نئے طالبان
تحریر:انورساجدی
اس بدقسمت خطہ میں جو کچھ ہونا ہے وہ تو ہوگا افغانستان کے حالات کے اثرات جن ممالک پر پڑنا ہے وہ تو پڑے گا اقوام متحدہ کاہائی کمیشن دباؤ ڈال رہا ہے کہ پناہ گزینوں کیلئے بلوچستان میں کیمپ قائم کئے جائیں یعنی لاکھوں پناہ گزینوں کوایک بار پھر آنا ہے وہ ضرور آئیں گے انکو کہاں رکھاجائیگا یا آزاد چھوڑا جائیگا یہ کوئی نہیں جانتا لیکن یہ امر طے ہے کہ مہاجرین کو جہاں بھی رکھاجائے وہ بالآخر کوئٹہ کارخ کریں گے کیونکہ چھوٹے علاقوں میں روزگار کے ذرائع نہیں ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کوئٹہ شہر آبادی کا مزید بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے پینے کے پانی کی قلت ہے آلودگی ناقابل برداشت ہے مردم شماری کے باوجود شہر کے صحیح اعدادوشمار سامنے نہیں لائے گئے کم از کم ایک ملین پناہ گزین ریکارڈ میں آئے بغیر یہاں قیام پذیر ہیں ان پناہ گزینوں نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ہزاروں موٹرشوروم قائم کررکھے ہیں۔1980ء کی دہائی میں جب بلوچستان پرڈیڑھ ملین پناہ گزینوں نے ہلہ بولا تھا اس وقت جنرل ضیاؤ الحق کی حکومت تھی وہ برملا کہتے تھے کہ افغان مہاجر ان کی کمزور رگ ہیں مہاجرین کے بارے میں سوال پوچھنے پر کئی بار ضیاؤ الحق اور اس وقت کے صحافیوں کے درمیان لڑائی ہوئی لہٰذا ضیاؤ الحق کو کوئی غرض نہیں تھی کہ کیا بات بلوچستان کے فائدے میں ہے یا نقصان میں ان کے دور میں بلوچستان کو ان کے مقرر کردہ فوجی گورنر چلاتے تھے مارشل لاء کاقہر آلود دور تھا عوام کی کوئی حیثیت نہیں تھی وحدانی طرز کا نظام تھا جو براہ راست مرکز کے تابع تھا چنانچہ ان کے اقدامات سے ڈیموگرافی کا مسئلہ پیدا ہوا جس کے حالیہ بحران کے دوران بڑھ جانے کا خدشہ ہے اگرچہ اس وقت ایک مقامی حکومت قائم ہے لیکن یہ بھی مرکز کا تابع فرمان ہے بلوچستان کے مفادات کیلئے یہ مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی کیونکہ اس کی اپنی کمزوریاں ہیں بلوچستان اسمبلی کی آواز اسلام آباد تک نہیں پہنچتی ایک دو اراکین بنیادی مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں اورزوردارطریقے سے کرتے ہیں لیکن ان کی آواز بھی صدا بہ صحرا ثابت ہوتی ہے بلوچستان کابینہ فیصلے کرنے میں خودمختار نہیں ہے بیوروکریسی براہ راست مرکز سے ہدایات لیتی ہے وزراء بس وقت گزاری کررہے ہیں یا وقتی خوشحالی پرخوش ہیں بلوچستان کے بارے میں جو بنیادی فیصلہ ہوتے ہیں ان کا اکثروبیشتر صوبائی حکومت کو پتہ نہیں چلتا بعد میں بتادیا جاتا ہے مرکز نے ساؤتھ بلوچستان کیلئے جس پیکیج کااعلان کیا ہے اس کے خدوخال ابھی تک واضح نہیں ہیں بلکہ یہ سوشل اب لفٹ کی بجائے ریاستی ضرورت کیلئے انفرااسٹرکچر ڈویلپ کرنے کا ایک منصوبہ ہے جس کا مقصد بلوچستان کے چپے چپے پرریاست کی موجودگی کو یقینی بنانا ہے لیکن اس پروگرام میں تعلیم،صحت،بجلی اور بنیادی ضرورت کی دیگر چیزوں کو اہمیت نہیں دی گئی ہے اگرمزید پناہ گزین آگئے تو بلوچستان کے سارے انتظامات تہہ وبالا ہوجائیں گے کیونکہ یہاں پر گڈگورننس مفقود ہے کم وبیش یہی حال باقی ملک کا ہے طالبان مکتبہ دیوبند کے ایسے لوگ ہیں جو زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں لیکن ان کے عزائم بلند اور ڈسپلن بلا کی ہے۔
دینی اسکالر ڈاکٹراسراراحمد کی پرانی گفتگو سننے کو ملی جس میں انہوں نے کہا کہ جب طالبان پہلی دفعہ برسراقتدار آئے تھے تو انہیں کابل جانے کا اتفاق ہوا وہاں جاکر انہوں نے دیکھا کہ طالبان کسی معاشی نظام کے خاکہ سے ناواقف تھے اور نہ ہی حکومت چلانے کا کوئی پلان تھا
البتہ انہوں نے اسلامی تعزیرات یا حدود نافذ کررکھے تھے جس کی وجہ سے ملک امن وامان کا گہوارہ بن گیا تھا انہوں نے طالبان کی کمزوریوں کاذکر کرتے ہوئے یہ حتمی رائے دی کہ عالم کفر پر طالبان کے آنے کی وجہ سے سکتہ طاری ہے اور یہ ایک مثبت تبدیلی ہے گزشتہ کل کی بات ہے کہ جید سنی عالم دین مفتی تقی عثمانی نے طالبان کی فتح کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اگر طالبان چاہیں تو ان کی خدمات حاضر ہیں وہ ایک شرعی نظام کی طرف اشارہ کررہے تھے جس کی تشکیل میں طالبان بنیادی صلاحیت نہیں رکھتے یعنی طالبان کی موجودہ فتح کو پاکستان کے علماء اچھی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور وہ ان سے تعاون پر آمادہ ہیں ایک اجتماعی رائے یہ ہے کہ طالبان اپنے اندر لچک پیدا کریں اور افغانستان میں رہنے والے تمام گروپوں کو اپنی حکومت میں نمائندگی دیں اگروہ نمائندہ حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے تو لازمی طور پر ان کا ملک ایک بارپھر خانہ جنگی کا شکار ہوجائے گا اور بالآخر طالبان کو ناکامی کاسامنا کرنا پڑے گا طالبان کو کامیابی قبل از وقت ملی ہے اسی وجہ سے حکومت سازی تاخیر کا شکار ہے جبکہ انہوں نے کوئی آئین بھی مرتب نہیں کیا ہے اگرشرعی نظام نافذ کرنا ہے تو بھی اس کیلئے ایک آئینی دستاویز کی ضرورت ہے یہ بات تو طے شدہ ہے کہ طالبان جمہوریت سے قطع نظر ایک ایسا نظام بنائیں گے جو صرف اور صرف طالبان کی شوریٰ پر مبنی ہوگا اور طالبان رہبر سپریم لیڈر ہونگے اس کے علاوہ حکومت چلانے کیلئے ایک عدد صدر اور گورنر ہونگے کابینہ بھی ہوگی لیکن یہ سارا نظام سپریم لیڈر تشکیل دیں گے اور ان کی رائے حتمی ہوگی۔
پاکستان اس لئے طالبان کے آنے سے متاثر ہوگا کہ دیوبند کے مکتبہ فکر کامرکز افغانستان نہیں پاکستان ہے وہاں پر طالبان کے استحکام کے بعد ان کے ہمنوا شدت کے ساتھ سراٹھائیں گے کہ پاکستان میں بھی اسی طرح کا نظام نافذ کیاجائے اگرچہ پاکستان میں ایسا ممکن نہیں ہے لیکن بدامنی اور دہشت گردی کے نئے مسائل پیدا ہوجائیں گے جنہیں کنٹرول کیلئے کئی راہ نجات ضرب عضب اور دیگر آپریشن کرنے پڑیں گے۔یعنی پاکستان کے مسائل میں بے شمار اضافہ ہوجائیگا جبکہ گزشتہ تین برسوں سے گڈگورننس عنقا ہوچکا ہے حکومت کا یہ حال ہے کہ وہ معمولی اسٹریٹ کرائم بھی کنٹرول نہیں کرسکتی چہ جائیکہ کہ وہ دہشت گردی کی نئی لہر کا مقابلہ کرے گو کہ اس وقت معیشت قدرے بہتر ہے اور آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستان کو2ارب 77کروڑ ڈالر کی امداد ایک غیبی امداد ہے جس سے معیشت کو سہارا ملے گا لیکن یہ امداد بھی پراسرار ہے اگرامریکہ نہ چاہے تو آئی ایم ایف ایک آنے امداد دینے کا روادار نہیں اس کے پیچھے امریکہ کی تائید شامل ہے آپ اسے کمال کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت امریکہ اور چین عالمی نظر نامے میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں لیکن پاکستان دونوں کو ڈیل کررہا ہے ایک نے سی پیک دیا ہے دوسرا ڈالروں کی بارش کررہا ہے لیکن ایک وقت آئیگا جب کہ اپنی پالیسی کو واضح کرنا پڑے گا کہ آیا ہم چین کے ساتھ ہیں یا امریکہ کے دوست ہیں اگرچین نے طالبان کا ہاتھ تھام لیا تو پاکستان کی کیا پالیسی ہوگی اور اگرامریکہ نے پاکستان پردباؤ ڈالا تو کیا ہوگا کیونکہ دوعملی ایک حد تک چلے گی آخرکار اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا پاکستان کیلئے نہایت اطمینان کی بات یہ ہے کہ مغربی سرحدوں پرپریشانی کے باوجود مشرقی سرحدوں پر صورتحال تقریباً نارمل ہے یو اے ای کی ثالثی کے بعد دونوں ممالک پرسکون ہیں ویسے بھی عمران خان اور نریندر مودی گرجتے بہت ہیں لیکن جنگ سے بہت ڈرتے ہیں مودی تو انتہائی بزدل واقع ہوئے ہیں وہ افغانستان میں اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود ایسے فرار ہوئے کہ سفارت خانہ ہی بند کردیا مودی کے بارے میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہم نے انہیں طالبان کو کنٹرول کرنے کیلئے کہا لیکن اس نے کابل میں لائبریری بنادی انکے بقول یہ ٹکے کے شخص نہیں ہیں ویسے بھی فی الحال انڈیا اور امریکہ کی تذدیراتی پارٹنر شپ ٹوٹ چکی ہے اگردوبارہ قائم ہوئی تو چین کے حوالے سے قائم ہوگی لیکن انڈیا کے پاس یہ صلاحیت نہیں کہ وہ چین کا مقابلہ کرسکے کیونکہ چین ٹیکنالوجی اسلحہ اور دیگر معاملہ میں کہیں آگے نکل چکا ہے اس وقت امریکہ او روس کے سوا دنیا کا اور کوئی ملک چین کی ہم عصری نہیں کرسکتا عمران خان اور مودی میں نہ دوستی بنانے کا قرینہ ہے اور نہ ہی انہیں دشمنی کا سلیقہ آتا ہے۔
انڈیا کا تو معلوم نہیں لیکن پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہے جعلی مردم شماری کوایک طرف رکھ دیں تو ملک کی آبادی25کروڑ جبکہ بنگلہ دیش نے اپنی آبادی کو کنٹرول کرکے اسے15کروڑ پر روک رکھا ہے حالانکہ متحدہ پاکستان بھی بنگلہ دیش کی آبادی مغربی پاکستان سے زیادہ تھی آبادی میں اضافہ کی وجہ سے وہ بچے جو اسکول نہیں جارہے یا گیراجوں اورہوٹلوں میں کام کرتے ہیں ان کی تعداد 3کروڑ سے زائد ہے یہ اسٹریٹ چائلڈ ہیں یہی اسٹریٹ چائلڈ طالبان کی نئی صورت ہیں اور وہ ایک دن سارے نظام کو تہہ وبالا کرکے رکھ دیں گے۔


