ٹی ٹی پی کاطالبان کو چیلنج

تحریر: انورساجدی
ایک طرف پاکستان افغانستان کی حکومت سازی میں مدد فراہم کررہا ہے دوسری جانب ٹی ٹی پی نے مستونگ روڈ میں ایک جان لیوا حملہ کیا اگرواقعی یہ حملہ ٹی ٹی پی نے کیا ہے تو یہ پاکستان سے زیادہ افغان طالبان کوکھلم کھلا چیلنج دینے کے مترادف ہے کیونکہ طالبان نے چند روز قبل واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی ملک کیخلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ٹی ٹی پی پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہے کچھ عرصہ بعد جب طالبان امیر المومنین کا حلف اٹھائیں گے تو سب سامنے آجائیگا اگر ٹی ٹی پی نے ان کی بیعت کی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ اپنے ہر عمل میں ان کے تابع ہونگے اگر انہوں نے بیعت نہیں کی تو اس کا مطلب ہوگا کہ ٹی ٹی پی افغانستان سے الگ ہوچکی ہے اور اس نے اپنے رشتے ناطے کہیں اور استوار کرلئے ہیں پاکستانی حکام کیلئے یقینا یہ ایک تشویشناک بات ہوگی کیونکہ ٹی ٹی پی ایک تربیت یافتہ مسلح تنظیم ہے اس کے اراکین کی تعدادہزاروں میں ہے ماضی میں یہ تنظیم ایک طویل جنگ لڑچکی ہے فاٹا کے ہر ضلع میں اس نے کارروائیاں کیں حتیٰ کہ سوات جیسے علاقہ پرقبضہ کرکے اپنی ریاست قائم کرلی یہ تو معلوم نہیں کہ ٹی ٹی پی کاہیڈ کوارٹر کہاں ہے لیکن طالبان کے افغانستان میں قبضہ کے بعد طالبان شوریٰ کا ہیڈکوارٹرقندھار شفٹ ہوچکا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئٹہ شوریٰ نئے حالات میں ٹی ٹی پی کا ہیڈکوارٹربن چکا ہو اور اس نے اپنی پہلی کارروائی بلوچستان میں شو کی ہے کیا بعید کہ داعش اور ٹی ٹی پی نے کوئی اتحاد کیا ہو کیونکہ داعش کافی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرچکی ہے دونوں تنظیموں کے پاس خود کش حملہ آوروں کے جھتے موجود ہیں اگرچہ یہ کسی علاقے پرقبضہ کرکے اسے الگ کرنے کی پوزیشن میں نہیں لیکن وہ کافی حد تک افراتفری اورخونریزی پیدا کرکے ریاست کوبدنام کرسکتے ہیں یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ٹی ٹی پی نے اپنی کارروائیوں کیلئے بلوچستان کو کیوں چنا ہے جو پہلے سے ایک شورش زدہ علاقہ ہے جبکہ ٹی ٹی پی کے ایسے مقاصد بھی نظر نہیں آتے جو بلوچستان سے وابستہ ہوں ماضی قریب میں کئی انتہا پسند تنظیموں نے مل کر فرقہ وارانہ حملے کئے تھے اور سینکڑوں لوگوں کی جانیں لی تھیں حالانکہ بظاہر ان کی پارروائیوں کاکوئی مقصد نہیں تھا اگر ٹی ٹی پی لشکر جھنگوی اور داعش ان حملوں میں ملوث تھے تو ان کا کوئی مقصد حل نہیں ہوا کوئٹہ کے قہر آلود حالات کے باوجود افغانستان سے ہزارہ برادری کی آمد جاری ہے سوشل میڈیا دکھا رہا ہے کہ کس طرح لوگ شمالی افغانستان اور کابل سے کوئٹہ پہنچ رہے ہیں ان پناہ گزینوں کی تعداد میں روز اضافہ ہورہاہے لیکن یہ لوگ کیمپوں میں بھی نہیں جاتے کیونکہ یہ بلوچستان کے پیدائشی لوکل ہیں اسی طرح انتہا پسندتنظیموں کی وجہ سے ایران نے تذدیراتی اور سیاسی پلان بنایا تھا اس پر کامیابی کے ساتھ عمل درآمد ہورہا ہے جس کے تحت ایک مسلک کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اگرچہ بلوچستان پہلے ایک روشن خیال اور کشادہ دل علاقہ تھا جہاں کوئی مذہبی تفریق نہیں تھی اور نہ ہی یہاں پر فرقہ وارانہ فسادات یا تناؤ کی روایات تھیں لیکن جنرل ضیاؤ الحق کے غیر سیاسی اورانتہا پسند تنظیموں کوسپورٹ کرنے کے واقعات سے بلوچستان میں بھی عدم برداشت فرقہ وارانہ کشیدگی حتیٰ کہ خونریزی کی بنیاد پڑی افغان پناہ گزینوں کی وجہ سے جہاں ایک طرف آبادی کا توازن بگڑا تو دوسری جانب دہشت گردی کی جڑیں بھی مضبوط ہوگئیں یہاں تک کہاجانے لگا کہ سعودی عرب اورایران اپنی جنگ بلوچستان میں لڑرہے ہیں اب جبکہ سعودی عرب اپنی پالیسی تبدیل کرچکا اس نے نیا نصاب بھی ترتیب دیا ہے جس کے بنانے میں امریکہ نے خاص مدد کی ہے ولی عہد محمد نے توسلفی مسلک کی بالادستی بھی ختم کردی ہے اور وہ اپنے ملک کو ایک عالمی کاروباری مرکز میں تبدیل کررہے ہیں اس لئے وہ قدامت پسندی کا راستہ ترک کررہے ہیں اور مغربی روایات کوفروغ دے رہے ہیں انہوں نے وہ فنڈ بھی ختم کردیا ہے جو سلفی مسلک کیلئے مختص تھا اسی فنڈز سے دنیا بھر میں وہابی ازم کے فروغ کیلئے ہزاروں مساجد اور مدارس قائم کئے گئے تھے ماضی بعید میں کویت بھی انتہا پسند گروہوں کوفنڈنگ کرتا تھا لیکن اقتصادی کساد بازاری کی وجہ سے اس نے بھی ہاتھ روک دیئے ہیں ایک اور عرب ملک متحدہ عرب امارات سائنس ٹیکنالوجی دیگرجدید طریقے اپنا رہا ہے وہ اسپیس سائنس میں بھی قدم رکھ چکا ہے اگرچہ یو اے ای کوئی جمہوری ملک نہیں ہے لیکن اس نے ایسا نظام بنارکھا ہے کہ ریاست کے اندرانفرادی آزادی بہت ہے وہ حتیٰ الامکان ایسے لوگوں کو بھی متعلقہ ممالک کے حوالے نہیں کرتا جن پر سنگین الزامات ہیں گو کہ کرونا نے یو اے ای کے منصوبوں کو بریک لگادی ہے تاہم وہ مختلف محاذوں پر پیش رفت کررہا ہے اس کا ارادہ ہے کہ وہ علاقائی سپرپاور بن جائے اس کی ایک مثال پاکستان اور بھارت کے بیچ میں پڑ کر لائن آف کنٹرول پرکشیدگی کو کم کرتا ہے۔یو اے ای کافی عرصہ تک سعودی عرب کے چھوٹو کاکردار ادا کررہا تھا حتیٰ کہ انہوں نے مل کر یمن پر حملہ کیا لیکن کچھ عرصہ سے دونوں ممالک کے تعلقات مثالی نہیں رہے یو اے ای نے تیل کے کوٹہ کے مسئلہ پر سعودی عرب سے شدید اختلاف کیا اور روس کے ساتھ مل کر حکمت عملی بنائی حالانکہ روس اوپک کارکن نہیں ہے امارات نے ابھی تک افغانستان کے معاملہ میں پیش رفت نہیں کی ہے لیکن جلد وہ افغانستان کی معاونت شروع کردے گا اس تمام صورتحال میں تشویش کی بات یہ ہے کہ وہ تمام انتہا پسند گروہ جو مشرق وسطیٰ کی مالی امداد سے استفادہ کررہے تھے وہ بے سہارا ہوگئے ہیں اس لئے ان کی سرگرمیوں کامحور پاکستان بنے گا اور خدشہ ہے کہ یہ گروہ پیسے کی خاطر کسی بھی ملک یا عالمی طاقتوں کی پراکسی بن سکتے ہیں اور بے انتہا مسائل پیدا کرسکتے ہیں ان گروہوں کے تدارک کیلئے وقتی اور سطحی اقدامات سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ ان کی بیخ کنی کیلئے دیرپا معاشی وسیاسی اقدامات اٹھانا پڑیں گے ماضی میں پنجابی طالبان اہم عنصر رہے ہیں کیونکہ ساؤتھ پنجاب طویل عرصہ سے محرومیوں کا شکار چلا آرہا ہے وہاں پر غربت اور بیروزگاری بہت زیادہ ہے جاگیرداری نظام جو باقی پنجاب میں نابود ہوچکا ہے وہ یہاں پر بدستور موجود ہے مسلسل زیادتیوں اور استحصال کی وجہ سے سرائیکی