جام کمال اقتدار کی خاطر پولیس اور دیگر اداروں کو استعمال کرکے ارکان اسمبلی اور انکے اہلخانہ کو ہراساں کر رہے ہیں، میر ظہور بلیدی
کوئٹہ: بلوچستان عوامی پارٹی کے قائم مقام صدر رکن صوبائی اسمبلی میر ظہور بلیدی نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ جام کمال خان اقتدار کی خاطر پولیس اور دیگر اداروں کو استعمال کرکے ارکان اسمبلی اور انکے اہلخانہ کو ہراساں کر رہے ہیں، بلوچستان عوامی پارٹی کے تمام ارکان کو وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دینے کی ہدایت کردی ہے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کے مرتکب ارکان کے خلاف کاروائی کی جائیگی عدالتی فیصلے کے بعد ثابت ہوگیا ہے کہ میں پارٹی قائم مقام صدر اورپارلیمانی لیڈر ہوں،یہ بات انہوں نے جمعہ کو اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو کی رہائشگا ہ پر اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈوکیٹ، میر نصیب اللہ مری، ثناء بلوچ، اصغر علی ترین اور میر زابد علی ریکی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔میر ظہور بلیدی نے کہاکہ صوبے میں روایات کی پامالی کی جارہی ہے وزیراعلیٰ اسمبلی میں اعتماد کھوچکے ہیں اس کے باوجود انہوں نے کہا کہ 2ارکان بھی ہوں تو وہ مقابلہ کریں گے آیا وہ پولیس اور اداروں کے ذریعے ناجائز حکمرانی کریں گے؟انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ ارکان اسمبلی اور انکے اہلخانہ پر دباؤ ڈال رہے ہیں سکندر عمرانی اور محمد خان لہڑی کے بھائیوں کو پولیس کے ذریعے ہراساں کیا گیا ہم آئی جی پولیس سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ پیشہ ور آفیسر ہیں انکی موجود گی میں ایسے اقدامات نہیں ہونے چاہیئں میر سکندر عمرانی کے بڑے بھائی جو علاقے کی معتبر شخصیت ہیں کہ بھائی پر موبائل فون چوری میں سہولت کاری کا الزام لگایا گیا بعض ادارے ارکان اسمبلی کو ہراساں کر رہے ہیں وہ ادارے فشریز اور محکمہ صحت کے اسکینڈلز میں گرفتار افراد کے خلاف تفتیش پر عملدآمد کریں اور جن کی طرف نشانات جارہے ہیں انکے خلاف کاروائی کریں اداروں کے افراد عوام کے ٹیکس سے تنخواہ لیتے ہیں وہ اپنی آئینی و قانونی ذمہ داری ادا کریں اور سیاسی معاملات میں فریق بننے سے گریز کریں انہوں نے کہا کہ ہمارے عزائم مضبوط ہیں اور ہم ان پر قائم ہیں ہم اسمبلی جاکر وزیراعلیٰ کو رخصت کریں گے اور ارکان اسمبلی کو ہراساں کرنے والوں کو خبر دار کرنا چاہتے ہیں کہ وہ باز رہیں اگرہم احتجاج پر آئے تو لوگ باہر نکلیں گے اور بلوچستان جام ہوگا، انہوں نے کہا کہ تمام ارکان اسمبلی عوام کے نمائندے ہیں انکے خلاف تضحیک آمیز رویہ ناقابل برداشت ہے ہم سی چیزیں ہیں جو پوشیدہ ہیں جن پر ہم لب کشائی نہیں کرنا چاہتے انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کے رکن سید احسان شاہ کو بھی حبس بے جا میں رکھا گیا ہے ہوش کے ناخن نہ لئے گئے تو ہم انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور ہونگے عوام کھڑی ہوگئی تو لوگوں کو جگہ نہیں ملے گی، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ ہمارے لئے محترم ہیں لیکن ہمارا موقف واضح ہے انہوں نے رابطہ کیا تو اپنا موقف انکے سامنے رکھیں گے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ جام کمال خان نے ٹوئٹ کر کے پارٹی صدارت چھوڑی جس کے بعد باقاعدہ طریقہ کار کے تحت مجھے پارٹی کا قائم مقام صدر بنایاگیا تاکہ نومبر میں پارٹی انتخابات کروائے جا سکیں انہوں نے کہا کہ بی اے پی کے 12ارکان نے لکھ کر مجھے پارلیمانی لیڈر نامزد کیا اگر کسی کو انکے دستخطوں پر اعتراض ہے تو دستخطوں کا فارنزیک ٹیسٹ کروایا جائے انہوں نے کہا کہ ہم وزیراعلیٰ کی جانب سے ہراسگی کی وجہ سے محصور ہیں اور 25اکتوبر تک یہیں رہیں گے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جام کمال خان کے ساتھ کھڑے ارکان فرد واحد نہیں بلکہ پارٹی کے فیصلے کا ساتھ دیں اگر کسی نے ساتھ نہ دیا تو انکے خلاف کاروائی کی جائیگی انہوں نے کہا کہ جام کمال خان کی جانب سے جاری کئے گئے شو کاز نوٹس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے،اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈوکیٹ نے کہا کہ بلوچستان میں کبھی زور زبردستی لالچ دیکر کوئی اقردار سے چمٹا نہیں رہا وزیراعلیٰ صوبے کو تباہ کر رہے ہیں اور انکے مظالم میں انکا ساتھ دینے والے بھی ظالم ہیں انہوں نے کہا کہ خواتین کو اغواء کیا گیا اب انہیں دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں اسلام آباد میں سید احسان شاہ کی اہلیہ اور بچوں کو بھی ہراساں کیا گیا اگر زور زبردستی وزیراعلیٰ کو بچا بھی لیا جائے تو وہ اسکے بعد کیسے کام کریں گے،اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رکن میر نصیب اللہ مری نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین کی عزت و احترام یے جام کمال خان کی اپنی نشست بھی خطرے میں پڑ گئی ہے نواب ثناء اللہ زہری نے بھی ارکان اسمبلی کی حمایت کھونے کے بعد استعفیٰ دیا تھا ہمارے نمبر پورے ہیں جام کمال خان عزت سے مستعفی ہو کر گھر چلے جائیں،اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی ثناء بلوچ نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام اور بی این پی کی خواتین ارکان کو ہراساں کیا جارہا ہے ہم جام کما ل خان اور اداروں کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ یہ عمل مناسب نہیں ہے انہوں نے کہا کہ جام کمال خان اے ٹی ایم بنے ہوئے ہیں تین ماہ میں 30سے 40ارب ریلیز جبکہ خرچ نہیں ہوئے افسران پر دباؤ ہے کہ پیسے خرچ کریں گزشتہ روز آئی جی پولیس سے رابطہ کیا مگر انہوں نے فون نہیں اٹھایا میر سکندر عمرانی کے بھائی کو 10300روپے اور موبائل فون چوری کے کیس میں تھانے بلایاگیا جس پر چیف سیکرٹری کو فون کرکے مداخلت کرنے پر انہیں چھوڑا گیا انہوں نے کہا کہ لاپتہ ارکان کے ٹوئٹ میں کوئی صداقت نہیں اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی اصغر علی ترین نے وزیراعلیٰ سے اعتماد کھونے کے بعد مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا


