پتنکنری کے پرائمری سکول میں تاحال ٹیچر تعینات نہ ہوا

ضلع خضدار کے تحصیل نال گریشہ کے علاقے پتنکنری گریشہ کے پرائمری سکول گزشتہ پانچ سالوں سے زائد عرصے سے ٹیچر نہ ہونے کی وجہ بند پڑے ہیں سکول کی دیوار منہدم ہوکر رہ گئی ہے گرنے کے قریب ہیں۔ بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہو رہے ہیں اہلیاں پتنکنری کے کہنے کے مطابق موضع پتنکنری کے سکول کو انہوں نے ہارڈ بلوچستان نامی تنظیم کے عہدہ داروں کے کہنے سے اپنی مدد آپ اور اپنی ذاتی محنت و مشقت سے ایک کچے ہال اور برامدے کا ساتھ بطور اسکول بنائے گئے تھےاور ایک مقامی افراد کو ہارڈ بلوچستان نے بطور ٹیچر رکها گیا تها ۔ٹیچر کا ماہانہ تنخواه ہارڈ بلوچستان والے اپنی طرف سے ادا کرتے تھے۔ تقریباً چار سال تک ہمارے بچے اس اسکول میں سکون سے زیر تعلیم رہے اور چار سال بعد ہارڈ بلوچستان نامی تنظیم ختم ہوئی تو سکول کی ٹیچر کی تنخواه بند ہوگئی تو ٹیچر نے مجبوراََ بغیر تنخواہ سے اپنے کام کو جاری نہ کرسکے۔ ایک دو مہینے کے بعد بچوں کو پڑھانے کا عمل کو خیر آباد کہہ کر چھوڑ دئےتو لوگوں نے اپنے بچوں کی تعلیم کو متاثر ہوتے دیکھا ۔ایک اور مقامی میٹرک پاس افراد کو پڑھانے کے لیے رکھا دیا گیا ۔ اسے بچوں کو والدیں ماہانہ فیس دے کر اپنے بچوں کی تعلیم کو جاری رکھے کچھ مہینے کے بعد غریب اور کم آمدنی والے افراد نے اپنے بچوں کی فیس ادا نہ کر پائےمناسب فیس اور تنخواه نہ ملنے پر ٹیچر نے بھی مزید پڑهانے کا عمل کو روک دیااب ہمارے اسکول کی کچے ہال اور برآمدہ منہدم ہو کر رہ گئے ہیں۔ کهڑکیاں اور دروازے ٹوٹ پھوٹ کر اکھڑے ہوئے ہیں ۔ بارش سے چھت ٹپکتی ہے دیوار بهی اب گرنے کے قریب ہیں اہلیاں پتنکنری کا مزید کہنا ہے ہمارے محلے میں تقریباً 200 /دوسوسے زائد بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہو رہے ہیں۔ چوں کےوالدیں مالی حیثیت سے کمزور ہیں کہ وہ ایک ٹیچر رکھ کر اسکی تنخواہ خود برداشت کرکے اپنے بچوں کی تعلیم کو جاری کرکے انکے تعلیم کو متاثر ہونے سے بچائیں۔اہلیاں پتنکنری کے مطابق انہوں نے اپنے اسکول کی بحال اور ٹیچر کی تعینات کروانے کا درخواست متعدد بار ضلعی تعلیمی آفیسران اور خضدار کے تحصیل نال گریشہ کے انتخابی نمائندے ، سردار۔ میر ، متعبر اور با اثر شخصیات کو دے کر اسکول کی بحالی کا اپیل کر چکے ہیں ۔لیکن ہمارے اسکول کی بحالی کے لئے کسی نے اب تک مثبت کردار ادا کرکے ہمارے بچوں کی زندگی بچانے کیلئے کوئی عملی کام ادا نہ کئے جس سے ہمارے بچوں کی زندگی ضائع ہونے سے بچیں اور جدید تعلیمی دور میں انکی تعلیمی حق ادا ہو لہٰذا موضع پتنکنری کے بچوں کے والدیں ایک بار پھر اس وقت وزیر اعلی جام کمال صاحب ،رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل صاحب ، میر یونس عزیز زہری آغا شکیل دُرانی ،ثناء بلوچ اور تمام صوبائی اور ضلعی ایجوکیشن آفیسراں سے اپیل کرتے ہیں کہ وه گریشہ پتنکنری کے سکول کی بحالی کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کریں .ہمارے بچوں کی زندگی کو تباہی سے بچایا جاہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں