کابل ایئر پورٹ خود کش دھماکہ
گزشتہ سے پیوستہ روز کابل ایئر پورٹ کے مشرقی گیٹ کے قریب ایک خودکش بمبار نے خود کواڑا دیا جس سے۔۔افراد ہلاک اور۔۔ زخمی ہوگئے۔ہلاک ہونے والوں میں۔۔ امریکی بھی شامل ہیں۔ دھماکے ایئر پورٹ کے اس علاقے میں ہوئے جہاں امریکہ کا کنٹرول ہے۔پینٹاگون نے تصدیق کردی۔امریکی جو بائیڈن کو خفیہ اداروں نے ایک روز قبل ہی باخبر کر دیاتھا کہ داعش خراسان کی جانب سے حملے کا خطرہ ہے۔دھماکوں کی اطلاع ملتے ہی امریکی صدر نے اپنی مصروفیات منسوخ کردیں جن میں اسرائیلی وزیر اعظم سے ملاقات بھی شامل تھی۔ دھماکوں کے بعد توقع ہے کہ غیر ملکیوں کے انخلاء کی رفتار تیز ہو جائے گی، پاکستا ن سے بھی اس ضمن میں مدد مانگی گئی ہے۔اسلام آباد میں تمام ہوٹل خالی کرالئے گئے ہیں تاکہ غیر ملکیوں ٹھہرایا جا سکے۔21دن کا ٹرانزٹ ویزہ جاری کیا جائے گا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان میں مشکلات کاسامنا کر رہے ہیں، جان خطرے میں ہے۔امریکی مقتدرہ کے لئے لمحہئ فکریہ ہے کہ 1975کے بعدایک بار پھر وہ ان ہی حالات کا شکار ہے، وہی مسئلہ درپیش ہے کہ اپنے فوجیوں اور ان کے مقامی معاونین کو بحفاظت کیسے نکالا جائے؟پاکستان سے کل تک ڈو مور کا تقاضہ کرتاتھا، آج اپنے فوجیوں کی جان بچانے کے لئے مدد کی درخواست کررہا ہے۔ ماضی میں کام لینے کے لئے مالی امداد روک لیتا تھا اب آئی ایم ایف کے ذریعے 2ارب77کروڑ ڈالر جیسی خطیر رقم غیر مشروط طور پر دے رہاہے، جیسے چاہوخرچ کرو، جب چاہو واپس لوٹاؤ! مجبوری بری شے ہے،جان بچانا پہلی ترجیح ہو تو سب کچھ کرنا پڑتا ہے!ہونا تو یہ چاہیے کہ امریکی مقتدرہ اپنی حکمت عملی کا باریک بینی سے جائزہ لے اور دیکھے کہ ایسی کون سی مرکزی اور بنیادی خامی ہے جو بار بار شرمناک انجام تک لے جاتی ہے۔ویت نام والا منظر دنیا بار بار دیکھتی ہے۔امریکی صدر کو اپنی قوم سے خطاب کے دوران کہنا پڑتا ہے:”حالیہ شکست ویت نام والی شکست سے مختلف ہے، افغانستان میں ہمیں اپنا سفارتی عملہ ہیلی کاپٹرز کے ذریعے چھتوں سے ایئر پورٹ نہیں لے جانا پڑا، یہ کام بائی روڈ کیا گیا ہے“۔جب تک بنیادی نقص دور نہیں کیا جاتا ایسے مناظر سے جان نہیں چھوٹے گی۔غیر جانب دارانہ اور حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو ایک ہی سچائی سامنے آتی ہے:
”دنیا کو اسلحے کے زور پر محکوم نہیں بنایا جا سکتا“۔
آج ہرقسم کا اسلحہ،کم و بیش امریکی معیار اور سہولتوں کے ساتھ اورامریکہ سے بہت سستا دنیا کے مختلف ملک تیار اور فروخت کر رہے ہیں۔یہ تبدیلی نظر انداز نہ کی جائے،اس کے اثرات دور رس، ہمہ جہتی اور ہمہ گیر ہیں۔ٹیکنالوجی کسی ملک کی جاگیر نہیں کہ کوئی دوسراوہاں داخل نہیں ہو سکتا۔شمالی کوریا جیسا چھوٹا سا ملک جب چاہتا ہے بین البراعظمی میزائل کا تجربہ کر کے پیغام دے رہا ہے کہ چاہیں تودنیا کے کسی بھی حصے میں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔صدرڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے مرد آہن کم جونگ اُن سے بالمشافہ ملاقات کرکے ان کی ذہانت کی تعریف کر چکے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھاکہ امریکہ خلیجی ریاستوں کو تباہ نہ کیا جاتا، ایران سے عراق کے ذریعے8سال تک جنگ نہ کی جاتی۔افغانستان پر حملہ وقت نے ثابت کیاغلط تھا۔دوسرے ملکوں میں اپنی پٹھو حکومتیں قائم کرنے کا خبط امریکہ کولے ڈوبا ہے۔اس کی حکمت عملی میں پائی جانے والی یہی بنیادی خامی ہے، جب تک اسے ترک نہیں کرے گا،رسوائی اس کا مقدر رہے گی۔امریکی حکمران دیکھ لیں کہ وہ افغانستان جیسے پسماندہ ملک کو نیٹو اتحادیوں کی طاقت کے ساتھ اپنا محکوم بنانے میں ناکام رہے ہیں،وہ ہر جگہ ناکام رہیں گے۔ اگر کوئی دوسرا ملک اسی حکمت عملی پر چلے گا اس کا انجام بھی مختلف نہیں ہوگا۔یہ پالیسی ندامت اور ذلت کے سوا کچھ نہیں دے سکتی، جو اپنائے گا،رسوا ہوگا۔ کابل پر داعش خراسان کے خودکش حملے کے بعدامریکہ اور اس کے اتحادی شدید خوف کا شکار ہیں۔ترکی نے بھی، افغانستان سے بہترتعلقات ہونے کے باوجوداپنے شہری نکالنا شروع کر دیئے ہیں۔ کابل ایئر پورٹ پر جو کچھ ہواتسلیم کریں کہ ماضی کی غلط پالیسی کا منطقی انجام تھا۔قاتلوں کا تعاقب کیا جائے، ان سے اپنے فوجیوں کے قتل کا بدلہ لیاجائے۔ لیکن ایک لمحے کے لئے ٹھنڈے دل سے سوچا جائے؛ کیا یہ وہی نعرہ نہیں جو القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے حوالے سے20سال پہلے لگایا گیا تھا؟ یہ نعرہ دنیا کو پیغام دے گا کہ امریکہ نے 20برسوں میں کچھ نہیں سیکھا۔اسے اب بھی کسی اسامہ بن لادن کے تعاقب میں جنگ کرنے کا عارضہ لاحق ہے۔اگر یہ اطلاعات درست ہیں کہ امریکی صدر جوبائیڈن کو خفیہ ایجنسیوں نے ایک روز پہلے اس حملے کی اطلاع دے دی تھی تو امریکہ نے حفاظت کے لئے کوئی اقدام کیوں نہیں کیا؟یہ وقت کھوکھلے نعرے لگانے کا نہیں، دنیا میں امن قائم کرنے کی سنجیدہ حکمت عملی وضع کرنے اور اقوام متحدہ کو اپنے منشور پر عمل کرنے کاقابل بنانے کی دعوت دے رہا ہے۔پہلاکام افغانستان سے اپنے فوجی اور شہری نکالیں، اس کے بعداپنے عوام کو سمجھائیں کہ دنیا کوتبدیل نہیں کر سکتے،مان لیں کہ ساری دنیا کو محکوم بنانے کا خواب کبھی شرمندہئ تعبیر نہیں ہوگا۔ ویت نام سے کابل تک ایک ہی نتیجہ برآمد ہونے سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔


