گوادر میں احتجاج بی آر آئی اور سی پیک سے متعلق نہیں پانی اور بجلی کی قلت کیخلاف تھا،سینیٹر کہدہ بابر
گوادر:سینیٹر کہدہ بابر نے کہا ہے کہ گوادر میں ہونے والا احتجاج بی آر آئی اور سی پیک سے متعلق نہیں تھا، احتجاج پانی اور بجلی کی قلت سے متعلق تھا،مظاہرین کو بی آر آئی اور سی پیک مخالف احتجاج کے طور پر جوڑنا غلط اور بد نیتی پر مبنی ہے، مغربی میڈیا اکثر گوادر میں پیش رفت اور چینی اور پاکستانی عوام کے درمیان دوستی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتا ہے، وفاقی حکومت اور بلوچستان حکومت نے گوادر میں پانی اور بجلی کے مسائل کے حل کے لیے تین منصوبے مرتب کیے ہیں، جن میں 300 میگاواٹ کے کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ کی تکمیل، گوادر کو نیشنل گرڈسے جوڑنا شامل ہے اور ایران سے بجلی کی ترسیل کے ذریعے فوری ریلیف فراہم کرنا شامل ہے۔ گوادر پرو کے مطابق گارڈین کی ایک مسخ شدہ رپورٹ جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ گوادر میں احتجاج چین کے بیلٹ اینڈ روڈ اینیشیٹوکے خلاف تھا اس پر سینیٹر کہدہ بابر نے واضح کیا کہ احتجاج کا بی آر آئی اور سی پیک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مسئلہ مقامی نوعیت کا تھا جو پانی اور بجلی کی قلت سے متعلق تھا۔ اس لیے ان مظاہرین کو بی آر آئی اور سی پیک مخالف احتجاج کے طور پر جوڑنا غلط اور بد نیتی پر مبنی ہے۔ پانی اور بجلی کی کمی طویل عرصے سے گوادر کے لوگوں کا ایک تاریخی مسئلہ رہا ہے۔ بابر نے زور دیا کہ مقامی انتظامیہ اور حکومت بلوچستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مطلوبہ خدمات فراہم کرے۔ اس حوالے سے حکومت گوادر تک بجلی کی ترسیل کے حوالے سے ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے جو کہ اگلے 2 سے 4 ماہ میں مکمل ہو جائے گا تاکہ رہائشیوں کو قلیل مدتی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ گوادر پرو کی رپورٹ کے مطابق 300 میگاواٹ کے کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ پر بھی کام تیزی سے جاری ہے اور اکتوبر 2023 تک فعال ہو جائے گا۔ بابر نے مزید کہا کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اور حکومت نے اپنے لوگوں کو احتجاج اور اپنے مطالبات کے اظہار کا حق استعمال کرنے کی اجازت دی ہے، حکومت کی جانب سے یقین دہانی کے بعد لوگوں نے احتجاج ختم کر دیا ہے۔ جہاں تک گارڈین کے الزامات ہیں کہ سی پیک کے تحت گوادر میں کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ گوادر پرو کے مطابق بابر نے نشاندہی کی کہ سی پیک کے افتتاح کے بعد سے مختلف طریقوں سے منافع آیا ہے۔ سی پیک سے پہلے ہمارے پاس تقریبا 18 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ تھی۔ اب پاکستان میں لوڈ شیڈنگ گرمیوں کے مہینوں میں بھی نہیں ہوتی۔ پاور پلانٹس کی صورت میں روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ کافی بجلی کی دستیابی کی وجہ سے صنعت کاری شروع ہوئی ہے۔ یہ سب سی پیک کی وجہ سے ابھرا اور مستقبل میں بڑھتے رہیں گے۔ سینیٹر نے کہا اس سے قبل گوادر ماہی گیروں کا ایک چھوٹا شہر تھا۔ سی پیک کے ساتھ مثبت تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ 2013 میں گوادر پورٹ فرسودہ سہولیات کے ساتھ ویرانی کے دہانے پر تھا جس کی وجہ سے ساحلی بندرگاہ پر کاروبار کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ جب سے چائنا اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی (COPHC) نے بندرگاہ سنبھالی ہے، بنیادی ڈھانچے کا کام تین 20 ہزار ٹن کثیر مقاصد برتھ اور 140000 مربع میٹر کے سٹوریج یارڈ کے ساتھ مکمل ہو چکا ہے۔ 14 جنوری 2020 کو گوادر پورٹ نے دبئی کے جبل علی پورٹ سے افغانستان آنے والے پہلے جہاز کا خیرمقدم کیا۔ یہ افغانستان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت تجارتی سرگرمیوں کے لیے گوادر پورٹ کا آپریشنل استعمال ہوا۔اس کے بعد سے بندرگاہ ایک درجن جہازوں کے ساتھ مصروف ہے جو یوریا کھاد کے تھیلے، اور دیگر سامان دبئی، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک سے ٹرانزٹ ٹریڈ کے زریعے افغانستان لے جا رہے ہیں۔ سینیٹر نے عالمی برادری کو وہاں کاروبار کرنے کا موقع ملے گا۔ یہ سب سی پیک کی وجہ سے ممکن ہوگا۔ مقامی اور غیر ملکی دونوں ان سہولیات سے فائدہ اٹھائیں گے۔ سی پیک پر مسلسل زبانی حملوں کے علاوہ ”چینی ٹرالرز” ایک اور بناوٹی کہانی ہے جسے مغربی میڈیا اکثر گوادر میں پیش رفت اور چینی اور پاکستانی عوام کے درمیان دوستی کو سبوتاژ کرنے کے لیے بیان کرتا ہے،اس الزام میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ بابر نے کہا بحر ہند کے مون سون کی وجہ سے ہنگامی پناہ کیلئے بین الاقوامی پانیوں والے چینی بحری جہاز گوادر لنگر میں آئے اور ہم ہنگامی صورت حال میں جہازوں کی مدد کرنے کے پابند ہیں۔ ٹرالروں کا معائنہ کرنے کے بعد محکمہ فشریز کے حکام اور مقامی ماہی گیروں نے تصدیق کی کہ جو مچھلیاں پکڑی گئی ہیں وہ بین الاقوامی پانیوں میں پائی جاتی ہیں، بدقسمتی سے اس مسئلے پر سیاست کی گئی۔


