پنجگور، آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی و مظاہرہ

پنجگور(انتخاب نیوز)آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی اور ٹریڈ یونینز کے زیر اہتمام پنجگور کے امن وامان کی بگھڑتی ہوئی صورتحال قتل چوری ڈاکہ زنی کے خلاف اور گزشتہ رات باپ بیٹوں سمیت تین افراد کے بہمانہ قتل کے خلاف احتجای مظاہرہ و ریلی احتجاجی ریلی کی قیادت ال پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کے چیئرمین میر نزیراحمد بلوچ حافظ محمد اعظم بلوچ حاجی صالح محمد بلوچ اشرف ساگر اغاشاہ حسین پھلین بلوچ کفایت اللہ بلوچ مولانا نور محمد سیف اللہ سیفی حنیف شمبیزئی حاجی خلیل انیس حاجی افتخار اور دگیر رہنماوں نے کی احتجای مظاہرین نے پنجگور کی امن بحال کرو پنجگور میں معصوم لوگوں کی قتل عام بند کرو شہدائے پنجگور اور شہدائے وشبود کے قاتلوں کے گرفتار کرو اور پنجگور بارڈر پر سختی نا منظور کے نعرہ لگایا اور مختلف پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے ریلی بازار کے مختلف گلیوں میں گشت کرتے ہوئے بسم اللہ چوک پر جلسے کی شکل اختیار کر گئی جلسے کی نظامت کے فرائض انیس احمد بلوچ محمد ولی ساسولی اور حنیف شمبیزئی نے انجام دیئےجلسے سے ال پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کے چیئرمین اور بی این پی کے مرکزی جوائنٹ سکیرٹری میر نزیراحمد بلوچ جے یو ائی کے ضلعی امیر حافظ محمد اعظم بلوچ نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر اور بزرگ رہنماء حاجی صالح محمد بلوچ مسلم لیگ ن کے ڈویژنل صدر اور ال پارٹیز کے وائس چیئرمین اشرف ساگر بی این پی کے ضلعی صدر کفایت اللہ بلوچ نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء پھلین بلوچ پیپلز پارٹی کے رہنماء اغا شاہ حسین بلوچ جماعت اسلامی کے رہنماء مولانا نور محمد مدنی انجمن تاجران کمیٹی کے صدر حاجی خلیل احمد دھانی انسداد منشیات کمیٹی کے صدر افتخار بلوچ زمیاد یونین کے جنرل سکیرٹری سیف اللہ سیفی اور دیگر مقررین نے کہا کہ پنجگور کی امن وامان کی صورتحال انتہائی مخدوش عوام قاتل چور ڈاکوؤں ریزنوں اور مسلح جہتوں کے رحم وکرم پر ہے پنجگور میں مکمل لاقانونیت اور کوئی شریف شہری محفوظ نہیں ہے روزانہ معصوم لوگوں کی قتل اغواء نے پنجگور میں خوف کی فضاء قائم کردی ہے امن وامان کی بگھڑتی ہوئی صورتحال سے پنجگور انتظامیہ اور پولیس کیلئے سوالیہ نشان پیدا کردیا ہے امن وامان کی وجہ سے والدین نے اپنے بچوں کو گھروں سے باہر نکالنا بند کردیا لیکن افسوس اب لوگ اپنے گھروں میں غیر محفوظ بن گئے ہیں گزشتہ شپ قاتلوں نے گھر میں گھس کر ماں بہنوں بچوں کے سامنے باپ اور اسکے دو معصوم بیٹوں کو شہید کردیا گیا اور گزشتہ دو مہینے میں ممتاز عالم دین مولانا عبدالحئی معصوم 4 سالہ بچے قدیر خلیل جعفر سلیم صغیر احمد پولیس اہلکار افتاب مجید نصیر احمد اور دو بزرگ سمیت درجنوں افراد قتل ہوچکے ہیں لیکن اب تک ایک بھی قاتل گرفتار نہیں ہوئے ہیں پنجگور کے عوام نے کاروبار روزگار اور نوکری چھوڑ کر روزانہ لاش اٹھاکر جنازے پڑھانے پر مجبور ہوچکے ہیں لیکن کسی کی کانوں میں جوں تک نہیں ریگتی ہے ایسا محسوس ہوتا ہے پنجگور کے عوام انسان نہیں بلکہ جانور سے بدتر ہیں جہاں شکاری روزانہ پنجگور کے عام لوگوں کو شکار کرکے چلے جاتے ہیں لیکن کسی کو کوئی پراہ نہیں ہے پورا پنجگور مقتل گاہ میں تبدیل ہوچکا ہے قتل چوری ڈاکہ زنی اور اغواء روز کا معمول بن گیا ہے مگر زمہ داران کو عوام سے کوئی سروکار نہیں ہے گزشتہ شب ہم تین لاشوں کے ساتھ تین گھنٹے تک ہسپتال میں انتظار کرتے رہے نہ ڈی سی اور نہ ہی ڈی پی او کسی کی حال پرسی اور نہ واقعہ کی کی معلومات کیلئے ہسپتال پھنچے جو افسوسناک عمل ہے پنجگور میں کسی کی جانو مال غیرت اور عزت محفوظ نہیں ہے امن وامان قتل غارتگری کے بارے میں بات کی جائے تو سوشل میڈیا میں طوفان بدتمیزی کھڑا کیا جاتا ہے پنجگور کے عوامی نمائندے اب پریس کانفرس میں محدود ہوکر 21 ہزار ووٹ کی نمائندگی کا دعوی کررہا ہے باقی 5 لاکھ ابادی پر مشتمل پنجگور کے عوام سے انھیں کوئی سروکار نہیں ہے پنجگور خون میں لت پت روز جنازے اٹھا رہے ہیں لیکن صوبائی حکومت اور انکے ذمہ داران کرپشن اور کمیشن خوری کی چکر میں ہیں پولیس لیویز اور ایف سی عوام کے محافظ ہیں جو عوام کی ٹیکسوں سے سرکار سے تنخواہ اور مراعات حاصل کررہے ہیں لیکن وہ عوام کو تحفظ دینے میں مکمل ناکام ہوچکے ہیں کسی نوجوان کو لاپتہ کرنے میں قانون نافذ کرنے والوں کے پاس وسائل موجود ہوتا جو کسی کی بیٹے کو انکی ماں کی بغل سے اٹھا لیا جاسکتا ہے لیکن معصوم لوگوں کے قاتل ہمیشہ نامعلوم ہوکر ازاد ہوتے ہیں بدقسمتی سے بلوچ قوم کو انکی سرزمین وسائل سے دور رکھنے کیلئے بلوچستان کو مقتل گاہ میں تبدیل کر الھجا دیا گیا ہے مقررین نے کہا کہ موجودہ فرسودہ سرمایہ درانہ اور جاگیردارانہ نظام میں انصاف مانگنا گناہ کیبرہ میں تبدیل ہوچا ہے قانون اور ائین کی بالادستی کی بات غداری تصور ہوتا ہے اگر قاتل چور رہزن گرفتار ہوتے تو اج پنجگور میں یہ نوبت نہیں اتی ریاست کی زمہ داری کہ وہ عوام کو تحفظ فراہم کریں لیکن پنجگور میں ریاست عوام کو تحفظ دینے میں ناکام ہوچکی ہے انہوں نے کہا کہ پنجگور کا ہر گھر گلی کوچہ اور شہر ماتم میں تبدیل ہوگیا ہے کوئی گھر ماتم سے خالی نہیں ہے پنجگور کے عوام سراپا احتجاج ہے لیکن پنجگور انتظامیہ اور پولیس خوب خرگوش میں سو رہا ہے پنجگور کو ہر طرف سے ازیت سے دوچار کردیا ہے شہدائے پنجگور کی خون کو رائیگان نہیں جانے دینگے قاتلوں مسلح جہتوں کی خاتمہ تک سیاسی جنگ جاری رہے گی انہوں نے الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ اگر مولانا عبدالحئی قدیر خلیل جعفر سلیم صغیر بلوچ افتتاب مجید اور شہدائے وشبود کے قاتلوں کو گرفتا نہ کیا گیا ا اور امن کو بحال نہیں کیا تو سول نافرمانی کا اغاز کیا جائے گا جسکی تمام تر زمہ داری پنجگور انتظامیہ اور پولیس ہوگی انہوں نے کہا کہ پنجگور بارڈر کی بندش اور پابندی پنجگور کے چھ لاکھ ابادی کو ہر گز قبول نہیں ہے ٹوکن اور اسٹیکر نظام سے پنجگور کے عام غریب عوام کا روزگار مکمل بند ہوچکا ہے ٹوکن اور اسٹیکر سے بااثر لوگ مستفید ہورہے ہیں یا بارڈر کو پہلے کی طرح چھوڈ دیا جائے یا عام غریب عوام کو بھی ٹوکن اور اسٹیکر دیا جائے وگرنہ پنجگور کے عوام بارڈر پر مختلف پابندی کو برداشت نہیں کریں گی اور کل 3 ستمبر کو شٹر ڈوان ہڑتال کا اعلان کردیا

اپنا تبصرہ بھیجیں