بیلٹ کی آبادی پورے ملک میں پھیل چکی ہے راولپنڈی سے لیکر کراچی تک بیشتر ورک فورس سرائیکی علاقے کی ہے گزشتہ مردم شماری میں ان کی آبادی کو بھی کم کرکے دکھایا گیا یہ پورا علاقہ دہشت گرد اورانتہا پسند تنظیموں کی نرسری ہے پنجاب کے سارے پیر اور مخدوم ملائیں تو بھی سرائیکی علاقہ کے جعلی پیر اور مخدوم زیادہ ہیں اس علاقے میں ایوب خان کے بعد سے جاگیرداروں کاایک نیا طبقہ پیداہوگیا ہے جو روایتی جاگیرداروں سے زیادہ طاقتور ہے اس لئے اس علاقہ کے لوگ اپنے بچوں کو مدارس میں داخل کررہے ہیں جہاں مفت دینی تعلیم رہائش اور کھاناملتا ہے پاکستان کا مدرسہ سسٹم دنیا کا سب سے بڑا نظام ہے اس کی کوئی نظیر کسی اور خطے میں موجود نہیں اس سسٹم کو وفاق المدارس چلاتا ہے جس کا تعلق تحریک دیوبند سے ہے کوئی مانے پانہ مانے ان مدارس میں بڑے پیمانے پر ننھے منے طالبان تیار ہورہے ہیں جو جے یو آئی کی تازہ دم ورک فورس ہے اگرچہ مدارس کے بچے دہشت گردی کی تربیت سے دور ہیں لیکن معاشی اور معاشرتی ناہمواریوں کی وجہ سے ان میں سے بھی بعض ٹی ٹی پی جیسی تنظیموں کا رخ کرسکتے ہیں اس کے ساتھ ہی پاکستان کی حکومتوں کے پاس آبادی کے ایٹم بم کو کنٹرول کرنے کا کوئی پلان نہیں ہے آبادی میں اس تیزی کے ساتھ اضافہ ہورہاہے کہ پاکستان آئندہ چند سالوں میں دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن جائیگا اتنی بڑی آبادی کو بنیادی سہولتیں کون دے گا ان کی تعلیم،صحت اور روزگار کا کیا بنے گا؟حکومتوں نے اس ضمن میں کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہیں کی ریاست کی بنیادوں کو ہلانے کیلئے اس کی اپنی آبادی ہی ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ثابت ہوگی۔
ایک اہم خبر یہ ہے کہ خواجہ سیالکوٹی آج کل ن لیگ کی قیادت کے لاڈلے نہیں رہے انہوں نے چند روز قبل انکشاف کیا تھا کہ وہ اپنا سافٹ ویئراپڈیٹ کرواچکے ہیں حال ہی میں ایک انٹرویو میں وہ زرداری کیلئے تعریفی کلمے بول رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ آئندہ انتخابات میں پیپلزپارٹی کو اقتدار میں حصہ ملے گا زرداری کیلئے ایسے تعریفی کلمات منحرف ن لیگی رہنما چوہدری نثار علی بھی ایک انٹرویو میں کہہ رہے تھے۔سنا ہے کہ ایکسٹیشن کے وقت خواجہ سیالکوٹی نے لندن جاکر میاں نوازشریف کو بتایا تھا کہ وہ اعلیٰ سطح پر ایک ڈیل فائنل کرکے آئے ہیں اگرآپ ایکسٹیشن کی منظوری دیں تو نہ صرف سارے مقدمات ایک ایک کرکے ختم ہوجائیں گے بلکہ آپ کی واپسی کی راہ بھی ہموار ہوجائے گی یہ ڈیل خواجہ سیالکوٹی کے ذہن کی احتراع تھی جس کا مطلب اپنی ذات کیلئے آسانیاں پیداکرنا تھا نوازشریف کو اس دھوکہ دہی کا بڑا قلق ہے اور وہ کف افسوس مل رہے ہیں کہ خواجہ سیالکوٹی جیسے شخص نے اسے الو بنالیا بالکل اسی طرح کا کھیل شاہد خاقان اور احسن اقبال بھی کھیل رہے ہیں انہوں نے پی ڈی ایم کو دفن کرکے اپنے لئے آسانیاں پیدا کرلیں لیکن میاں صاحب کو ابھی تک اس کا پتہ نہیں چلا یہ لوگ رفتہ رفتہ ن لیگ کی جڑیں کاٹ رہے ہیں ایک میاں صاحب کاوفادار بن رہا ہے تو دوسرا شہبازشریف کا لیکن دونوں نے وفاداری کا حلف کہیں اور اٹھارکھاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں