حکومتی نمائندوں کا شہداء کے ورثاء سے مذاکرات نہ کرنا بے حسی کو ظاہر کرتا ہے،ملک سکندر ایڈوکیٹ
کوئٹہ: جمعیت علماء اسلام کے صوبائی نائب امیر رکن قومی اسمبلی مولوی کمال الدین اور بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ زیارت کے عوام اور لیویز شہداء کے لواحقین نے جو چار نکاتی مطالبات پیش کئے ہیں جمعیت علماء اسلام ان کی حمایت میں شانہ بشانہ کھڑی ہے،وفاقی اور صوبائی حکومتیں صوبے میں امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہیں، کسی بھی حکومتی نمائندے کا شہداء کے ورثاء سے با مقصد مذاکرات نہ کرنا حکومتی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے،زیارت واقعہ پر آل پاریٹرز اجلاس بلائیں گے اور پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے بھی معاملے کو اٹھائیں گے۔ یہ بات جمعیت علماء اسلام کے صوبائی نائب امیررکن قومی اسمبلی مولوی کمال الدین، بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈوکیٹ نے ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی اس موقع پر ارکان صوبائی اسمبلی عبدالواحد صدیقی، سید عزیز اللہ آغا، جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر عبدالرحمن رفیق سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ رکن قومی اسمبلی مولوی کمال الدین نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام زیارت میں دہشتگردی کے واقعہ میں تین لیویز اہلکاروں کی شہادت کی مذمت کرتی ہے یہ زیارت میں دہشتگردی کا پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے قبل میں زیارت میں دہشتگردی کے واقعات ہوئے ہیں اور دو اقوام کو آپس میں بھی لڑوایا گیا انہوں نے کہا کہ زیارت کے عوام اس تشویش میں ہیں کہ انتظامیہ اور فورسز امن کے لئے ہیں یا بد امنی پھیلانے کے لئے جس مقام پر دھماکہ ہوا وہاں پر فورسز کی چوکی موجود ہے ریمورٹ کنٹرول بم سے دھماکے کے بعد دہشتگرد وہاں سے کس طرح فرار ہوئے عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ انتظامیہ اور فورسز زیارت کو امن نہیں دے سکتیں تو وہ صوبے میں امن کیسے قائم کریں گی انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں صوبے میں امن قائم کرنے میں یکسر ناکام ہیں افغانستان کی صورتحال خطے کے لئے چیلنج ہے اگر ادارے امن قائم رکھنے میں ناکام رہے تو وہ قوتیں جو امن نہیں چاہتیں عوام کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کریں گی ہم چاہتے ہیں کہ صوبے کے عوام کو امن دیا جائے دہشتگردی کرنے والے عناصر کے خلاف کاروائی کی جائے اور عوام کو بتایا جائے کہ وہ کونسے اندرونی یا بیرونی قوتیں جو بد امنی پھیلا رہی ہیں مولوی کمال الدین نے کہا کہ زیارت کے عوام اور شہداء کے ورثاء نے زیارت اور ہرنائی سے ایف سی کو نکالنے پولیس اور لیویز کو سہولیات،وسائل اسلحہ فراہم کرنے، ڈپٹی کمشنر سمیت انتظامیہ کو معطل کرنے،زیارت دھماکے کی جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات کرنے، شہداء کے لواحقین کی مالی معاونت کرنے کے مطالبات رکھے ہیں جنکی جمعیت علماء اسلام مکمل حمایت اور یہ یقین دلاتی ہے کہ ہم شہداء کے ورثاء کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈوکیٹ نے کہا کہ زیارت روز اول سے جمعیت علماء کا گڑھ رہا ہے مگر گزشتہ انتخابات میں ملک بھر کی طرح یہاں بھی سلیکشن ہوئی جس کے بعد حالت سب کے سامنے ہے انہوں نے کہا کہ نہ یہ سیاسی مسئلہ او ر نہ ہم اسے سیاست کی بھینٹ چڑھنے دیں گے ہم زیارت کے لوگوں اور شہداء کے لواحقین کے مطالبات کی منظور اور تحفظات دور کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو آل پارٹیز اجلاس اور پی ڈی ایم کے فورم پر بھی اٹھایا جائیگا جس کے بعد آئندہ کے لئے باضابطہ اور اصولی فیصلہ کریں گے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو اس مسئلے پر خود زیارت جانا چاہیے تھا لیکن کوئی بھی حکومتی نمائندہ نہیں گیا نور محمد دمڑ اس علاقے کے رکن اسمبلی کی حیثیت میں گئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک عبیداللہ کاسی کی ویڈیو کے معاملے کی تحقیقات اور اصل صورتحال سامنے لائی جائے


