گھبرانا نہیں
تحریر: انورساجدی
سوشل میڈیا جس طرح پاکستان میں استعمال ہوتا ہے اس کی ساکھ زیرو ہے یہ افواہ سازی کی فیکٹریاں ہیں یوٹیوب،فیس بک،انسٹاگرام اور ٹوئٹر پر ایسی دورکی کوڑیاں لائی جاتی ہیں کہ انسان دم بخود رہ جاتا ہے جمعہ کو اہم سطح کی تقرری اور پوسٹنگ کولیکر سوشل میڈیا پر ایسا طوفان کھڑا کیا گیا کہ پورانظام دھڑام سے گرنے والا ہے سارا دن مختلف بلاگر دیکھنے والوں کو مسحور کن حد تک لبھاتے رہے لیکن جب رات گزرگئی تو طوفان بھی گزرگیا حیرانی کی بات ہے کہ سوشل میڈیا زرہ برابر حکومتی کنٹرول میں نہیں ہے بلکہ مادرپدرآزاد ہے اس کے مقابلے میں سارا حکومتی زور پرنٹ میڈیا پر چلتا ہے مجال ہے جو حکومتی کارکردگی کے بارے میں کوئی تجربہ پیش کرنے کی جسارت کرے ایک طرف حکومت کہتی ہے کہ پرنٹ میڈیا اپنی سحر کھوچکا ہے لیکن دوسری طرف پر حکومت کی تمام قہرآلود رویہ کاشکار بھی یہی شعبہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت کے اکابرین نے اپنے تئیس فیصلہ کرلیا ہے کہ اس شعبہ کو ہرقیمت پر سلام آخر پیش کیا جائے حالانکہ18ویں ترمیم کے بعد اطلاعات مرکزی سبجیکٹ نہ رہا لیکن پرنٹ میڈیا کوریگولیٹ کرنے کے تمام ادارے مرکز کے پاس ہیں اور وہ پرنٹ میڈیاکو تنگ کرنے کے نئے بہانے ڈھونڈتے رہتے ہیں۔
جمعہ کے روز اور ساری رات سوشل میڈیا مسلسل کہتا رہا کہ بڑی بڑی شخصیات میں ٹھن گئی ہے۔سینکڑوں یوٹیوبر اپنے اپنے پروگراموں میں ایسا سحر طاری کررہے تھے کہ لاکھوں لوگ بھی یہی دیکھ رہے تھے اور ان کا پکایقین تھا کہ ہفتہ کی صبح بہت بڑی تبدیلی آچکی ہوگی دراصل سوشل میڈیا ایک ویومالائی شعبہ بن چکا ہے جو اپنے دیکھنے والوں کو الف لیلیٰ ہزار داستان کی طرف لیجاتا ہے اور ایک نئی دنیا میں جانے والے لوگ تقریباً ہوش وحواس کھوکھر اس خیالی دنیا سے باہر نہیں آتے۔
کچھ عرصہ قبل ایک ٹی وی چینل نے بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام کمال خان عالیانی کاانٹرویو کیا جس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ45واٹس اپ گروپوں کے ایڈمن ہیں یہ اتنا بڑا کام ہے کہ انسان اسی میں مصروف رہتا ہے اور اسے اور کچھ کرنے کیلئے وقت نہیں ملتا جام صاحب واٹس اپ کے علاوہ ٹوئٹر پر بھی سرگرم رہتے ہیں ان کا سوشل میڈیا پر اتنا پختہ یقین ہے کہ انکے خیال میں عوام سے اسی کے ذریعے رابطہ رکھنا ٹھیک ہے ورنہ ماضی کے وزرائے اعلیٰ کی طرح کون وفود سے ملے یا عوام کی رائے جاننے کیلئے کھلی کچہریاں سجائے اس لئے انہوں نے ایک پارٹی سربراہ ہونے کے باوجود عوام سے رابطے رکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی نہ صرف یہ بلکہ انہوں نے اپنی جماعت کے رسمی الیکشن بھی نہیں کروائے 3سال کے عرصہ میں انہوں نے مرکز ڈویژنل اور اضلاع کی سطح پر کنونشن منعقد نہیں کئے بعض دفعہ ایسا لگتا تھا کہ باپ پارٹی کو اللہ دین کا جن چلارہا ہے بس چراغ رگڑو تو جن حاضر سوشل میڈیا کے مسحورکن دنیامیں جانے کے بعد جام صاحب اپنے وزراء اور اراکین اسمبلی سے ملاقتوں کیلئے وقت نہیں نکال پاتے تھے وہ بھول گئے تھے کہ ان لوگوں کو ہروقت وزیراعلیٰ ہاؤس میں مجلس جمانے اور اپنے کام نکالنے کی عادت