رامز کی شہادت سے پہلے بھی ہم نے لاشیں اٹھائی ہے،سیاسی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہونگے،ظریف رند اور دیگر کا تعزیتی ریفرنس سے خطاب

تربت (نمائندہ انتخاب) سی ٹی ڈی اور کرائم برانچ کے ہاتھوں گزشتہ ماہ مبینہ طورپر شہید ہونے والے کمسن بچہ، بی ایس او کے چیئرمین ظریف رندکے بھتیجا رامز خلیل کی رسم چہلم کے سلسلے میں سلو بلیدہ میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیاگیا، تقریب سے خطاب کرتے بی ایس او کے چیئرمین کامریڈ ظریف رندنے کہاکہ رامز کی شہادت کے بعد جو جدوجہد ہم نے شروع کیاہے ہمارے احتجاج کا مقصد ایک فرد کو ذمہ دار ٹھہرانا نہیں ہے بلکہ ہم اس جنگی جنونیت اور ذہنیت کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں جو ایک مرتبہ پھر علاقہ کو تاراج کرکے اپنی جاگیردارانہ فرسودہ سوچ کے ذریعے تباہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، شہید رامز جان کی شہادت سے پہلے بھی ہم نے لاشیں اٹھائی ہیں مگر سیاسی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوئے ہیں بلکہ سیاسی جدوجہد اور علم وقلم کی طاقت سے ہم ہر فرسودہ ذہنیت اور سوچ کے خلاف شعوری جدوجہد کو جاری رکھیں گے، جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی رہنماء سابق سنیٹر ڈاکٹر اسماعیل بلیدی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مکران کی تاریخ میں پہلی بار شہید رامز کی تابوت کولیکر تاریخ رقم کردیا کہ بلیدہ ومکران کے عوام ظلم وزیادتی کے خلاف خاموش نہیں رہیں گے، انہوں نے کہاکہ یہ عوامی جدوجہد کانتیجہ ہے، بلوچستان میں آج ہر طرف عوام کیلئے زندگی تنگ ہے، حکمرانوں کو ہماری سرزمین کی ضرورت ہے عوام کی نہیں، انہوں نے کہاکہ سیاسی میدان میں ہم جدوجہد کے حامی ہیں اور سیاست سے دستبردار نہیں ہوں گے، انہوں نے کہاکہ بلیدہ زامران کی عوام کیلئے ہم نے سیاسی جدوجہد کی ہے آج جو لوگ عوام پر مسلط کیے گئے ہیں وہ سلیکٹ کیے گئے ہیں عوامی نمائندے نہیں بلکہ عوام ان سے بے زار ہے، بی ایس او کے مرکزی رہنما ء کامریڈ جیہند بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ شہید رامز بلوچ کو سلام پیش کرتاہوں کہ انہوں نے ریاستی مشینری کے سامنے اور بی ٹیم کے سامنے شہادت وصول کی انہوں نے کہاکہ سامراجی عزائم کی تکمیل کیلئے مختلف حربے آزمائے جارہے ہیں، شہید رامز کو انصاف دلانے کیلئے مکران سے جھالاوان و سراوان کی عوام نکل پڑے انہوں نے کہاکہ رامز نے ایک ٹرینڈ چلاکر عوام کو خواب غفلت سے جگایا،بلوچستان سمیت آج بین الاقوامی سطح پر جاگیردارانہ سوچ اور سامراجی عزائم کی تکمیل کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں،آج بلوچستان میں ہر طرف خونریزی ہے،آج ہماری شناخت کو خطرات درپیش ہیں، لوگوں کو بیروزگاری وغربت کے سامنے آج مجبور کرکے تباہ وبرباد کیاگیاہے،آج نصیرآباد میں پانی کابحران پیدا کرکے زمینوں کو ہڑپ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،اور لوگ ہجرت پر مجبور ہیں،بی این پی عوامی کے ضلعی صدر کامریڈ ظریف زدگ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ شہید رامز کی شہادت کا واقعہ مکران کی سطح پر ایک دردناک سانحہ تھا انہوں نے کہاکہ شہید رامز کا قصور کیاتھا کہ انہیں بے دردی سے شہید کیاگیا،انہوں نے کہاکہ بلیدہ زامران میں مسلسل ایک فیملی کو نشانہ بناکر انہیں سیاست سے دستبردار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، آج ہمیں ایسے عزائم رکھنے والوں کے خلاف سد سکندری بن کر کھڑا ہونا ہے جو پرامن سیاست کو بزور طاقت دبانا چاہتے ہیں،انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر حیات بلوچ مکران کی سطح پر سیاست میں ایک عظیم نام تھے اور ایک سیاسی جہدکار تھے ان کے وارث بھی سیاسی شعور سے لیس ہیں، آج بلوچستان میں سیاسی شعور کو دبانے کیلئے غیر سیاسی عناصر کو مسلط کردیاگیاہے، نوجوان قلمکار یلان زامرانی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان پر مخصوص ایجنڈے کی تکمیل کیلئے باپ سرکار کو مسلط کیاگیا مختلف لوٹوں کو یکجا کرکے ان کے ذریعے انہیں غیبی مدد سے اقتدار سونپا گیا اور آج بلوچستان میں مختلف علاقوں سے عوام کو آپس میں الجھانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ عوام آپس میں دست وگریباں رہیں اور اپنے حقیقی مسائل پر آواز نہ اٹھا سکیں، بلوچستان میں غیر سیاسی سوچ اور نظریے کی پرچار کیلئے سیاسی نظریات اور قلم وکتاب کے مقابلے میں خوف اور بندوق کی نفاذ جاری ہے،رامز خلیل کی شہادت کے پیچھے جاگیردارانہ اور غیر سیاسی سوچ کار فرماہے تاکہ معاشرے سے قلم اور کتاب کی پرچار کرنے والوں کے سامنے جاگیردارانہ سوچ کو مضبوط کیاجاسکے لیکن رامز خلیل کی شہادت سے جاگیردارانہ سوچ کے حامل ٹولوں کو ناکامی کاسامنا کرنا پڑا اور رامز جان تاریخ میں امر ہوگئے، انہوں مے کہاکہ بلیدہ زامران کے نوجوان باشعور ہیں اپنے فرائض سے بخوبی واقف ہیں، اور اپنے حقوق کیلئے آواز ضرور اٹھائیں گے، سیاسی وسماجی رہنما میران حیات بلوچ نے کہاکہ علاقے کو تباہی کے دہانے پہنچانے کیلئے سیاسی نظریات وسوچ کے سامنے مختلف حربے تسلسل کے ساتھ آزمائے جا رہے ہیں مگر ہم غیر سیاسی سوچ کے سامنے سیاسی سوچ کے ساتھ جدوجہد کرتے رہیں گے اور ان کے عزائم کو ناکام بنائیں گے، معروف سیاسی وسماجی شخصیت عبدالعزیز آسکانی،بی این پی کے کامریڈ برکت بلیدی،رژن اسکول کے ڈائریکٹر شاہ فیصل بلوچ،ثناء اللہ عبدالرحمن، ضیاء بلوچ نے خطاب کیاجبکہ آخرمیں میرحبیب الرحمن بلوچ نے تمام مہمانوں کاشکریہ اداکیا، پروگرام میں بلیدہ زامران کے معروف سیاسی وسماجی شخصیات میربشام بلیدی، بی این پی عوامی کے ضلعی جنرل سیکریٹری احدالہٰی، ابراہیم زامرانی، حاجی عمر شاہ جی، رشید شاہ مراد زئی، عبدالسلام شمبے زئی، ماسٹر یٰسین بلوچ، حاجی سعید احمد، بی ایس او کے خلیفہ برکت، یاور بلوچ،صغیرساگر، سدھیر ولی، عقیل جلال، عارف کہدہ نواب،معروف آرٹسٹ شریف قاضی، قدیر راہچار، عبدالمالک بلیدی سمیت متعدد سیاسی وسماجی اور علاقائی معززین نے کثیر تعداد میں شرکت کی،پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیاگیا جس کی سعادت حافظ نور احمد نے حاصل کیاجبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض بی ایس او کے رہنماء کامریڈ ظفر رند نے سرانجام دیئے جبکہ آخرمیں معروف آرٹسٹ شریف قاضی کا بنایا گیا شہید رامز کے پورٹریٹ ان کے والد خلیل رند کوپیش کیاگیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں