بے روزگاری۔ایک ساجی برائی
تحریر:عبدلواسط خان اچکزئی
بے روز گاری ایک عالمی مسئلہ ہے ۔امریکہ ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی جیسے امیر اور ترقی یافتہ ممالک میں بھی بیروزگاری پائی جاتی ہے ۔ایشیائی ممالک میں بیروزگاری زیادہ ہے۔ پاکستان بھی اس مجبور کی زد میں ہے ۔ بیروز گاری ایک ساجی برائی تصور کی جاتی ہے جس سے خطرناک حالات جنم لیتے ہیں ۔اس سے فاقہ طاری ہوتا ، بیماری پھیلتی ہے موت کے منہ میں لے جاتی ہے می معاشی زہر ساری سوسائٹی میں پھیل جا تا ہے اور ملک کی سیاسی صورتحال بھی متاثر ہوتی ہے ۔ مہلک اثرات:۔
بیروز گاری قانون کا احترام کرنے والے اچھے شہریوں کو مجرم اور ڈاکو بنا دیتی ہے ۔ اس سے بدعنوانی پھیلتی ہے اور جھوٹ بڑھتا ہے اور انسانی کردار کا تاریک پہلو سامنے آ جا تا ہے۔ بے روز گار آدمی سے سچائی ،شرافت اور ایمانداری کی توقع کرنا ناممکن ہو جا تا ہے۔ وہ اپنے اور بیوی بچوں کیلئے دووقت کا کھانا اور بیماری میں دوائی میسر نہیں کر سکتا تو اس سے اچھے امور توقع کرنا کیسے ممکن ہوسکتا ہے اسے عزت کی زندگی سے جینا محال ہو جا تا ہے ۔ایک کسان جوسیدھا ہوکر اپنی زمین پر ہل چلاتا ہے وہ اس شریف آدمی سے بہتر ہے جو مجبوری کے ہاتھوں جھکا ہوا ہے ۔ غربت اور بیروزگاری سٹیٹ کی بڑی کمزوری اور نااہلی مانی جاتی ہے ۔ بیروزگاری سے بے اطمینانی پیدا ہوتی ہے بے اطمینانی سے سیاسی بے چینی اور حکومت کی اطاعت سے انحراف کے جزبات ابھرتے ہیں ، سیاسی نفرت سے بغاوت جنم لیتی ہے اور بھر بغاوت انقلاب کی صورت میں نمودار ہو جاتی ہے ۔ حکومت کا فرض ہے کہ بے روزگاری کیلئے موثر اقدام اٹھاۓ تا کہ لوگ اپنے کاموں میں مصروف رہیں اور غیر صحت مندانہ ماحول پیدا نہ ہو۔ برطانوی فلاسفر سرڈ بلیو بیوریج کا تجز یہ ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ بیروزگارافرادکوز مین پرگڑھے کھودنے پر لگاۓ رکھے اور پھر انہیں پر کرانے پر مامور رکھے۔ یہ زیادہ مؤثر قدم ہے نہ کہ بیروزگاری کے مہلک اثرات حکومت پر حاوی