تھی تمام گزشتہ وزرائے اعلیٰ کے دور میں وزیراعلیٰ کے کمرے میں بیٹھنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی کہیں وزیربیٹھ کر کافی نوش کررہے ہوتے تھے اور کہیں ایم پی اے حضرات چائے اور بلسکٹ سے لطف اندوز ہوتے تھے اگرجام صاحب نے سسٹم بدلنا تھا وزیراعلیٰ ڈیکورم سمجھانا تھا تو انہیں چاہئے تھا کہ وہ پہلے اپنے وزراء اور اراکین اسمبلی کو بریفنگ دیتے اورسمجھاتے کہ وقت بدل چکا ہے وہ کچھ تبدیلیاں لارہے ہیں لہٰذا آپ بھی اپنے میں تبدیلی لائیں لیکن انہوں نے بتائے بغیر بہت کچھ کردیا ناراضی کا ایک سبب ضرور زیادہ سے زیادہ ترقیاتی فنڈز کا حصول ہوگا اور ایک بڑی وجہ بعض غیر منتخب مشیروں اور معاونین خصوصی کو ایم پی اے حضرات پر فوقیت دینا ہوگا لیکن ہر جگہ ہر صوبے میں وزیراعلیٰ سے وزراء اور ایم پی اے حضرات ذاتی التفات اور صلہ رحمی کی توقع بھی رکھتے ہیں لیکن جام صاحب اپنے طے کردہ اصولوں سے ہٹنے کو تیار نہیں تھے اگروہ کسی ترقی یافتہ ملک کی ریاست کے وزیراعلیٰ ہوتے تو ضرور فٹ ہوتے لیکن بلوچستان کا اپناکلچر ہے اسکی سیاسی اورجمہوری روایات ابھی تک ناپختہ ہیں ایسے حالات میں وزیراعلیٰ کو وقت کے مطابق چلناچاہئے۔
ایک مرتبہ جب ایس آر پونیگر چیف سیکریٹری تھے تو مکھی محمد دروازے کو لات مار کر اندر داخل ہوئے اور کہا کہ ”اڑے پونیگر“ ادھر نہیں ملے گا تو شام کو جناح روڈ پر آئیگاکہ نہیں یہ کہہ کر وہ چلے گئے ناراضی کی وجہ یہ تھی کہ پی اے نے ملاقات کا ٹائم نہیں دیا تھا
جام صاحب کے وہم وگماں میں بھی نہیں تھا کہ باپ پارٹی کے لوگ علم بغاوت بلند کردیں گے اپوزیشن کام وزیراعلیٰ کو عہدے سے علیحدہ کرنے کی تدبیر میں سوچنا ہے لیکن تین سالوں میں اپوزیشن حکومت ہلانے میں کامیاب نہ ہوسکی لیکن اپنوں کی بغاوت نے جام صاحب کو ہلاکر رکھ دیا جب پہلی تحریک عدم اتحاد لائی گئی تھی تو انہیں انوارالحق کاکڑ اور سرفراز بگٹی نے بچایا تھا صادق سنجرانی نے بھی مدد کی تھی لیکن بعدازاں صادق سنجرانی بھی درپردہ باغیوں سے مل گئے۔
اب جبکہ باپ پارٹی کے24 میں سے 16 اراکین جام صاحب کی حمایت ترک کرچکے ہیں تو ان کی مشکلات حد سے بڑھ گئی ہیں کیونکہ اکثریت انکے ساتھ نہیں ہے نئی تحریک پیش ہونے کی صورت میں اگرباپ پارٹی کی16نہیں 10اراکین بھی اپوزیشن سے مل جائیں تو تحریک کامیاب ہوجائے گی تحریک کو ایک طرف رکھیئے اگرجام صاحب سے کہا جائے کہ وہ ایوان سے اعتماد کاووٹ لیں تو وہ ایوان کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام ہوجائیں گے بظاہر حالات بہت دشوار ہیں اور کوئی معجزہ ہی جام صاحب کو بچاسکتا ہے اسکے باوجود وہ استعفیٰ دینے سے انکاری ہیں اور آخری بال تک کھیلنے کا ارادہ رکھتے ہیں انکو توقع ہے کہ بزرگ کسی وقت بھی انہیں بچانے کیلئے میدان میں کودپڑیں گے اگریہ توقع پوری نہ ہوئی تو انکو ہر حال میں منصب چھوڑنا پڑے گا۔