انسانی حقوق کے نام نہاد چیمپئن
تحریر: محمد ندیم کاسی
جب سے افغانستان میں طالبان برسراقتدار آئے ہیں، ہر طرف انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق باتیں ہو رہی ہیں۔ بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کیا صرف افغانستان کے باسیوں کیلئے ضروری ہے؟ انسانی حقوق کے ’’علمبرداروں‘‘ کو افغانستان کی فکر تو کھائے جا رہی ہے باوجود اسکے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے پر تمام افغانستان پُرمسرت ہے ۔مانا کہ انسانی حقوق کا تحفظ ضروری لیکن جہاں آئے روز انسانی حقوق پامال کئے جاتے ہیں۔ خواتین کے حقوق کی پاسداری نام کی چیز نہیں، عزت و ناموس، جان ومال محفوظ نہیں، کشمیر کی جنت نظیر وادی کتنے برسوں سے آگ میں سلگ رہی ہے، کتنے برسوں سے دنیا کی جنت بارود کی بدبو فضا میں لئے ہوئے کب سے کشمیر میں گولیوں کی تڑتڑاہٹ ہے، آئے دن کسی نہ کسی گھر سے شہداء کی میتیں اٹھتی ہیں، کتنی ماؤں نے اپنے لعل گنوائے، کتنے باپوں نے اپنے جگرگوشوں کو مٹی کے سپرد کیا، کتنی خواتین نے اپنے سہاگ لٹائے، کتنی بہنوں نے اپنے بھائی قربان کئے، تو آخر کہاں ہیں یہ ’’چیمپئن‘‘ جو انسانی حقوق کا راگ الاپتے نہیں تھکتے۔ کشمیریوں کے بنیادی حقوق کی پامالی آخر کیوں نظر نہیں آتی؟ کیونکہ مفادات کا کھیل ہے۔ آنکھوں پر مفاد کی پٹی باندھ کر اندھے ہو گئے، کتنے برسوں سے فلسطین کے مسلمان ظلم و جبر برداشت کر رہے تو انکے حقوق کیلئے دنیا کیوں بے حس ہو چکی اور وہ ملک جہاں سے امریکہ کو جس ’’عزت افزائی‘‘ کے ساتھ نکالا گیا پوری دنیا نے دیکھا۔ اب اس رسوائی اور شرمندگی کو اس واویلے میں چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور دوسرا افغانستان میں مستحکم حکومت اور امن امریکہ کے مفاد میں نہیں۔ افغانستان میں امن کا مطلب ہے خطے کا امن۔ خطے میں امن ہو گا تو پاک چین اقتصادی راہداری کو ترقی ملے گی اور CPEC کی ترقی امریکہ کے مفاد میں نہیں تو افغانستان سے خانہ جنگی کے بادلوں کا نہ چھٹنا امریکہ کے مفاد میں ہے تو بیڈ گورننس کا شعور ہوتا رہے گا۔ طالبان کی طرف سے کئے گئے وعدوں پر عمل آناً فاناً ہو سکتا ہے، طالبان کو اپنے وعدوں پر عمل کرنے کا بھرپور موقع ملنا چاہئے اور طالبان کو بھی چاہئے جس مذہب کے نام لیوا ہیں وہ مذہب سراسر امن و سلامتی کادین ہے جس میں جبر نہیں تو انہیں چاہئے اسلامی حکومت نافذ کریں لیکن لوگوں کو جبراً کچھ بھی کرنے کا نہ کہا جائے اور نہ ہی کچھ ایسا کریں کہ دنیا کو انہیں تسلیم نہ کرنے کا بہانہ مل جائے کیونکہ ابھی طالبان کیلئے اپنے آپ کو دنیا سے تسلیم کروانا بڑا ٹاسک ہے۔


