جیکب آباد، خسرہ وباء سے ایک اور بچی جان بحق


جیکب آباد: جیکب آباد میں خسرہ نے مزید ایک معصوم بچی کی جان لے لی،دو ہفتوں کے دوران ایک ہی خاندان کے 4 بچے خسرے میں مبتلا ہوکر فوت گئے۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد ضلع میں خسرے کی وباء بے قابو ہوگئی ہے معصوم بچے خسرے میں مبتلا ہوکر موت کے منہ داخل ہورہے ہیں ضلع میں 70 سے زائد بچوں کی اموات کے باوجود محکمہ صحت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، جیکب آباد کی تحصیل ٹھل کے علاقے باہو کھوسہ کے نواحی گاؤں سعید احمد جکھرانی میں 6 سالہ معصوم بچی مریم مرہٹو خسرہ میں مبتلا ہوکر فوت ہوگئی ہے دو ہفتوں کے دوران مذکورہ خاندان کے 4 سالہ جمشیر اور 6 ماہ کی جمیلہ سمیت چار بچے خسرہ کی وجہ سے فوت ہوچکے ہیں جبکہ اسی خاندان کے 5 سالہ منیر، 4 سالہ فوزیہ، 6 ماہ کی عظیماں،2 سالہ اویس اور 4 سالہ بختاور بھی خسرہ کی وباء میں مبتلا ہوکر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں ضلع جیکب آباد میں اب تک خسرے کی وباء کے باعث 70 سے زائد بچے فوت ہوچکے ہیں جبکہ اب بھی درجنوں بچے خسرے کی وباء میں مبتلا ہوکر زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں جیکب آباد ضلع کے متاثرہ علاقوں میں محکمہ صحت کی جانب سے خسرے کی وباء پر قابو پانے کے لیے کوئی موثر اقدامات نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے مزید اموات کا خدشہ ہے، متاثرہ علاقوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت کی طرف سے خسرے میں مبتلا بچوں کو علاج کی بہتر سہولیات فراہم نہیں کی جارہی ہے جس کی وجہ سے آئے روز معصوم بچوں کی زندگیاں ختم ہورہی ہیں، انہوں نے کہا کہ خسرے کی وباء کے باعث علاقے میں خوف کی لہر چھائی ہوئی ہے متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ حکومت ہنگامی بنیادوں پر متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیمیں بھیجے اور خسرے میں مبتلا بچوں کے علاج کے لیے خصوصی وارڈ قائم کرکے بچوں کی زندگیاں بچائی جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں