دوریاں مجبوریاں

تحریر: انورساجدی
یک نہ شد دوشد: تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے آئی ایس آئی چیف کے امیدواروں سے انٹرویو لینے کا فیصلہ کیا ہے انٹرویو کے بعدوزیراعظم جس سے مطمئن ہونگے اسی کا انتخاب ہوجائیگا غالباً پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی وزیراعظم سب سے بڑی جاسوسی ایجنسی کے سربراہ کا باقاعدہ امتحان لے رہے ہیں ایسے تویہ غیرمعمولی بات نہیں لگتی لیکن غور سے سوچا جائے تو اس میں بڑے راز پنہاں ہیں وزیراعظم پیغام دے رہے ہیں کہ آئندہ جو بھی سروسز چیفس کی تقرری کا معاملہ آئیگا تو وہ خود انٹرویو کے بعدان کا سلیکشن کریں گے ایک مسئلہ یہ آئیگا جو سینئر کمانڈر ہوگا اگر وہ عمرانی امتحان پرپورا نہ اترا تو سینیارٹی کوملیامیٹ کردی جائیگی اور اس کی جگہ ایسے جونیئر کاانتخاب کیاجائیگا جو انٹرویو پاس کرچکا ہے اگرواقعی وزیراعظم کو یہ موقع ملا تو وہ دو فیصلے ضرور کریں گے یعنی آئندہ کسی کو ایکسٹینشن نہیں دیں گے دوسرا یہ کہ آئندہ سال22نومبر کو وہ سینیارٹی لسٹ دیکھے بغیر آرمی چیف کا تقرر کریں گے۔
انکے حالیہ تسلسلہ جنبانی کا یہی پیغام ہے ایک آئینی ماہر سلمان راجہ نے بتایا ہے کہ آئی ایس آئی چیف کی تقرری روایات کے تحت ہوتی آئی ہے کیونکہ تقرری کے رولز نہیں ہیں جبکہ باقی دنیا کی انٹیلی نجس ایجنسیوں کے باقاعدہ رولز موجود ہیں جیسے کہ سی آئی اے موساد ایم آئی سکس اور را انہوں نے تجویز پیش کی ہے کہ اس تقرری کے رولز بنائے جائیں تاکہ آئندہ کوئی بحران پیدا نہ ہو بدقسمتی سے پاکستان میں آرمی ایکٹ تو موجود ہے لیکن آرمی چیفس کا تقرر ہمیشہ صوابدید پر ہوتا آیا ہے عہد حاضر میں اس کا آغاز ذوالفقار علی بھٹو نے1976ء میں کیا تھا جنرل ٹکا خان کے بعد انہوں نے سینیارٹی لسٹ میں چھٹے نمبر پر آنے والے ضیاء الحق جالندھری کو آرمی چیف مقرر کردیا۔
بھٹو کے اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار مرحوم نے بتایا تھا کہ بھٹو سے یہ غلطی سیاسی طور پر نہیں بلکہ عقیدے کے اعتبار سے سرزد ہوئی کیونکہ ضیاء الحق نے ان سے مسلسل کئی دن تک ملنے کیلئے وقت مانگا تھا کہ آخرکار ملٹری سیکریٹری نے سفارش کی کہ سر آپ ان سے مل لیجئے ہوسکتا ہے کہ انہیں کوئی ذاتی کام ہو چنانچہ جب بھٹو نے وقت دیا تو جنرل ضیاء الحق نے کمرے میں داخل ہوتے ہی جیب سے چھوٹا قرآن شریف نکالا اور کہا کہ آپ کو اس کی قسم کہ آپ مجھے موقع دیں میں آپ کا آپ کے خاندان کا ہمیشہ وفادار رہوں گا چنانچہ جب بھٹو کے پاس سمری آئی تو انہوں نے چھٹے نمبر پر ٹک کردیا اگر یہ واقعہ درست ہے تو دنیا نے دیکھا کہ ضیاء الحق نے اس احسان کابدلہ کیسے اتارا۔
اسی طرح نوازشریف نے اپنے تینوں ادوار میں بحیثیت وزیراعظم سب سے زیادہ آرمی چیف مقرر کئے لیکن ان کا ہر انتخاب ان کا مخالف بن گیا خاص طور پر جنرل پرویز مشرف نے پورا پلان بنایا تھا کہ نوازشریف کو بھٹو کی طرح تختہ دار پر لٹکایا جائے لیکن انٹرنیشنل مقتدرہ نے ایسا ہونے نہیں دیا بلکہ دہشت گردی کی عدالت کے جج جعفری نے بھی مشرف کی بات رد کرکے انہیں عمر قید کی سزا سنائی بھٹو کے وقت عالمی اسٹیبلشمنٹ انکے خلاف تھی اس لئے ضیاء الحق نے دیدہ دلیری کے ساتھ انہیں پھانسی کی سزا دیدی۔
البتہ نوازشریف سے یہ غطی ہوگئی تھی کہ انہوں نے کولمبو سے کراچی آتے ہوئے دوران سفر جنرل پرویز مشرف کوبرخاست کردیا اور جنرل ضیاؤالدین بٹ کو ان کی جگہ آرمی چیف مقرر کردیا نوازشریف کی بدقسمتی یہ تھی کہ ضیاؤ الدین بٹ کے جرنیلوں پر کوئی اثرات نہیں تھے اس لئے مشرف کی وطن واپسی سے قبل ہی ان کے حامیوں نے نوازشریف کا تختہ الٹ دیا جنرل مشرف 8سال تک برسراقتدار رہے جب ساتھیوں اور عالمی مقتدرہ نے ان کا ساتھ چھوڑدیا تو نوازشریف اورزرداری نے مل کر انہیں نکال باہر کیا ان کے مقابلے میں عمران خان نے ابھی تک صرف ایک ایکسٹینشن دی ہے جبکہ ان کوموقع ملے گا کہ وہ22نومبر2022ء کو نئے آرمی چیف کا تقرر کریں وہ کس کا انتخاب کریں گے یہ تو کوئی نہیں جانتا لیکن قیاس یہی ہے کہ وہ اپنے ایک پسندیدہ دوست کا انتخاب کریں گے لیکن میرے خیال میں یہ نوبت نہیں آئے گی 13ماہ کا عرصہ بہت ہوتا ہے پاکستان جیسے سیاسی عدم استحکام کے شکار ملک میں نہ جانے کیا کیا واقعات وقوع پذیرہونگے عمران خان نے جوتازہ مسئلہ پیدا کیا ہے اس کا واضح مقصد سیاسی شہید بننا ہے کیونکہ ملک ان سے نہیں چل رہا۔معیشت نہیں چل رہی40ارب ڈالر قرضہ لینے کے باوجودمعیشت ڈیفالٹ کے قریب ہے مہنگائی اور افراط زربہت زیادہ ہے ڈالر اوپر جارہا ہے جس کی وجہ سے قرضوں کی مالیت خودبخود بڑھتی جارہی ہے انٹرنیشنل مارکیٹ میں تیل کی قیمت بڑھ رہی ہے عوام بیزار آچکے ہیں اشیائے خوردونوش دسترس سے باہر ہیں اور حکومت کی فضول خرچی کا یہ عالم ہے کہ اس نے رواں سال50ارب مالیت کی گاڑیوں کی امپورٹ کی اجازت دی اس صورت حال میں وہ ایک بندگلی میں پہنچ چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ کوئی انہیں برطرف کردے یا اتحادی جماعتیں الگ ہوجائیں تاکہ وہ استعفیٰ دیدیں جس کے بعد وہ واویلا مچائیں کہ انہیں کام کرنے نہیں دیا گیا سب سے مل کر سازش کی وہ ملک کی گاڑی کو پٹڑی پر ڈال چکے تھے لیکن گاڑی چلنے نہیں دی گئی ان کا خیال ہے کہ سیاسی شہید بننے کے بعد عوام دوبارہ ان کی طرف لوٹ آئیں گے اور وہ کاسترو بن کر انقلاب لے آئیں گے۔عمران خان کو معلوم نہیں آج تک دنیا کا کوئی بڑا لیڈر سیاسی لوٹوں کے ذریعے انقلاب نہیں لایا ولادیمرلنین کی جماعت کو انتخابات میں شکست ہوئی لیکن وہ اپنے وفادار کیڈر کے ذریعے روس میں انقلاب لانے میں کامیاب ہوئے کاسترو بھی الیکشن جیت کرانقلاب نہیں لائے تھے اور نہ ہی چیئرمین ماؤ کسی انتخاب کے نتیجے میں انقلاب برپا کرگئے تھے۔
عمران خان کی جماعت تحریک انصاف ابھی تک صحیح معنوں میں ایک سیاسی جماعت کی تعریف پر پورا نہیں اترتی یہ پارٹی گراس لیول تک منظم ہی نہیں ہے انہیں جنات اور جنتر منتر کے ذریعے 2018ء کے انتخابات میں ووٹ پڑے تھے بلکہ انہیں اس کامیابی کی توقع ہی نہیں تھی اس لئے وزیراعظم بننے کے بعد انہوں نے اعتراف کیا کہ دوسال تو سمجھنے میں لگ گئے ان کی بدقسمتی یہ رہی کہ ان کے اردگرد طالع آزماؤں کا ایک ٹولہ جمع ہوگیا جو صبح وشام ان کی تعریفیں کرکے انکی خوشنودی حاصل کرتا تھا الیکٹنلز اور آزاد امیدوار اہم عہدوں پر قابض ہوگئے اس دوران تحریک انصاف کہیں کھوگئی لہٰذا ان کے پاس کوئی عوامی طاقت موجود نہیں جو وہ انقلاب لاسکیں اس کے باوجود اگر وہ تن تنہا بنیادی تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو بسم اللہ کریں سب سے پہلے پارلیمنٹ میں آکر واضح طور پر بتائیں کہ وہ آئین کی بالادستی چاہتے ہیں وہ پارلیمنٹ کو سب سے اعلیٰ سپریم ادارہ مانتے ہیں وہ قانون سازی کرکے ہر طرح کی تقرریوں کا اختیار اپنے ہاتھوں میں لے لیں اس دوران اگر رکاوٹ آگئی تو عوام سے رجوع کرکے انہیں اس طرح اپنے ساتھ ملائیں جس طرح ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اپنے ساتھ ملائے تھے عمران خان کو چاہئے کہ وہ بھٹو کی طرح عام جلسوں کا آغاز کریں شہر شہر جائیں پارٹی کنونشن منعقد کریں اور اپنے کارکنوں کو بتائیں کے وہ مکمل سویلین بالادستی چاہتے ہیں۔یہ ایک بڑا رسک اورجوا ہوگا اگر ہارگئے تو انہیں قید اذیت اور مصائب کاسامنا کرنے کیلئے تیار رہنا چاہئے انہوں نے ساری عمر کاروبار کے بغیر جو لگژری لائف گزاری ہے وہ ترک کرنا ہوگی بنی گالا کے محل کو اپنے کارکنوں کی رہائش کیلئے وقف کرنا ہوگا اور گاندھی کی طرح بے انتہا سادہ لائف اسٹائل اختیار کرنا ہوگا اگر یہ سب کچھ نہیں کرسکتے تو آرام سے بیٹھیں اپنی باقی ماندہ مدت پوری کرنے کی کوشش کریں ورنہ جلد ہی ان کی کابینہ ٹوٹنا شروع ہوجائیگی۔
اے آر وائی نیوزچینل کے شرارتی اینکر وسیم بادامی نے حال ہی میں شیخ رشید کو کال ملائی وہ کسی اور سے بات کررہے تھے انہوں نے بادامی کی کا اٹینڈ نہیں کی اس دوران ان کی آواز آئی کہ یار یہ بندہ تو پاگل ہوچکا ہے
اس طرح کے وزیر کوئی دباؤ برداشت نہیں کریں گے اور پھک سے اڑجائیں گے اگرعمران خان سویلین بالادستی چاہتے ہیں تو اچھی بات ہے لیکن کس کے بل بوتے پر کون ان کا ساتھ دے گا ان کے ساتھ شامل سیاسی مسافر تو کہیں اور پناہ تلاش کریں گے یا وہ اپنے کئے کی معافی مانگ کر نوازشریف کو ساتھ ملائیں کیونکہ آخر کار وہ نوازشریف کا بیانیہ اپنانے پر مجبور ہوگئے ہیں جب دولیڈروں کا بیانیہ ایک ہو تو انکے درمیان دوریاں اچھی بات نہیں کیا ہی اچھا ہو کہ وہ پی ڈی ایم کو تعاون کی دعوت دیں کیونکہ سویلین بالادستی تن تنہا حاصل نہیں ہوسکتی اس کے لئے ایک طویل صبرو آزما جدوجہد کرنا پڑے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں