تعلیمی شعور

تحریر۔۔ مںصور علی
رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے بڑے صوبے بلوچستان کا نظامِ تعلیم دیگر صوبوں کی نسبت کمزور ہے، گو کہ اس میں بہتری لانے کیلئے صوبائی حکومتوں نے پورے صوبے میں بھرپور توجہ دی ہے پرائمری، مڈل، سیکنڈری اور ہائیر تک اداروں کی تعداد بڑھائی ہے اور تعلیمی اداروں سے بہتر نتائج کے حصول کی خاطر اساتذہ اور لیکچرر کی مستقل بھرتیاں بذریعہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن کی جاتی ہیں۔ چونکہ صوبے کا بڑا حصہ دیہی علاقہ جات پر مشتمل ہے اور مشاہدے سے ایسا ظاہر ہوا ہے کہ پرائمری سے کالج سطح تک جانے والے طلباء کو والدین کی جانب سے تعلیمی اداروں میں ہونے والی سرگرمیوں میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے لہذٰا اداروں سے ملنے والے ہوم ورک سے متعلق گھروں میں کسی قسم کی بازپرس نہ ہونے کے سبب طلباء کا ہوم ورک کے سلسلے میں دلچسپی کا محور غیر نصابی سرگرمیاں ہوتی ہیں یعنی ہفتہ وار چھٹیوں اور تعلیمی اداروں سے روانہ کی چھٹی کے بعد ان کا زیادہ دھیان کھیل کود کی طرف رہتا ہے، تعلیمی سلسلہ صرف کمرہ جماعت تک سکڑ کر رہ جاتا ہے۔ صرف اور صرف تعلیمی اداروں اور اساتذہ کرام پر انحصار کرنے کی بجائے ملک، صوبے، معاشرے اور مستقبل کے معماروں کے کامیاب مستقبل کے لئے والدین کو بھی اپنی اہم زمہ داری کا احساس کرتے ہوئے تعلیمی اداروں سے چھٹی کے بعد اپنے بچوں کی نصابی سرگرمیوں پر ترجیحی بنیادوں پر توجہ دیتے ہوئے نظر رکھنی ہوگی اساتذہ کرام سمیت معاشرے پڑھے لکھے طبقے کو آگے بڑھتے ہوئے اس زمہ داری میں شراکت کرتے ہوئے دیہی والدین کے بڑے طبقے میں ایسا شعور پیدا کرنا ہوگا کہ وہ اداروں سے چھٹی کے بعد اپنے بچوں کے ہوم ورک پر نظر رکھیں اس حوالے سے بنا کسی تشدد کے باز پرس کریں کیونکہ اس ملک اور صوبے کی حقیقی تعمیر و ترقی کے لئے ہمیں پڑھے لکھے تخلیقی تعلیم کے ہتھیار سے لیس صحت مند نوجوانوں کی سخت ضرورت ہے کہتے ہیں آنیں جنگیں روائتی ہتھیاروں کی بجائے تعلیم کے ذریعے چاند اور خلا کو تسخیر کرکے کر چکا ہے کیونکہ سائنس کا مطلب حکمت ہے اور حکمت علم کا اہم حصہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں