تابش بلوچ کو عقوبت خانوں میں 5 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر گیا تاحال رہائی ممکن نہیں ہوا ،بی ایس او پجار

شال: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ( پجار ) کے چوتھے صوبائی کابینہ کا اجلاس زیر صدارت بابل ملک بلوچ شال میں مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا اجلاس میں جنرل سیکرٹری عابد عمر بلوچ ، نائب صدر شفقت ناز بلوچ اور جوائنٹ سیکریٹری ڈی ایم دشتی شامل تھے ۔ اجلاس کی شروعات شہداء کے یاد میں دو منٹ کی خاموشی سے ہوئی اجلاس میں زونل رپورٹس پیش کی گئی جن پہ بحث مباحثے ہوئے اجلاس میں تنظیم کے سابقہ کارکردگی اور تنظیمی امور پر تفصلی مباحثہ کیا گیا اور آئیندہ کا لائحہ عمل تحہ کیا گیا ۔ 

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بابل ملک بلوچ نے کہا کے بلوچستان اس وقت انتہائی خطرناک اور نازک ترین دور سے گزر رہا ہے ایک طرف افغانستان میں طالبان ریجیم تو دوسری جانب ریاستی جبر و استعصالی  پالسیاں بلوچ کے مشکلات میں بے انتہاہ اضافہ کررہے ہے بلوچستان میں حالیہ رونما ہونے والے واقعات جن میں سانحہ ہوشاپ اور زامران سلو سے رامیز کا سیکورٹی اداروں کے ہاتھوں شہادت اس بات کی غمازی کرتا ہے کے ریاستی پالیسی اب بچوں کو اور خواتین بزرگوں پر بھی اپنے جبر کے پہاڑ توڑنے میں پیچھے نہیں ہٹے گا لیکن اس بات کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا کے بلوچ کے وطن پہ کوئی درآمد شخص وردی یا بے وردی ظلم کرے اور بی ایس او کے وطن پرست نوجوان نسل یہ دیکھتا رہے ہم ان تمام مظالم کو انسانیت سوز مظالم سمجھتے ہے اور ان کے خلاف کھڑے ہو کر اپنی آوز بلند کرنا اپنا قومی فریضہ سمجھتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہے کے سیکورٹی ادروں کو آئینی طریقہ کار سے باہر کام کرنے کی اجازت نہ دی جائے اور تابش وسیم بلوچ جن کو 9 جون کو سیکورٹی ادروں نے گرفتار کیا ہے اسے فوری رہا کیا جائے ۔ 

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی جنرل سیکرٹری عابد عمر نے کہا کے تعلیمی اداروں کی مخدوش صورتحال پہ حکومتی توجہ قابل افسوس ہے تربت کے تاریخی ڈگری کالج عطا شاد ڈگری کالج کو محض سیکورٹی بنیادوں پہ سالوں سے بند کیا گیا ہے جس کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا سیکورٹی کا مسلہ پورے ملک میں ہے لیکن کیا لاہور اور گجرات کے اداروں کے ہاسٹلوں کو بند کیا گیا ہے دراصل بلوچ قوم کو ناخواندگی کے دلدل میں دھکیلنے کی سازش رچی گئی ہے جس کے خلاف بی ایس او پجار روز اول سے کھڑی ہے ۔ کوئٹہ میں بلوچستان کے تمام بڑے تعلیمی ادارے جن میں بلوچستان یونیورسٹی، آئی ٹی یونیورسٹی، ایس بی کے ، بولان میڈیکل کالج و یونیورسٹی اور لاء کالج ان سب میں غیر مقامی افراد و غیر بلوچوں کو وائس چانسلر و تمام انتظامی عہدے دئے گئے ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کے بلوچوں کو ہر طرح سے تعصب کا شکار بنا کر دیوار سے لگایا جارہا یے ۔ 

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر شفقت ناز بلوچ،  ڈی ایم دشتی و دیگر نے کہا کے بلوچ طلباء اب منظم و شعوری بنیادوں پر بلوچ توں و بلوچ وسائل  کے دفاع کے لئے سامنے آئے ہر روز کسی نا کسی صورت میں بلوچ کو پسماندہ رکھنے والے طاقتیں کوئی سازش کے تحت یا لاپتہ کردیتے ہے یا تعلیمی اداروں میں داخلے پر پابندی لگاتے ہے اور حالیہ پی ایم سی کا واقعہ ایک مثال ہے جس پہ پورے پاکستان میں احتجاج ہوا لیکن کوئٹہ بلوچستان میں ہی تشدد و گرفتاری ہوئی اور جھوٹ کے ایف ائئ آر کے بعد خود ہی انہی اہلکاروں نے ایف آئی آر واپس لی کیا لیکن اگر طلبا متحد ہونگے تو ایسی صورت حال پیش نہیں آتی ۔
اجلاس میں مندرجہ ذیل فیصلہ لیے گئے ۔
تابش وسیم بلوچ کے لئے صوبے بھر اور اس کے ہوم ٹاون خضدار میں بڑے سطح پہ احتجاج کا آغاز کرینگے ۔
شہید ڈاکٹر یاسین بلوچ کے برسی کو تمام وحدت زونز عقیدت و احترام کے ساتھ منانے فیصلہ ۔ڈاکٹر شفیع بلوچ کے نام پہ آواران میں سیمینار کے انعقاد کرنے کا فیصلہ ۔26 نومبر کو بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے یوم تاسیس و بی ایس او کے جہد و جہد پہ سیمینار کے انعقاد کرنے کا فیصلہ ۔تمام زونز کو فوری ممبر شپ ریکارڈ بیجھنے کی تاکید ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں