اسلام آباد، مبنیہ طور پر اغواء ہونیوالی افغان سفیر کی بیٹی کا پہلا ویڈیو پیغام

اسلام آباد(انتخاب نیوز)ہسپتال میں پولیس اہلکار بھی موجود تھے،انہوں نے اسی وقت تحقیقات شروع کر دیں اور بار بار سوا ل پوچھ رہے تھے میں انکا جواب دیتی تھی، باوجود اسکے کہ میں ذہنی و جسمانی طور پر صدمے کی حالت میں تھی،میری اس وقت ڈاکٹروں سے یہ روقع تھی کہ وہ مجھ پر توجہ دیں،بہت سی باتیں اہم ہوتی ہیں جو کہ ابتدا میں ہونی چاہئے تھیں، مثال کے طور پر مجھے یقین ہے اغواء کاروں میں مجھے بیہوشی کی دوا دی تھی کیوں کہ میرا سر گھوم رہا تھا مجھے ایک کی بجائے دو یا تین انسان دکھائی دے رہے تھے ان کو دیکھنا چاہئے تھا کہ میں کس حالت میں ہوں زخمی ہوں، یہ باتیں پولیس کی تحقیقات میں بھی مدد کر سکتی تھیں میں نہیں سمجھتی لیکن ایک جامعہ معائنہ نہیں ہوا ڈاکٹر بھی پولیس کی طرح سوال کر رہے تھے جیسے کہ آرتھو پیڈک ڈاکٹر وہ میری ہڈیوں کا معائنہ کرتا لیکن وہ پوچھ رہے تھے مجھے بتاؤ کیا ہوا؟میرا خیال تھا کہ وہ میری صحت کے بارے میں سوال کرے گا پوچھے گا کہ کہاں کہاں درد ہے،اس کی بجائے انہوں نے پوچھا کہ آغاز سے کہانی بتاؤ کہ کیا ہوا، آرتھو پیڈک ڈاکٹر مجھ سے گھر سے نکلنے کے بارے میں کیوں پوچھ رہا تھا؟ میں ٹیکسی میں گئی یا اپنی گاڑی میں گئی تھی؟ میری پاکستانی حکام سے توقع ہے کہ اس معاملے کی صداقت کیساتھ تحقیقات کریں ملوث افراد کو سزا دلائیں بغیر کسی تاخیر کے کام کریں کیونکہ اسلام آباد کے اہم ترین علاقے میں یہ واقعہ دوبارہ نہ ہو،

اپنا تبصرہ بھیجیں