جہاں تک وزیراعظم کا تعلق ہے تو وہ بلوچستان میں کوئی خاص رول ادا نہیں کرسکتے سوائے اس کے کہ گورنر کے ذریعے ٹال مٹول سے کام لیکر کچھ وقت جام کو لیکر دیدیں ویسے بھی تین چاردن سے وزیراعظم بعض پریشانیوں کی وجہ سے مصروف ہیں کیونکہ ان سے نوازشریف والی غلطی سرزدہوتے ہوتے بال بال رہ گئی شائد ان کے بعض ناداں دوستوں نے مشورہ دیا ہوگا کہ 3سال گزرجانے کے بعد آپ خود کو بااختیار وزیراعظم بن کر دکھائیں شائد مشیروں کو معلوم نہ ہو کہ1985ء سے آج تک کوئی بھی وزیراعظم بااختیار نہیں رہا نوازشریف نے1993ء،1999ء اور 2016ء میں بااختیار بننے کی کوشش کی تو ان کا حشر سب کے سامنے ہے بلکہ کپتان کواستعمال کرکے2014ء کادھرنا دیا گیا تاکہ نوازشریف کمزور ہوکر پرزے نہ نکال سکیں بلکہ گستاخی پر ان کا اتنا حشر کیا گیا کہ وہ ابھی تک جنگی قیدی کی زندگی گزاررہے ہیں وہ نوازشریف کو استعمال کرکے 2008ء سے 2013ء تک جو کچھ زرداری کے ساتھ کیا گیاوہ اپنے پیروں سے بیساکھیوں پر آگئے ہیں اگرکپتان زیادہ اڑگئے تو انہیں بیساکھیاں بھی میسر نہیں آئیں گی سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے ایک انٹرویو میں واضح طور پر کہا تھا کہ پاکستان میں نہ مغربی جمہوریت رائج ہوسکتی ہے اور نہ ہی قدامت پسندانہ نظام آسکتا ہے لہٰذا ہم اپنا ایکنظام لیکر چل رہے ہیں جس میں افراد یاشخصیات کی بالادستی نہیں چلے گی بلکہ ادارے بالادست رہیں گے۔
اب جبکہ کپتان معاشی اور سیکورٹی مسائل سے دوچار ہیں افغانستان کو لیکر امریکہ شدید ناراض ہے اور اس نے بڑے اڈے نہ سہی ڈرون حملوں کیلئے سہولتوں کا تقاضہ کیا ہے تو اپنی سیاسی مشکلات میں اضافہ کرنا کوئی عقلمندی نہیں ہے حکومت آئی ایم ایف کی شرائط پرعمل کرکے دلدل میں پھنس چکی ہے اسے 222ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے ہیں بجلی کی قیمتوں میں مزید ہوش ربا اضافہ کرنا ہے ہر طرح کی سبسڈی ختم کرنی ہے تو اس کے ہوش اڑے ہوئے ہیں کیونکہ اس وقت مہنگائی جو14فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے آئندہ سال تک ناقابل برداشت حد تک اس میں اضافہ ہوجائیگا عالمی ادارے پاکستانی معیشت کو گہرے پانیوں میں دیکھ رہے ہیں جبکہ حکومتی وزیراورمشیر مسلسل جھوٹ بول کر عوام کو ایک خیالی دنیا کی تصویر پیش کررہے ہیں حکومت اندرونی وبیرونی قرضوں کے بوجھ تلے آکر دب گئی ہے اس کے باوجود شوکت ترین فرمارہے ہیں کہ معیشت چلنا شروع ہوگئی ہے آئے دن قیمتوں میں اضافہ کے باوجود کپتان کا حکم ہے کہ گبھرانا نہیں عوام بے چارے گھبرائیں یا نہ گھبرائیں نام نہاد اور نودولتیہ اشرافیہ پراس کا کیا اثر پڑے گا وزراء کی سنجیدگی کایہ عالم ہے علی امین گنڈاپور عرف شہد والی سرکار ایک اجتماع میں لوگوں کو مشورہ دے رہے تھے کہ مہنگائی کا یہ حل ہے کہ روٹی کم کھائی جائے چینی اور گھی کم استعمال کیاجائے پشتونخوا کے ایک صاحب ہیں مشتاق غنی تو انہوں نے فرمایا کہ آدھی روٹی کھائی جائے۔
سابق وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی نے سوشل میڈیا پر دلچسپ پوسٹ بھیجی ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت اگائے جائیں ہوسکتا ہے کہ آئندہ سال پتے کھاکر گزارہ کرناپڑے۔
مہنگائی ہوتبدیلی ہوکہ کرپشن کا خاتمہ ہوحالیہ آرڈیننس سے تحریک انصاف کا پورا بیانیہ ”تمت باالخیر“ ہوچکا ہے عوام کو تسلی دینے کیلئے اسکے پاس کچھ بھی نہیں ہے سوائے نوازاورزرداری کی لوٹ مار کے قصے سناکر عوام کو مطمئن کیاجائے۔


