قدرتی آفات میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس ہوا، ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن

کوئٹہ:ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صوبائی صدر ڈاکٹراحمد عباس نے کہاہے کہ ہرنائی میں زلزلے سے قیامت صغری کا منظرہے، قدرتی آفات میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس ہے، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان، وائی ڈی اے سپریم کونسل اور پیرامیڈیکل اسٹاف فیڈریشن کی تمام کابینہ و دیگر ممبران ٹراما اینڈ ایمرجنسی سینٹر میں رضاکارانہ طور پر سروسز دینے کیلئے موجودہے ہرنائی سبی اور زیارت میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی اور وہاں ڈاکٹرز و پیرامیڈیکل سٹاف فیڈریش کے ممبرزسروسز دے رہیے ہیں,6 ایمبولینسز اور ایم ایس ڈی سے خطیر تعداد میں ایمرجنسی ادویات ہرنائی روانہ کردیئے ہیں، وائی ڈی اے بلوچستان اور پیرامیڈیکل اسٹاف فیڈریشن کی ٹیمیں ہرنائی کی طرف روانہ کردی گئی کوئٹہ کے تمام ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے تیار ہے۔ان خیالات کااظہار ان ہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ اس وقت ٹرامہ اینڈ ایمرجنسی سینٹر میں 15 افراد ڈیڈ باڈیز پڑی ہے، مزید 25 افراد کو تشویشناک حالت میں بزریعہ ہیلی کاپٹر اور ایمبولینسس کے ٹراما اینڈ ایمرجنسی سینٹر منتقل کیا گیا، قدرتی آفت کی وجہ سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس ہے، غم کی اس گھڑی میں اپنے عوم کیساتھ کڑھے ہیں، نااہل اور کرپٹ حکومت میں تھوڑی سی بھی خدا ترسی ہوتی تو ہسپتالوں کے شعبہ حادثات کو ایسے ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے فعال بنا کے رکھتے تو اج اتنی تعداد میں قیمتی جانوں کا نقصان نہ اٹھانا پڑتا، اج کے اس افت سے جو نقصان ہو ا س سے ہمارے دعوں کو تقویت ملتی ہے کہ سرکاری ہسپتال تباہ حالی کا شکار یے، آپ ابھی جائے اپکو صوبے کے واحد ٹراما سینٹر تک میں ایمرجنسی ادویات، اور آلات کی قلت کا اندازہ ہو گا، ٹراما سینٹر کی 3 میں سے 1 آپریشن تھیٹر فعال ہے اور باقی 2 آپریشن تھیٹرز کو تالا لگا ہوا ہے جس سے یہ صاف اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں ادوایات، آلات اور ہیلتھ کیر مہیا کرنے والے افراد کی کمی ہے،صدر نے بتایا کہ ٹراما سینٹر ایک خودمختار ادارہ ہے یہاں ہماری نہ کوئی پوسٹنگ ہے اور نہ ہی کوئی عمل دخل مگر اپنی عوام کی خاطر میں، میری پوری کابینہ، میرے میمبرز اور ہمارے سپریم کونسل کے چیرمین ڈاکٹر یاسر اچکزئی سمیت دیگر سنیر میمبران اور پیرامیڈیکل اسٹاف فیڈریشن کے دوست رضاکارانہ طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور دیتے رہیں گے،ہرنائی سبی اور زیارت میں ایمرجنسی نافض کردی گئی ہے اور وہاں کے تمام ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف فیڈریشن کے دوست ایمرجنسی بنیادوں پر کام میں لگے ہیں، ایمرجنسی بنیادوں پر 6 ایمبولینسز اور خطیر تعداد میں ایمرجنسی میڈیسن ہرنائی روانہ کردیئے ہیں، وائی ڈی اے بلوچستان اور پیرامیڈیکل اسٹاف فیڈریشن نے جزبہ خیر سگالی کے تحت تنظیمی سطح پر ڈاکٹرو اور پیرامیڈیکس کی رضاکارانہ ٹیموں کو ہرنائی کی طرف روانہ کردیا اور اسی سلسلے میں اج مزید ٹیمیں تشکیل دی جائیگی اور خود وائی ڈی اے بلوچستان کی لیڈر شپ بھی ہرنائی میں رضاکارانہ سروسز دینے کیلئے جائیگی، ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر احمد عباس نے بتایا کہ ہمارا احتجاج صرف اور صرف او پی ڈی اور آپریشن تھیٹر میں غیر ایمرجنسی آپریشنز تک محدود ہے ہم نے اج تک ایمرجنسی سروسز، شعبہ حادثات، گائنی اور لیبرروم ڈپارٹمنٹ، وارڈز میں ایمرجنسی سروسز، کرونا وارڈز، ان کا تب بھی بائیکاٹ نہیں کیا جب ہمارے ڈاکٹر کی انکھ میں انتظامیہ نے گولی چلائی اور نہ ہی اج بھی نہیں کیا اور نہ کرینگے،آخر میں ڈاکٹر احمد عباس نے بتایا کے وہ اس قدرتی آفات کے دوران صبح شام ان غریب مریضوں کے علاج معالجہ میں لگا دینگے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بتایا کے کوئٹہ کے تمام تر سرکاری ہسپتالوں میں ہمارے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس کسی بھی ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے تیار بیٹھے ہیں اور میں اپنے ڈاکٹرز کو بتانا چاہتا ہوں کہ وہ ٹراما اینڈ ایمرجنسی سینٹر جلد از جلد پہنچے اور وہاں رضاکارانہ سروسز فراہم کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں