بلوچستان33اضلاع میں اسکول آف ایکسی لینس اور 8ریذیڈیشنل کالجز کا منصوبہ میرا خواب ہے وزیر اعلیٰ چاہتے ہے کابینہ میں کام کروں تو میں تیار ہوں، سرداریارمحمد رند
کوئٹہ: پاکستان تحریک انصاف کے بلوچستان اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر سردار یارمحمدرند نے کہا ہے کہ صوبے کے33اضلاع میں اسکول آف ایکسی لینس اور 8ریذیڈیشنل کالجز کا منصوبہ میرا خواب ہے اس منصوبے کو پی ایس ڈی پی سے نکالنے پر ناراض ہوا تھا وزیراعلیٰ کی جانب سے بھیجے گئے وفد نے یقین دہانی کروائی ہے کہ تحفظات دور ہونگے اگر میرا استعفیٰ نامنظور کیا جاتا ہے تو محکمہ تعلیم کے امور کی سرانجام دہی شروع کردوں گا صوبے میں شوگر مل لگانے کی بھی تجویز دی ہے جو زیرالتوا ہے میں نے کسی ذاتی نہیں بلکہ صوبے کے اجتماعی مفاد کیلئے استعفیٰ دیا تھاکابینہ میرے لئے اہمیت نہیں رکھتی کل اگر دوبارہ تحفظات ہوئے تو پھر سے استعفیٰ دے سکتا ہوں،سردارصالح بھوتانی میرے بھائی اوردوست ہیں وہ وزیراعلیٰ کی کابینہ اور پارٹی کا حصہ تھے انہیں واپس لایا جائے تو خوشی ہوگی۔ یہ بات انہوں نے منگل کی رات گئے صوبائی وزیر ریونیو میر سلیم کھوسہ،ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی سردار بابر موسیٰ خیل،وزیراعلیٰ کے مشیر برائے بلدیات نوابزادہ گہرام بگٹی،پارلیمانی سیکرٹری برائے اقلیتی امورخلیل جارج،سابق صوبائی وزیر میر عامر رند کے ہمراہ اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔سرداریارمحمد رند نے کہا کہ وزیراعلیٰ جام کمال سے نہ قبائلی اور نہ ہی سیاسی یا ذاتی اختلاف ہے میں نے اسکول آف ایکسی لینس کا منصوبہ پی ایس ڈی پی میں دیا تھا جسے بجٹ پیش ہونے والے دن نکال دیا گیااور میری 14ماہ کی محنت اور خواب کا خیال نہیں رکھا گیا جسکے بعد میں نے اس بات کا ادراک کیا کہ مجھے حق نہیں پہنچتا کہ مزیدمحکمہ تعلیم میں کام کرسکوں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی وفد تیسری بار میری رہائش گاہ پرآیا ہے اورانہوں نے یقین دہانی کروائی ہے کہ جیسے وزیراعلیٰ بلوچستان وطن واپس آئیں گے اس منصوبے کی منظوری دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ چاہتے ہیں کہ میں کابینہ میں کام کروں تو میں تیار ہوں میرا استعفیٰ نامنظور کردیا جائے تو کابینہ میں واپس آجاوں گا۔ انہوں نے کہا کہ میرے لئے کابینہ سے زیادہ صوبے کا اجتماعی مفاد اہمیت رکھتا ہے اسمبلی میں بھی کہا تھا کہ میرے حلقے میں سیاسی مداخلت ہورہی ہے امید ہے کہ یہ مداخلت ختم کرنے میں وزیراعلیٰ جام کمال خان موثر کردارادا کریں گے ابھی دو سال کا عرصہ باقی ہے اگر ہمیں ساتھ لیکر چلیں گے تو ہم ساتھ دیں گے بصورت دیگر استعفیٰ دینے میں دیرنہیں لگے گی۔انہوں نے کہا کہ خطے میں حالات تبدیل ہورہے کڑا وقت آنے الا ہے ایسی صورتحال میں ہمیں ساتھ چلنا چاہئے۔ سرداریارمحمد رندنے کہا کہ وزیراعلیٰ جام کمال خوش نصیب ہیں کہ انہیں کمزور اتحادی ملے ہیں ابھی تک دفتر دوبارہ جانے سے متعلق حتمی فیصلہ نہیں کیاجب تک استعفیٰ نامنظور نہیں ہوتا دفتر جاکر امورکی سرانجام دہی کرنا نامناسب ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے اختلاف نہیں ہر جماعت میں تحفظات،گلے شکوے ہوتے ہیں بلوچستان کے ایسے مسائل ہیں جن پر بات ہونی چاہئے وزیراعظم عمران خان صرف وزیراعظم نہیں بلکہ پارٹی کے چیئرمین بھی ہیں انکے تینوں دورہ کوئٹہ کے موقع پر پارلیمانی پارٹی میں سے کسی کو بھی بلایا نہیں گیا منتخب نمائندوں کو اہمیت نہیں دی جارہی اگر صرف بوٹ پالش کرنے والوں کوساتھ رکھنا ہے تو اس سے منتخب ارکان کی حق تلفی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ میں صوبے میں شوگر مل لگانا چاہتا ہوں اس سے سرمایہ کاری اور لوگوں کوروزگار ملے گا یہ منصوبہ ایک سال سے زیرالتوا ہے امید ہے کہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ جام کمال خان کابینہ کو قوانین کے مطابق چلائیں اور امید ہے کہ وہ گروپوں کی بجائے قوانین کے مطابق عملی طور پر حکومت چلائیں گے ہم چاہتے ہیں کہ یہ سسٹم چلتا رہے جہاں بھی عوام کے مسائل ہونگے اسمبلی اور کابینہ میں بات کروں گا اگر میری بات وزیراعلیٰ کو ناگوار گزرتی ہے تو وہ مجھے بلائیں ایک کپ چائے پلائیں اورہم خوشی سے حکومت سے علیحدہ ہوجائیں گے۔صوبائی وزیر سلیم کھوسہ،ڈپٹی اسپیکر بابر موسیٰ خیل اور وزیراعلیٰ کے مشیر نوابزادہ گہرام بگٹی نے کہا کہ دو ماہ قبل سرداریارمحمد رند ناراض ہوئے تھے ان سے حکومت نے میڑھ کی صور ت میں مذاکرات کئے ہیں اور خوشی ہوئی ہے کہ سردار یارمحمدرند نے اختلافات دور کرلئے ہیں انکے مسائل جلد ہی حل ہونگے سرداریارمحمدرند کے جانے سے محکمہ تعلیم کے امور تاخیر کا شکار تھے ہم نے احساس کیا کہ انکا ہمارے قافلے سے جانا غیرمناسب ہوگا وزیراعلیٰ جام کمال خان سے بھی گزارش کی کہ وہ سرداریارمحمد رند کے خدشات دور کریں جس پر وزیراعلیٰ نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ خدشات اورتحفظات دور کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں میرسلیم کھوسہ نے کہا کہ ہمارے درمیان ناراضگیاں نہیں ہیں چھوٹی موٹی تلخیاں ہوتی رہتی ہیں جو حل ہوجائیں گی سردار محمد صالح بھوتانی بھی ہمارے محترم ہیں اگر وہ بھی واپس آجائیں تو خوشی ہوگی ہماری کوشش ہوگی کہ انہیں بھی کابینہ میں واپس لایا جائے۔


