ٹی ٹی پی سانحہ اقبال کے ملزمان کی سرکوبی کرے گی!!!
تحریر: راحت ملک
14 اگست کی شب گریٹر اقبال پارک میں ایک معزز خاتون کے ساتھ جو کچھ بیتی ہے اسے دھرانے۔ لکھنے کا یارا نہیں۔ مجھے حیرت ہے یہ سب کچھ پاکستان کے ثقافتی اور علمی و ادبی اعتبار سے سب سے زیادہ روشن فکر۔ کشادہ دل اور زندہ دلان کے شہر میں رونما ہے اور یہ بھی تاحال لاہور کے عوام کا وہ ردعمل نہیں آیا جسکی امید کی جاسکتی تھی۔ دو کروڑ انسانوں کی اس بستی میں ایسا بھیانک انسانیت سوز سلوک۔!!!
سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر افسوس۔دکھ تشویش اور ندامت کی سسکیوں کی بیچوں بیچ کچھ سنگدل افراد اب بھی واقعہ کی ذمہ داری مظلوم بچی پر ڈال رہے ہیں کہ وہ وہاں کیوں گئی تھی؟
کیا یہ دلیل اپنے باطن میں اہل لاہور کے گالی کا درجہ نہیں رکھتی؟ کہ بین السطور میں جو کچھ کہا جارہا ہے اس کے صاف معنی یہ نکلیں گے کہ گریٹر پارک لاہور میں انسان نہیں۔ بھیڑیے جمع تھے اور چونکہ یہ بات ہمیں علم ہے (دلیل کے مطابق) اور خاتون کو بھی اسکا احساس ہوناچاہیے تھا لہذا وہ ایسی جگہ گئی ہی کیوں تھی جہاں وحشی درندے جمع تھے۔
کچھ افراد شدت ٍ دکھ سے اور عموماََ ایسے واقعات پر پرجوش انداز میں ملزمان کو سرعام پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ کرتے۔ یا پھر از خود مشتعل ہو کر منتقم مزاجی کا مظاہرہ کردیتے ہیں جو دراصل جرم کے قانونی کاروائی کی امید نہ ہونے کی دلیل پر ذاتی انتقام لینے کی ترغیب ہی کی شکل ہے۔ چونکہ پولیس ابھی کسی بھی ملزم کو گرفتار نہیں کرسکی حالانکہ ویڈیو میں بہت افراد کے چہرے نمایاں ہیں جنہیں شناخت کرکے ڈھوندنا چنداں مشکل نہیں پولیس نظام ٍ عدل کی خامیوں میں اپنی روئتی نوآبادیاتی تربیتی سستی کاہلی کی بنیاد پر نیز غیر پیشہ ورانہ تفتیش کی وجہ سے ملزمان کے خلاف موثر مقدمہ بنانے اور چلانے میں ناکام ہوتی ہے تو عدلیہ سزا و تادیبی اقدام نہ کرنے کی ساری ذمی داری بھی استغاثہ پر ڈال کر سرخرو ہوجاتی ہے۔ کیا نظام عدم موثر اور انصاف کی جلد فراہمی میں اپنی وجوہات پر بھی ناکام نہیں؟ عوامی سطح پر رایے نفی میں ہے۔
حالیہ اور اسی نوعیت کے دیگر سانحات پر فوری انصاف کی فراہمی عوامی مطالبے کی صورت سامبے آتا۔
اقبال پارک سانحہ پر سست روی سے پھیلتی مایوسی کے تناظر نیز افغانستان میں طالبانی ” عدل ” کے رسیا حلقے کیا ردعمل دینگے اگر خدانخواستہ ٹی ٹی پی سانحہ لاہور کے زمہ داران کو کیفر کردار تک پیچانے کے لیے کاروائی کرنے کا اعلان کردے!!!!۔
یقیناً ایسے کسی اعلان سے سارے سماج میں کھلبلی مچ جاے گی ریڑھ کی ہڈیوں میں خوف کی لہر دوڑ سکتی ہے. مجھے ایسے اعلان کی خواہش ہے نا اسکا طالب ہوں بس برسبیل تذکرہ یہ بات کہی ہے کہ ایسی صورتحال میں لازما ملوث افراد کی سانسیں گھر بیٹھے رک جائیں گی الل? نہ کرے ٹی ٹی پی۔ جو افغان طالبان کی ذیلی تنظیم ہے وہ افغانستان میں اپنے امیر کا کامیاب پیشرفت کے بعد ہماری جانب رخ کرنے کا ارادہ رکھتی ہو تو حالیہ سانحہ پہل کاری دے سکتا ہے میں حکومت سے امید کرتا ہوں کہ وہ اس اندوہناک واقعہ پر برق رفتاری سے قانونی کاروائی کرے تاکہ ماورائے قانون کسی بھی مہم جوئی کو سر اٹھانے کا بہانہ نی ملے۔”””


