سعودیہ ،پاکستان اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ سیکورٹی تعاون کے فروغ،صنعت و دیگر شعبوں میں معاون ثابت ہوگا، طیب اردوان
استنبول (مانیٹرنگ ڈیسک)ترکیہ کے صدر اور اے کے پارٹی کے چیئرمین نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا کہ آج سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان کی پروقار دعوت پر ہم نے مقدس شہر مکہ کا دورہ کیا۔اپنے دورے کے دوران، میں نے اپنے عزیز بھائیوںسعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔اس موقع پر، ہم تینوں ممالک نے دفاعی تعاون کے ایک مشترکہ معاہدے پر دستخط کیے۔اجتماعی دفاعی صلاحیت پر مبنی یہ معاہدہ ہمارے سیکیورٹی اور دفاعی تعاون کو فروغ دینے، دفاعی صنعت میں مشترکہ منصوبے تیار کرنے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معاون ثابت ہوگا۔یہ معاہدہ جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت بیان کردہ حقِ دفاع کی بھی توثیق کرتا ہے کسی خاص ملک کے خلاف نہیں ہے اور اس میں ان تمام برادر ممالک کی شمولیت کا خیرمقدم کیا جائے گا جو ہمارے خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کے خواہاں ہیں۔علاقائی ملکیت کے اپنے وژن کے مطابق، ترکیہ بین الاقوامی قانون کے احترام کی بنیاد پر بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات اور بحرانوں کے حل کے لیے اپنے اصولی مو¿قف پر ثابت قدمی سے کاربند رہے گا۔میں اپنے رب سے دعا گو ہوں کہ ہمارا یہ دورہ، ہماری مشاورت اور ہمارے دستخط کردہ معاہدے پورے خطے کے لیے خیر و برکت کا باعث بنیں۔


