شعوری دھارے سے کنارہ کشی

تحریر: منّان صمد بلوچ

ایک ایسا دیس جو ہمہ وقت ظلم و استبداد، جور و ستم، بربریت، خونریزی، ناانصافی، نابرابری اور تعصب کی چکی میں پس رہا ہو تو وہاں تخیلی و شعوری دھارے سے نتھی ہوکر شعوری غدا کو حلق سے نیچے اُتارنا بہت ہی محال ہے۔ ایسے وطن میں شعوری بیداری انتہائی اذیت ناک ہے، ایک ذہنی کوفت ہے، ایک ذہنی کشمکش ہے، ایک دماغی اُلجھن ہے، شعوری ادراک ایک پےدرپے فکری عذاب ہے جو ایک عام عقل و فہم رکھنے والے شخص کو متواتر اضطرابی کیفیت سے دوچار کردیتا ہے۔

شعوری بیداری کا یہ محل خون میں لت پت ہے۔ اس محل میں وسیع پیمانے پر دراڑیں پڑ رہی ہیں جو آئے روز گولیوں کی تھرتھراہٹ سے مرتعش اور لرزاں خیز ہے اور نت نئے حربے کے ساتھ آٹھ گولی والی غلطی کا شکار ہوتی رہتی ہے۔ ملک ناز سے لیکر کلثوم سعید تک، حیات بلوچ سے لیکر ساجد حسین تک، شاہینہ شاہین سے لیکر بانُک کریمہ تک، قدیر خلیل سے لیکر جلیل سنجرانی تک، فضل سبزل سے لیکر تاج بی بی تک، یاسر ظفر سے لیکر رامز خلیل تک، خون میں لتھڑا ہوا اِس شعوری آگاہی کی محل میں ہر فرد کا خون حصہ دار ہے۔

وطن کی نگر نگر خونی دریا کا منظر پیش کررہی ہے۔ اس خونی دریا میں بچہ، جوان، عورت، بوڑھا سارے بھیگ رہے ہیں۔ سب کے سب رفتہ رفتہ اس دریا کی خونی موجوں کی نزر ہورہے ہیں اور سارے دھڑا دھڑ موت کے منہ میں جارہے ہیں۔ قصبہ قصبہ آگ کے شعلوں میں جل کر بھسم ہورہا ہے اور گھر گھر سے لاشیں نکل رہے ہیں۔

مقتولوں کی اس لمبی و طویل فہرست میں آج ایک اور معصوم بچے کا اضافہ ہوگیا۔ پھول جیسا بچہ رامز خلیل پولیس کی سفاکیت کی زد میں آکر ہمیشہ کیلئے خاموش کردیا گیا۔ کل یہ بچہ برمش اور کلثوم کیلئے انصاف مانگ رہا تھا اور آج خود انصاف کا طلبگار ہے۔ یہاں انصاف کا پہیہ کب کا منجمد ہے، ہاں البتہ“جسٹس فار” کا ہیش ٹیگ ہر روز بدلتا رہتا ہے۔

دوسری جانب سے شعوری احاطے کی شکنجے میں جکڑا ہوا میرا ضمیر بار بار مجھ کو جھنجھوڑ دیتی ہے جب سڑکوں اور کیمپوں میں بیٹھی ہوئی ماہوں اور بہنوں کی آہوں اور سسکیوں کی صدا مجھے جھٹ سے محصور کرلیتی ہیں جو اپنے پیاروں کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔ کیا شعوری دھارے سے وابستہ شخص ان ماہوں اور بہنوں کی درد و الم کی کہانیوں کو اپنے اندر سمیٹ کرکے تسکین بخش زیست بسر کرسکتا ہے؟ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔

تاسف سے بھری امر یہ ہے کہ میں اپنے دیس کے تمام تر مشکلاتوں، اُلجھنوں، مصیبتوں، تکلیفوں اور اُداسیوں کو اپنے نحیف و ناتواں کندھوں پر اٹھانے سے مکمل قاصر ہوں۔ میں اپنے وطن کے درد و الم اور غم و اندوہ کو اپنے اندرونی مسکن میں مجتمع کرکے جینے کی گُر سے سلیقہ مند نہیں ہوں۔ اپنے ماؤں اور بہنوں کی واویلوں اور گریہ زاریوں کو سننے کی سکت نہیں رکھ سکتا۔ ان کی سسکیوں اور آہوں کو اپنے اندر سمو کر سکھ کا سانس نہیں لے سکتا۔

اسی لئے میں اُنکی آنسوؤں کی سیلاب میں خود کو ڈبودینا چاہتا ہوں۔ میں لاشعوری کیفیت کی وسیلے سے دیس میں شدت و حدت سے جاری و ساری خونی سیلاب میں غوطہ زن ہونا چاہتا ہوں۔ میں مستقل طور پر لاشعوری کی عمق میں پھلانگ مارنا چاہتا ہوں۔ شعوری دھارے سے مکمل کنارہ کش ہونا چاہتا ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں