میر یوسف عزیز خان مگسی
تحریر: پروفیسر محمد حسن گچکی
بنی نوح انسان کیلئے ماہ مائی نیک شگون نہیں اس ماہ میں مزدوروں پر ظلم وستم کی آگ برستی رہی 31مئی میں کوئٹہ کے ارد گرد ہولناک زلزلہ نے تباہی مچادی۔اندازہ ً تیس ہزار لوگ لقمہ اجل بن گئے ان میر یوسف عزیز کان مگسی بھی شامل تھا اس وقت ان کی عمر27سال تھا۔یوسف عزیز مگسی بلوچ قوم کا رہنماء تھا۔بلوچستان میں خود مختاری کا سرخیل اور آزادی کا علمبردار تھے۔
سیاست،صحافت اور علم وادب کے میدان میں درجہ کمال حاصل تھا،اس دور میں لاہور سے ”ہمدرد“کے نام سے ایک رسالہ جاری کیا۔میر یوسف عزیز مگسی نے ایک مضمون فریاد بلوچستان کے نام سے 17نومبر 1929ء کو شائع کیا۔اسی مین انگریزوں کے طلم وستم کے خلاف بلوچ قوم کو بیدار کیا۔غافل بلوچوں کو سرزمین بلوچستان کی آزادی کے لئے بیدار کیا۔جس وقت یہ مضمون چھپ کر بلوچستان کے طول عرض میں پھیل گیا۔اس وقت کی پیوند کار قلات کاحکمران خوف وہراس میں مبتلا ہوگیا۔ریاست قلات کے وزیراعظم میر شمس شاہ تھے۔انہوں نے اپنے کابینہ میں یوسف عزیز مگسی کی خوفناک آواز کو برٹش بلوچستان کے ایجنٹ ٹو ڈی گورنر جنرل کے سامنے رکھ کر اس پر بحث و مباحثہ ہوا۔میر یوسف عزیز کی اس اقدام کو بغاوت کا نام دیکر گرفتاری کا حکم جاری کیا۔
17جولائی 1930ء میں میر یوسف عزیز مگسی گرفتار ہو کر مستونگ جیل میں نظر بندہوا۔بلوچستان سرکاری کے حکم عدولی میں پانچ رکنی جرگہ انتخاب عمل میں آگیا۔اس میں سردار محمد خان شاہوانی،سردار سمندر خان محمد شہی،سردار بہرام خان لہڑی،سردار رسول بخش زرکزئی اور سردار رسول بخش مینگل شامل تھے جرگہ کے ممبروں نے یوسف عزیز کے مقدمہ کی کارروائی شروع کی تھی۔فیصلہ سرکارقلات کی ایماء پر ہوا جرگہ نے یوسف عزیز کو ایک سال قید اور انہیں ہزار نوسو کلدار جرمانہ سنایا۔اس کے علاوہ دو ہزار کلدار زر ضمانت مقرر ہوئی۔
شیر بلوچستان کی سیاسی سوچ وفکر میں اس وقت تہلکہ مچ گئی جب وہ مستونگ جیل میں نظر بند تھے۔مستونگ جیل میں ان کی شناسائی میر عبدالعزیز کرد کے ساتھ ہوا۔عبدالعزیز کرد کے سیاسی کاروان میں شامل ہوگئے۔انہوں نے ایک سیاسی ”انجمن اتحاد بلوچاں“ کے نام سے متعارف کرایا۔
اسانجمن کو سیاسی آبگینوں سے آرستہ کیا گیا یہ کہنا بے جاہ نہ ہوگا کہ یہ انجمن بلوچستان کی پہلی سیاسی جماعت تھی۔
سال1930ء میں جیکب آباد میں ”آل انڈیا بلوچ“کانفرنس بلایا گیا۔اس کانفرنس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کیں۔اس میں بالخصوص بلوچستان میں ظلم وستم کی داستان زیر بحث رہی۔بلوچستان میں ایک آزاد حکومت برقرار رکھنے میں اتفاق ہوا۔یہ صداقت پر مبنی آرا ہے۔یوسف عزیز کی پہچان بلوچستان میں ایک نواب کی حیثیت سے تھا۔اس کے باوجود ان کی سیاسی سوچ اور فکر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔موصوف نے دو ٹوک فیصلہ کیا کہ وہ حیدرآباد آل انڈیا بلوچ کانفرنس میں حصہ نہیں لے گا۔چاہے اس ضمن میں ان کی نوابی کی شان وشوکت چلا جائے اس کا مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔
موصوف مئی1933ء سے1935ء تک اپنے قبیلہ کا رہنما تھے وہ صرف ڈیڑھ سال تک منصب نواب کے آن وشان میں مصروف رہے۔
اس کے بعد یوسف عزیز مگسی صحافت کے میدان میں بلوچستان کی بہت خدمت کی تھی۔دن رات صحافتی سرگرمیوں میں مصروف تھے اس دوران میں مساوات اخبار لاہور میں انکی ایک مضمون چھپ چکی تھی۔جس کے پاداش میں یوسف عزیز مگسی کو دو سال قید دو ہزار جرمانہ عائد کیا گیا۔انگریزوں کی منحوس دور میں اخبار کا اجراء ایک مشکل کام تھا اس کے باوجود عزائم میں شرارے برس رہے تھے۔
جولائی1934ء میں ”البلوچ“اخبار شائع ہوااس کے ساتھ ہی بلوچستان مزید ینگ روزنامہ اخبار جاری کیا گای۔صد افسوس انگریزوں نے یہ اخبار بھی بند کرایا۔
علم و ادب کے میدان میں یوسف عزیز مگسی بلند پایا کے شاعرتھے۔واجہ اردو اور فارسی زبان کے نامور شاعر تھے۔شاعری میں بلوچ نوجوانوں اور بلوچ قوم کو بیدار کیا۔اپنے حقوق اور بالادستی کو بین الاقوامی سطح پر اجا گر کیا۔اس میں کامیابی کی نوید تھی۔اس کے علاوہ واجہ عزیز مگسی علم کی ترقی کے لئے بہت کوشاں تھے۔بلوچستان میں ظلم وستم کی داستان کو ہاتھ سے چھپایانہیں جاسکتا ہے۔تعلیم سے والہانہ الفت سے عزیز مگسی نے اپنے گاؤں میں ایک پرائمری سکول کھولا۔خاص کر جھل مگسی میں جامعہ اسلامیہ عزیز کے نام سے ایک تعلیمی ادار ہ بھی کھولا،یقینا یوسف عزیز مگسی کے علمی زہانت نے بلوچستان میں علم کی روشنی پھیلائی،چار دائیگ بلوچستان میں ایک صدا بلند ہوئی مرحبا۔مرحبا عزیز مگسی۔لیکن بلوچستان اور بلوچ قوم غلم والم میں اس وقت مبتلا ہوئے،یوسف عزیز مگسی کم عمری میں کوئٹہ کے 1935ء کے زلزلہ سے جاں بحق ہوئے۔اور بلوچ قوم اپنے رہنماء سے محروم ہوگئے۔


