چمن،پاک افغان سرحد کی 3 ہفتوں سے بندش، تجارت اور پیدل آمدورفت معطل
چمن:چمن میں پاک افغان بارڈر کو افغانستان کی جانب سے بند ہوئے 3 ہفتے گزر چکے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت اور پیدل آمدورفت بھی معطل ہے۔
چمن میں پاک افغان سرحد کی بندش کے خلاف تاجروں کا احتجاج جاری ہے۔ پیر 25 اکتوبر کو انجمن تاجران اورمختلف سیاسی پارٹیوں کی جانب سے چمن کوئٹہ شاہراہ کو بطور احتجاج بند کردیا گیا۔ کوژک ٹاپ کے مقام پر رکاوٹیں موجود ہیں اور ٹریفک کی روانی معطل ہے۔
انجمن تاجران اور سیاسی پارٹیوں کا مطالبہ ہے کہ چمن بارڈر کو دوبارہ کھولنے کے لئے افغان حکام سے بات چیت کریں تاکہ سرحد کی بندش کی وجہ سے عوام کو درپیش مشکلات ختم ہوسکیں۔چمن پاک افغان بارڈر کی بندش کے خلاف کوژک ٹاپ شاہراہ کی بندش کی وجہ سے مال بردار ٹرکوں اور مسافروں گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
تاجروں اور مختلف سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں کا مطالبہ ہے کہ پاک افغان سرحد کودوبارہ کھولنےکے لئے افغان حکام سے مذاکرات کئے جائیں اور سرحد پر دونوں ممالک کے درمیان درپیش مسائل کوبات چیت سے حل کریں تا کہ تجارت اور پیدل آمدورفت بحال ہوسکے ۔


