انسانی حقوق کی ابتر صورتحال
تحریر: خوشحال خان افغان
انسانی حقوق کی اگر بات کی جائے چونکہ انسان مٹی سے بنایا گیا ہے۔ ایک آسمانی تخلیق ہے اور بحثیت انسان اور اشرف المخلوق کے طور پر ان کے حقوق متعین کیے گئے ہیں جو ان متعین شدہ حقوق کو اسلام نے مسلمان یعنی انسان کو دیا ھے اور کسی بھی انسان کو انکے حقوق سے محروم رکھنا انسانی ذیادتی کے مترادف ہے اور اسلام نے انسان کو جن حقوق سے نوازا ہے وہ حق اسے کوئی اور مزھب نہیں دے سکتا بلکہ ہم اگر اسلام کو ایک طرف کریں اور انسان اور انسانیت کی جانب توجہ مرکوز رکھیں تو اس میں ہم یہ دیکھ سکتے ہیں کہ دنیا اس وقت تک انسان اور انسانیت کے کس موڑ پر ھے اور دنیا بھر میں عالمی طاقتوں نہ ایک پلیٹ فارم بنایا ہے اور اوراس پلیٹ فارم کا بنیادی مقصد انسانی حقوق کی حفاظت کرنا اور مزید یہ کہ ہر انسان کو وہ حقوق پورے دیے جائیں ہم اگر اس دنیا کو دیکھ لیں اس وقت دنیا میں مختلف اقوام آباد ہیں، یہ سب اقوام رنگ نسل، ذات پات اور مذہب میں ایک دوسرے سے الگ ہیں جو کہ دنیا بھر میں یہ کہا جائے کہ کچھ اقوام غالب ہیں اور باقی مغلوب ہیں غالب کی مغلوب پر اکثر اثر و سوخ رہا ہے ہر انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے حقوق جانے اور اس کے لئے جدوجہد کرے تاکہ ان کو وہ حقوق ملے جوکہ باقی اقوام کو ملے ہیں اور وہ دوسرے انسانوں میں بھی یہ جذبہ پیدا کرے تاکہ وہ اپنے حقوق سے محروم نہ رہے بحیثیت ایک انسان ایک پشتون، ایک افغان ہم ایک اسے وطن میں زندگی بسر کر رہے ہیں جو کہ پاکستان کا حصہ ہے لیکن اگر دیکھا جائے ہم پشتون اس ملک میں ایک شریک قوم کی حیثیت سے دے رہے ہیں لیکن ایک طرف ریاست اور دوسری طرف محکوم اقوام جس کی حقوق کی پامالی ہورہی ہے اس میں یقینا پشتون بھی شامل ہیں۔ انسانی حقوق ایک لمبی بحیثیت ہے لیکن میں اس کو مختصراً انداز میں پیش کرنے کا کوشش کرونگا اور اگر دیکھا جائے اس ریاست میں نہ صرف پشتون بلکہ بلوچ، سندھی حتیٰ کہ سرایکی بھی اپنی انسانی حقوق سے محروم ھے اور میرے خیال میں اگے بھی ان کو محروم رکھا جائے گا قومیں بنتے ہی انسانوں سے اس لئے قوموں کو نہیں انسانوں کو حقوق کی ضرورت ہے اور وہ انہیں ہر حالات میں میسر ہونا چاہئے اور دنیا میں انسان ہر جگہ پر آباد ہے چاہئے وہ جہاں بھی اباد ہو ان کو اپنے انسانی حقوق ملنے چاہئ مثلاً اچھی زندگی، صحت، روزگار، جان ومال کی حفاظت اور تعلیم اور بھی بہت شامل ہیں جو کہ میں اپنے لفظوں میں سمو نہیں سکتا اور نہ ہی اپنے اس چھوٹے سے تحریر میں بھلا کس سے اپنے حقوق کا مطالبہ کروں اخر کس سے اس ریاست سے جو کہ اپنی خود کہ شہری شہریوں کے خون کے پیاسی ہیں جو اپنے ہی شہریوں کے سروں پر ڈالرز لیتی ہیں اور اپنے ہی شہریوں کے زخموں پر مرہم پٹی کرنے کی بجائے نمک پاشی کرتی ہو لوگ ہیمشہ ایک بات کرتے ہیں کہ اپنے حقوق کی جنگ لڑی جائے لیکن عدم تشدد کے راستے سے چلے ہیں ایک لمحہ کہ لئے اس بات کو مان لیتے ہیں لیکن کیا یہ بات یہ بے ضمیر ریاست اور شرم سے عاری ریاست کیا یے یہ بات اتنی آسانی سے مان سکتے ہیں۔ ہرگز نہیں یہاں بھلا ایک عام شہری کا کیا ہو گا جہاں ایک نو منتخب قومی اسمبلی کے ممبر جو ایک نڈر بےباک اور اپنے ہی لوگوں کی حقوق کی بات کرنے والا مہینوں مہینوں سے کراچی شہر کے سنٹرل جیل میں پڑا ہے کوئی گناہ کوئی قصور نہیں تو پر کس بنیاد پر نہ کسی کی پراپرٹی نہ کسی ظالموں کی مدد کی ہو بلکہ اپنے لوگوں کی حقوق اور ظالموں کے ظالم پر بول رہا ہے اور رہے گا بس ہی قصور تھا جن کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پڑا ہے۔ کوئی قانون کوئی عدالت کوئی قاضی جو علی وزیر کو انصاف دلا سکے نہیں کوئی نہیں یہاں زندہ انسان نہیں بلکہ یہاں سارے ضمیر مر چکے ہیں یہاں کہ سارے جذبے ماند پڑچکے ہہیں یہاں یہ بات بھی واضح کی جائے یہ وہی علی وزیر ہے جس کے گھر کے سولہ شہید دے کر پشتون ہونے کا حق ادا کیا جو نہ کوئی اور کر سکتا ہے اسی کے ساتھ دو سو دوکانو پر مشتمل مارکیٹ مسمار کرنا وانا بازار میں یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں انصاف کی نہیں مفاد کی دوڑ لگی ہے نہ کوئی انسانی حقوق کی تنظیم نہ کوئی اور ادارہ جو حقیقت کی بات کرے انسانی حقوق کی چارٹر میں صاف و شفاف لکھا ہے کہ ہر شہری کو فیئر ٹرائل کا حق دیا جائے اس کو اپنے اپ کو بے گناہ ثابت کر نے کا موقع دیا جائے لیکن یہاں نہیں اس دیس میں ایسا نہیں یہاں تو انسانی حقوق تو کجا ہم سے جینے کا حق چھینا جارہا ہے۔


