لاپتہ افراد کے والدین کی بد دعاؤں سے بچو،سندہائیکورٹ

کراچی:سندھ ہائیکورٹ نے لاپتہ شہریوں کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر تفتیش کے معیار پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اعلی حکام سے پیش رفت رپورٹ اور پشاور کے حراستی مراکز میں شہریوں کی موجودگی سے متعلق وزارت دفاع اور داخلہ سے بھی رپورٹ طلب کرلی۔جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو کی سربراہی میں بینچ کے روبرو لاپتہ شہریوں کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ لاپتہ افراد کے کیسز میں تفتیش کے معیار پر عدالت نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کیسے افسر ہیں۔ 5، 5 سال میں محکموں سے رپورٹس حاصل نہیں کرسکتے۔ 6، 6 بار جے آئی ٹیز اور ٹاسک فورس کے اجلاس ہوچکے، نتیجہ کچھ نہیں۔ لاپتہ شہریوں کے ماں باپ کی بددعاں سے بچو، پتہ نہیں تمہارا کیا حشر ہو۔عدالت نے استفسار کیا اگر کوئی افغانستان بھی چلاگیا ہے تو اسکا پتہ کون چلائے گا۔ عدالت نے مسما شمیم آرا کے 5 سال سے لاپتہ بیٹے کے کیس میں ایس پی کو خود تفتیش کرنے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے موجودہ تفتیشی افسر کو تو جیل میں ہونا چاہیے۔ ہر بار پرانی رپورٹس کاپی پیسٹ کرکے پیش کرتا ہے۔عدالت نے درخواست گزار کے بیٹے عارف ہاشمی کی ٹریول ہسٹری کے متعلق ڈی جی ایف آئی سے ٹریول ہسٹری طلب کرلی۔ عدالت نے پشاور کے حراستی مراکز میں شہریوں کی موجودگی سے متعلق وزارت دفاع اور داخلہ سے بھی رپورٹ طلب کرلی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں