افغانستان سلطنتوں کا قبرستان یا حملہ آوروں کی آمجگاہ؟

جیئند ساجدی
اکثر مطالعہ پاکستان کے موخروں نے افغانستان کو وہ ملک قرار دیا ہے جسے کسی بیرونی حملہ آور نے کبھی فتح نہیں کیا اور یہ لکھا ہے کہ یہ سلطنتوں کا قبرستان رہا ہے۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اکثر مطالعہ پاکستان کے دانشور شمالی ہندوستان (اتر پردیس،اور بیہار)سے تعلق رکھتے تھے، ہندو اکثریتی علاقوں میں رہنے کی وجہ سے اکثر شمالی ہندوستان کے مسلمان اپنی شناخت محض اپنے مذہب سے کرواتے تھے اور خود کو قوم مسلمان کہتے تھے، دور برطانیہ میں اسلامی ریاستوں میں جو سیاسی تبدیلیاں ہوتی تھیں ہندوستانی مسلمانوں کی توجہ کا مرکز بنتی تھی، پہلی عالمی جنگ کے وقت جب سلطنت عثمانیہ (ترکی)کو شکست ہوئی اور مغربی طاقتوں نے یہ فیصلہ کیا کہ سلطنت عثمانیہ کے غیر ترک علاقوں کو ترکی سے الگ کیا جائے گا اور ترکی میں نظام خلافت کا بھی خاتمہ کیا جائیگا، تو اس وقت دنیا میں صرف ہندوستانی مسلمانوں نے خلافت اور سلطنت عثمانیہ کے حق میں تحریک چلائی تھی اور یہ تحریک اس وقت ختم ہوئی جب بانی ماڈرن ترکی کمال عطا ترک نے خود خلافت کو ترکی میں ختم کیا انہی ہندوستانی دانشوروں نے ہندوستان کو دارالعرب کہہ کر ہندوستانی مسلمانوں کو یہ ہدایت کی تھی کہ وہ دارالسلام یعنی افغانستان ہجرت کر جائیں۔اسے تحریکِ ہجرت کہتے ہیں۔اس کے دوران کافی بڑی تعداد میں ہندوستانی مسلمان اس غلط فہمی میں کہ افغانستان ان کو بحیثیت مسلمان قوم تسلیم کرے گا انہوں نے ہندوستان کا رخ کیا لیکن وہاں پہنچنے سے قبل افغان بادشاہ نے انہیں اپنے ملک میں آنے سے منع کردیا اور ان کو واپس ہندوستان کا رخ کرنا پڑا دوران واپسی بہت سے ہندوستانی مسلمان بھوک اور پیاس کی وجہ سے راستے میں ہی دم توڑ گئے لیکن اس واقع سے بھی ہندوستانی مسلمانوں کو یہ اندازہ نہیں ہوا کہ مسلم نیشنلزم محض ان ہی کا اپنا بنایا گیا مفروضہ ہے دیگر دنیا میں مسلمان اپنی شناخت اپنی لسانی گروہ سے کرواتے ہیں۔
پاکستان کے بننے کے بعد انہی ہندوستانی دانشوروں جنہیں گنگا جمنا والے دانشور بھی کہتے ہیں انہی لکھاریوں نے مطالعہ پاکستان کی کتابیں مسلم نیشنلزم کے جذبے سے سرشار ہو کر لکھی ہیں جن میں انہوں نے مقامی ہیروز کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ہے اور افغانستان کے چند ترک (محمود غزنوی)تاجک،(محمد غوری)افغان (احمد شاہ ابدالی)جیسے بادشاہوں کو ہیروز بنا کر پیش کیا ہے اور انہی کے نام پر ریاست نے اپنے میزائلوں کے نام رکھے ہیں گنگا جمنا کے پروفیسرز نے تاریخ میں یہ بھی من گھڑت مفروضہ یاد کیا ہے جو اکثر مطالعہ پاکستان بچوں کو پڑھایا جاتا ہے کہ افغانستان میں کسی بھی بیرونی حملہ آور کو کامیابی نہیں ملی اور یہ ہمیشہ آزاد رہا ہے لیکن افغانستان حقیقی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو سچائی اس کے بلکل برعکس ہے۔امریکی دانشور تھامس بیل فیلڈ لکھتے ہیں کہ افغانستان حملہ آوروں کا ہائی وے رہا ہے اور یہ سلطنتیں پنپنے کی جگہ رہی ہے مختلف ادوار میں یہ مختلف سلطنتوں کا حصہ رہا ہے۔700 B.C کے وقت یہ اکثر ایرانی بادشاہوں جیسے کہ مید،داریاس اول،سائرس اعظم کے ماتحت رہا ہے۔سائرس کے دور میں یہاں آتش پرستی (زرتش)کا مذہب اپنے عروج پر پہنچا یونانی بادشاہ سکندر اعظم نے بھی افغانستان کو فتح کیا سکندر اعظم کے بعد یہاں ہندوستانی حکمران چندر گپت موریا کی حکومت قائم ہوئی اور چندر گپت کے پوتے اشوکا نے افغانستان میں بد مت مذہب کو فروغ دیا جس کے بعد بد مت افغانستان کا سب سے بڑا مذہب بنا۔گوتم بدھا کے مجسمے طالبان نے بامیان کے علاقے میں 1996ء میں اڑا دیئے تھے یہ وسطی ایشیائی حملہ آورسفید ہنوں کے زیر قبضے بھی رہا جنہوں نے اپنا دارالحکومت بادیان موجودہ قندوز میں بنایا اس کے بعد1219ADمیں یہاں منگولوں نے چنگیز خان کے قیادت میں حملہ کیا اور بہت سے تاریخی شہروں جیسے بلخ،ہرات،بامیان کو مکمل طو رپر تباہ کیا 1383AD میں چنگیز خان کے نسل سے تعلق رکھنے والے امیر تیمور نے اپنی وسطی ایشیائی سلطنت کی زمین میں اضافہ کرنے کے لئے یہاں حملہ کیا اور ان کے بیٹے شاہ رخ نے اپنا دارالحکومت ازبکستان سے تبدیل کر کے ہرات میں بنالیا تھا انہوں نے ہرات شہر کی تعمیرات پر کافی توجہ دی اور اب تک یہ افغانستان کا ثقافتی دارالحکومت مانا جاتا ہے جو اسے ایک حملہ آور نے ورثے میں دیا تھا۔جب عرب حملہ آور افغانستان آئے تو اس کے بعد بد مت مذہب کا اثر افغانوں میں ٹوٹ گیا اور اس کی جگہ اسلام نے لی عربوں کے بعد یہ علاقہ ترک بادشاہ سبکتین کے قبضے میں آیا جو کہ خود عرب خلیفہ کے فوج میں ایک اہم عہدے پر فائز تھا اس دوران شمالی اور وسطی افغانستان ترکوں کے قبضے میں آئے اور جنوبی ہندوستان میں ہندو شاہی نامی سلطنت کی حکومت تھی جس کے حکمران جنجوعہ راجپوت بتائے جاتے ہیں سبکتین کے بیٹے محمود غزنوی نے جیپال جنجوعہ کو شکست دیکر شمالی ہندوستان تک قبضہ کرلیا تھا اس وقت افغانستان کے مقامی آبادی کے پاس دو ہی آپشنز موجود تھے یا تو وہ ترکوں کے رعیایا بنے یا تو جنجوعہ راجپوتوں کے۔سولویں صدی میں افغانستان تین مختلف بیرونی سلطنتوں کا حصہ رہا ہے شمالی افغانستان بخارہ سلطنت کا حصہ تھا مغربی ہندوستان میں شیعہ سفوی خاندان کی حکومت تھی جب کہ وسطی اور جنوبی افغانستان میں سنی مغلوں کی۔سفوی اور مغلوں کی حکومت ایرانی بادشاہ نادر شاہ نے 1738ءAD میں ختم کی 1747ء میں احمد شاہ ابدالی جو ماضی میں نادر شاہ کی فوج کا حصہ تھے ان کی وفات کے بعد وہ پہلے مقامی بادشاہ بنے جنہوں نے افغانستان میں اپنی حکومت قائم کی ان کی سلطنت کو درانی سلطنت بھی کہتے تھے لیکن یہ60سال بعد ہی کمزور ہوگئی تھی اور ایک اور مقامی قبیلے بارکزئی نے بغاوت کر کے درانی سلطنت کا خاتمہ کردیا تھا بارکزئی دور حکومت میں افغانستان کے جنوبی علاقوں پر سکھوں نے اپنا قبضہ کرلیا تھا اور 1879ء میں دوسری انگلو افغان جنگ کے نتیجے میں افغانستان برطانوی راج کا حصہ بنا اور اسے باجگزار ریاست کا درجہ دیا جبکہ اس کے کچھ حصوں کو مکمل طور پر برطانوی ہندوستان کا حصہ بنادیا گیا 1919میں افغانستان نے پھر سے اپنی آزادی حاصل کی لیکن یہ پوری طرح آزاد نہیں تھا اس میں سویت یونین کا کافی اثرورسوخ تھا 1979ء میں یہاں خانہ جنگی ہوئی تو سویت یونین نے خانہ جنگی پر قابو پانے کے لئے باقاعدہ اپنی فوج بجھوائی اور باغی گروپ کی کمک امریکہ مغرب پاکستان سعودی عرب کررہا تھا 1989ء کے بعد جب سویت یونین کی فورسز کا انخلاء ہوا تو افغانستان پھر سے خانہ جنگی کا شکار ہوا اور 1996ء میں پاکستان کی مبینہ مدد سے طالبانوں نے افغانستان پر قبضہ کرلیا تھا لیکن وادی پنجشیر ان کے قبضے میں نہیں آیا تھا اس وقت افغانستان ایک طرح سے پاکستان کا باجگزار ریاست بن چکا تھا 2001 میں جب امریکہ اور نیٹو کے سپاہی افغانستان گئے تو طالبان ایک ہی مہینے میں شکست خوردہ ہوگئے تھے اس کے بعد افغانستان مکمل طور پر امریکہ کا باجگزار ریاست بن چکا تھا حتیٰ کہ افغان فوج اور سرکاری ملازموں کو تنخواہ بھی امریکہ دیا کرتا تھا اور امریکی فوج کے انخلاء کے بعد طالبان نے محض سولہ دنوں میں علاقائی طاقتوں کی مدد سے افغانستان پر پھر سے قبضہ کرلیا ہے اس کی حیثیت اب بھی ایک باجگزار ریاست جیسی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ جب تک طالبان کی حکومت رہے گی افغانستان پاکستان ودیگر بین الاقوامی ریاستوں کے زیر اثر رہے گااور کی آزادی نام نہاد ہوگی۔البتہ یہ معلوم نہیں کہ طالبان کی حکومت کب تک قائم رہے گی۔وادی پنجشیر جو ہمیشہ سے مزاحمت کی علامت رہا ہے وہاں تاجکوں کے سربراہ احمد مسعود کا اور امر اللہ صالح کی قیادت میں جنگ جاری ہے۔کثیر القومی ریاست ہونے کی وجہ سے اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ طالبان کا دور پرامن رہے گا اور ان کی حکومت دیر تک قائم رہے گی۔افغانستان میں لگ بھگ تیس زبانیں بولی جاتی ہے اور چودہ قوموں کو افغانستان تسلیم کرچکا ہے علاقہ پرستی اور لسانی تعصب سے افغانستان نا کبھی اپنی جان چھڑا پایا ہے نہ کبھی چھڑا پائے گا اور عین ممکن ہے یہ ایک اور خانہ جنگی میں چلا جائے اور بین الاقوامی طاقتیں اپنے قومی مفاد کی جنگ افغانستان میں لڑیں اور اس خانہ جنگی کے بعد بھی افغانستان مکمل طور پر آزاد نہیں ہوگا اور بین الاقوامی طاقتوں کے زیر اثر رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں