بس مارکس لے لو

تحریر: اذنان مگسی

ہم کس طرف نکل پڑے ہیں نہ ہی ہم اچھے سے مسلمان ہیں اور نہیں اچھے انسان ہیں اور نہ ہی ہم نے سائنس میں میدان مار لیا ہے ھمارے زیاد تر ادارے تباہ نہ جینے کا ڈھنگ نہ صاف رہنے کا سلیقہ بس کیا کہوں ہم کہاں کھڑے ہیں ہم میں ہر چیز کا بحران ہے۔

دار اصل پتہ ہے قوم کی ترقی کا معیار اس کی education اور ایجوکیشن میں استعمال نصاب سے نظر آتا ہے جب ہم اپنا نصاب چیک کر تے ہیں تو اس میں اسلامیات لازمی اور اس میں پیارے نبیؐ کی پوری زندگی اور انکی احادیث موجود ہیں۔

اور جب سائنس کے نصاب کو چیک کرتے ہیں تو وہ بھی ٹھیک نکل آتا ہے ہے اور ہر سال امتحانات ہوتے ہیں بچے شاندار طریقہ سے پوزیشن بھی لیتے ہیں سائنس کے مضمونوں میں %90 بھی مارکس آتے ہیں اور اسلامیات میں تو ہم کبھی کبھی %99 مارکس بھی حاصل کرتے ہیں ھمارے بڑے چرچے ہوتے ہیں۔

لیکن جب corona آتا ہے تو ویکسین کے لیے چین کی طرف جولی پھلاتے ہیں ساری ہیوی machinary ہم باہر سے لاتے ہیں اسلامیات پڑھ کہ بھی کرپشن کرتے ہیں ناقص اشیاء تیار کرتے ہیں دوھکہ تو ہم چالاکی سمجھ کے کرتے ہیں
اس سب کی وجہ یہ ہے کے ہم صرف مارکس کے لیے پڑھتے ہیں نصاب میں موجود تمام مواد ہم رٹا لگاتے ہیں اور مارکس حاصل کرنے کے بعد ہم نصاب
کی باتوں کو ہوا میں اڑا دیتے ہیں اور
ھمارے ملک کا نظام بھی ماشاءالله جس
کے جتنے زیادہ مارکس وہ اتنا بڑا افسر
بس وہ بندہ جس نے مارکس کے لیے پڑھا تھا
اسے اب ان نصاب والی نصحیتوں سے کیا غرض ۔یہ وجہ ہے آج تک ہم نے سائنس کی فیلڈ میں ناکام رہے ہیں اور 22 کروڑ آبادی والا ملک اب تک ایک ایسا scientist بھی نا پیدا کر سکا جو ہمیں ٹیکنالوجی کے میدان میں خود کفیل بنا سکتا لیکن کیوں کے ہم مارکس کے لیے پڑھتے ہیں اور وہ آ بھی جاتے ہیں بس ہمیں کیا ملے گا ریسرچ کر کا ہماری جگہ چین کر رہا ہے یورپ کر رہا ہے ہمیں بھی دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں