جوڈیشل مجسٹریٹ کوئٹہ نے جائلڈ پورنوگرافی کیس میں دو ملزمان کو تین سال قید کی سزا سنا دی
کوئٹہ :جوڈیشل مجسٹریٹ کوئٹہ نے چائلڈ پورنوگرافی کیس میں 2ملزمان کو تین سال قید کی سزا سنادی۔گزشتہ روز جوڈیشل مجسٹریٹ کوئٹہ نے چائلڈ پورنوگرافی سے متعلق کیس میں محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نامزد ملزمان لیویز اہلکار نظام اور حیات اللہ کو تین تین سال قید اور45،پینتالیس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنادی۔واضح رہے کہ متاثرہ بچے کے چچا خبیر خان نے ایف آئی اے سائبر ونگ میں درخواست دائر کی تھی جس پر ایف آئی نے 24جون 2020 کو ایف آئی آر درج کرکے کارروائی شروع کردی،ایف آئی کے مطابق کارروائی کے دوران اس وقت کے ڈپٹی کمشنر منیراحمدکاکڑ کے تعاون سے ملزم نظام جو لیویز کانسٹیبل ہے کو گرفتارکرلیاتھا ملزم نے بچے کو جنسی زیادتی کانشانہ بنایاتھا جبکہ شریک ملزم حیات اللہ نے ویڈیو رشتہ داروں کے ساتھ شیئر کی تھی۔گزشتہ روز عدالت نے ملزمان پر جرم ثابت ہونے پر سزائیں سنائی۔سینئرقانون دان محمداسحاق ناصر ایڈووکیٹ نے کہا کہ بچوں سے جنسی زیادتی جیسے جرائم میں سخت سزا ہونی چاہیے۔کرمنل پروسیجر کوڈ کے سیکشن 30 پر نظر ثانی کی ضرورت ہے اور اس میں ترمیم کی جائے تاکہ چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث ملزمان کو سخت سزا دی جا سکے۔


