۔
ساری دنیا کہہ رہی ہے کہ پاکستان کا شمار ان پانچ بدترین ممالک میں ہوتا ہے جہاں صحافیوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہے لیکن وزیراعظم اور ان کے وزیر اطلاعات کااصرار ہے کہ پاکستان میں میڈیا اتنی آزاد ہے جو کسی مغربی ملک میں بھی نہیں ہے اگرپروپیگنڈہ سوفیصد جھوٹ پر مبنی ہوتو کب تک اس کادفاع کرنا ممکن رہے گا
گزشتہ کچھ عرصہ سے حکومت نے سوشل میڈیا کیخلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا کم از کم تین صحافیوں کو غائب کرکے گرفتاری شوکیاگیا۔اب تو برطانیہ کے ممتاز روزنامہ گارڈین نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں برٹش حکام نے جان بچا کر پناہ لینے والے پاکستانی صحافیوں کی جانوں کو خطرہ سے خبردار کیا ہے کیونکہ لندن سے ایک شخص گرفتاری ہوا ہے جو ہالینڈ میں مقیم ایک پاکستانی صحافی کو مارنے کا منصوبہ بناچکا تھا ٹی وی چینلوں کو پہلے ہی آختہ کردیا گیا ہے جبکہ پرنٹ میڈیا کی شہہ رگ کاٹ دی گئی ہے اور اس کے دھیرے دھیرے موت کا انتظار کیاجارہاہے۔حکومت نے سوشل میڈیا کے کارکنوں کو کامیابی کے ساتھ تقسیم کیا ہے۔سارے ایک دوسرے سے لڑرہے ہیں اور حکومت مزے میں ہے۔
ہاتھیوں کی اس لڑائی میں بے چارے بلوچستان والے کیا بیچتے ہیں چاہے وہ سیاسی رہنما ہوں یا صحافی ان کی حیثیت سابقہ اور لاحقہ سے زیادہ نہیں ہے۔


