انسانوں کے حقوق اور اُن کی زمہ داریاں
تحریر: ممتاز عالم بازئی
دھرتی کے سب سے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر دورِ حاضر تک جتنے بھی انسان آۓ ہیں ان کے حقوق اور ان کی زمہ داریاں ان کے ساتھ آئی ہیں۔ بنی آدم کو تخلیق کرنے والی ذات اللہ رب العزت کی ہے اس لئے انسان کو اس دنیا میں آتے ساتھ ہی ان کے حقوق دیے گئے اور ان پر کچھ زمہ داریاں بھی ڈالی گئی تاکہ کسی کی بھی حق تلفی نہ ہو سکے۔
اسلام نے عورتوں کے حقوق، بچوں، بوڑھوں کے حقوق، اساتذہ کرام، ہمسایوں کے حقوق حتیٰ کہ جانوروں کے حقوق بھی بیان کیے ہیں اور ساتھ ہی میں انسانوں کو زمہ داریاں بھی دی گئی ہیں تاکہ کسی کے بھی حقوق کی پامالی نہ کی جاۓ اور کوئی اپنے حق سے محروم نہ رہ جاۓ۔ انسانوں کے حقوق اور زمہ داریاں نہ صرف اسلام میں موجود ہے بلکہ دنیا میں موجود ہر مذہب انہی حقوق اور ذمہ داریوں کی ترغیب دیتا ہے۔
انسانی ذمہ داریاں کئی قسم کی ہوتی ہیں جیسا کہ کچھ عمل کر کے اپنی ذمہ داری پوری کی جاۓ اور بازاوقات کسی عمل سے پرہیز کر کے اپنی ذمہ داری پوری کی جاتی ہے۔
حقوق تلفی میں انسانی جان کو نقصان پہنچانا، ان کی عزت کو نقصان پہنچانا، ان کی چادر و چار دیواری کو پامال کرنا، ان کی نسل، رنگ، ذات، رسم وروایات اور مذہب کو نقصان پہنچانا، انہیں ایسی چیزوں اے محروم رکھنا جس پر ان کا حق ہے، انہیں ایسی چیزوں میں دھکیلنا جس پر ان کی رضامندی شامل نہ ہو یا پھر انسان کے ایسے حقائق جو انہیں مذہب یا قانون نے دیے ہوں ان سے روکنا، یہ وہ ساری چیزیں ہیں جن سے روکنے کی اجازت نہ کوئی مذہب دیتا ہے، نہ کوئی قانون، نہ کوئی معاشرہ اور نہ ہی کوئی روایت۔
میرا یہ ماننا ہے کہ انسانوں کے حقوق کا دارومدار ان کی ذمہ داریوں پر ہے اور جب ہر انسان اپنی جگہ اپنی زمہ داریاں سنبھالے تو دوسروں کے حقوق خود بہ خود پورے ہو جاتے ہیں۔ اور جب ہر کوئی اپنے اپنے حقوق کی رٹ لگاۓ بیٹھا ہو اور کوئی بھی اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کر رہا ہو تو انسان کی پوری زندگی حقوق مانگتے مانگتے گزر جاۓ گی کیونکہ کوئی شخص اپنی ذمہ داری ادا کرنے کو تیار نہیں اور اسی طرح دوسروں کی حق تلفی ہوتی رہتی ہے۔ ہر شخص دوسرے کے حقوق کی پامالی کرتا ہے اور ہر شخص کو اپنے حقوق بھی چاہئیے ہوتے ہیں جو کسی کو نہیں مل رہا ہوتا۔
انسانوں کی ذمہ داریاں یہ ہیں کہ اپنے رویے اور برتاؤ کو دوسرے انسانوں کے ساتھ اچھا رکھے۔ ماں، باپ، بہن، بھائی، رشتہ دار، اساتذہ، ہمسایان اور معاشرے میں موجود ہر شخص کے ساتھ اپنا رویہ اچھا رکھے۔ قانون کی خلاف ورزی نہ کرے، کسی کا حق نہ کھاۓ اور نہ ہی کوئی ایسا عمل کرے جس سے کسی کی دل آزاری ہو اور نہ ہی کمزور کی حق تلفی پہ خاموش رہے۔ لوگوں کی عزت کرے ان کے جان ومال ان کی رنگ و نسل، رسم و روایات اور مذہب کو نقصان نہ پہنچاۓ۔ مختصراً یہ کہ یہی وہ ذمہ داریاں ہیں جو اگر ہر شخص اپنی جگہ ادا کرے تو مختلف لوگوں کو ان کے حقوق خود بہ خود مل جائینگے۔


