انسانی حقوق پر ایک نظر

تحریر: نعمت اللہ خان

انسانی حقوق دور اول سے انسانی تہزیب میں تھے اور اس وقت وجود رکھتے تھے جب انسان کچھ جانتا نہ تھا۔
جیسے ہر چیز کا ارتقاء ہوتا رہتا ہے اسی طرح انسانی حقوق کی بھی ایک ارتقاء ہے اور آج اس حال میں موجود ہے۔
اس کی شروعات ابھی تک معلوم نہیں کیا جاسکتا کہ کب شروع ہوا کیوں کہ اُس وقت لکھنے کا کلچر نہیں تھا نہ ہی لکھنا ایجاد ہوا تھا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دور اول میں انسانی حقوق کہ کوئی وجود نہ تھا۔
اس کی شروعات کو ہم عراقی کہتے ہیں کیوں کہ ہمارے پاس اس وقت کے تحریر موجود ہیں۔ انسانی حقوق کہ پہلا تحریر یا ترتیب کو ہم نمرود کی قانون کے نام سے جانتے ہیں جس نے ہمیں قصاص کا خیال دیا۔
پھر فرعون آیا جس نے وراثتی جائیداد کے بارے میں نیا حقوق لایا۔اس کے مطابق ورثتی جائیداد صرف خاندان والوں کو ہی مل سکتا ہے۔
سائرس اعظم نے مزہبی آزادی دی۔ ہر کوئی کو اپنے مذہب کی عبادت کرسکتاہے۔
اسلامی دور نے سب بنیادی حقوق کو ترقی دی اور عورت کی حقوق کو زیادہ ترجی دیا۔
یورپ میں یہ میگناکارٹا چاڑٹر کی شکل میں آیا کیوں کہ غلامی کا دور تھا لوگوں نے انکار کیا شاہ کی غلامی کرنے سے۔ اُن کے درمیان ایک معاہدہ ہوا اور رعیایا کو اُن کا بنیادی انسانی حقوق ملے۔
آخر میں UDHR آیا جو 1948 میں پیش ہوا آقوامِ متعدہ میں جس کے کل تیس آرٹیکل ہیں
یہ تھی انسانی حقوق پر ایک نظر یہ وہ بنیادی حقوق کی تاریخ تھی کہ جو کبھی ماننے نہیں گئے۔ اِن کو کبھی کسی ملک نے نہیں ماننا بس دکھانے کے لئے ہیں تاکہ دوسرے سیاروں کے لوگ یہ دیکھ سکے کہ ہمارے ہاں انسانی حقوق کے نام جیسی چیز موجود ہے جو صرف انسان کی بات کرتی ہے۔ انسانی زندگی کی اہمیت کی بات کرتی ہے لیکن ہمیں کیا انسانی زندگی کی کوئی اہمیت ہے؟
مجھے میں لگتا کہ انسانی حقوق، انسانی حقوق کہلانے کے لائق ہیں کیوں کہ یہ نہ انسان کے حقوق کی پاسداری کرتے ہیں نہ جانداروں کے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں