عنوان ضروری نہیں

تحریر: جمشید حسنی
سعودی عرب سے تین ارب ڈالر مل گئے۔کیسے یہ نہ پوچھیں روپیہ کی گراوٹ معمولی تھم گئی مگر سالانہ9.5ارب ڈالر سود بیرونی قرضوں پر دینا پڑتا ہے۔اسٹیٹ بینک کے ذخائر ڈیڑھ ارب ڈالر کم ہوگئے۔وہ پہلے1.2ارب ڈالر مارکیٹ میں بیچ چکا ہے۔ہم فیٹف کی گرے لسٹ سے نہیں نکل سکے۔؛ترکی،اردن،مالی بھی گرے لسٹ میں چلے گئے۔افراط زر12فیصد ہے مہنگائی 14.48فیصد بڑھی ہے گھر یلو گیس سلنڈر 2321روپیہ کا ہے۔برآمدات 7.2ارب ڈالر ہے۔درآمدات 17.58فیصد ملک میں ہر نومیں سے ایک خاتون چھاتی کے سرطان میں مبتلا ہے۔پی ٹی آئی کے پرویز خٹک کے ایم پی اے بھائی لیاقت خٹک پی پی پی میں شامل ہوگئے۔زرداری سے معاملات طے پاگئے ہم بس کرکٹ کی وباء میں مبتلا،پی ٹی وی پر سابق کرکٹ اور اینکر پرسن میں تلخ کلامی ہوئی معاملہ کی تحقیقات ہوگی سابق کرکٹ بیچارے پھر ٹی وی پر واشنگ پاؤڈر اور پیپسی کے اشتہاروں میں نظر آتے ہیں۔
سپریم کورٹ بار کونسل کے انتخابات ہوئے،پیپلزپارٹی کے لطیف کھوسہ ہار گئے۔929ووٹ لئے حسن بھون نے1548ووٹ لئے تاجر خوش ہیں اردن نے پاکستان کے تین سلاٹر ہاؤس کو بھیڑ بکری اونٹ کا گوشت درآمد کرنے کی اجازت دی غریب آدمی پہلے ہی 1200روپیہ کلو گوشت نہیں کھا سکتا پہلے چینی گندم برآمد ہوتی چینی 150روپیہ کلو ہوگئی آٹا75روپیہ کلو کہتے ہیں گنے کی پیداوار 25فیصد بڑھی،چینی کے کارخانے تو زرداری‘ جہانگیر ترین‘ شریف خاندان کے ہیں۔
ادھر صوبہ میں پہلے یار محمد رند فعال ہوئے کرسی خالی دیکھ کر ان پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے وزیراعلیٰ بننے کی خواہش ظاہر کی پرویز خٹک پہنچ گئے اور کہا باپ ہماری مرکز میں اتحادی پارٹی ہے پہلے یار محمد رند نے بیٹے سردار خان کو سینیٹر بنانا چاہا وہاں بھی دال نہیں گلی۔قدوس بزنجو کا تعلق آواران سے ہے مجید بزنجو ان کے والد ہیں۔ہم نے پہلے کہا تھا کچھ نہیں ہوگا ”پگ بدلیں گی“ترقیاتی عمل وہی ہے جو سالانہ ترقیاتی منصوبہ میں ہے کوئی نیا پروجیکٹ نہیں۔مرکز مطمئن ہے کہ صوبائی حکومت اس کے لئے مسائل نہیں کھڑے کرسکتی پنجاب،کے پی میں بلدیاتی انتخابات کا اعلان ہوگیا ہے ہمارے ہاں کچھ نہیں بہرحال انتخابات دیر یا بدیر آخرکروانے ہوں گے پنجاب میں تحریک لبیک پاکستان کے مظاہرے ہیں چار پولیس والے مارے گئے معاملات الجھے ہوئے ہیں کہتے ہیں تحریک لبیک کا لعدم پھر دوسری طرف مذاکرات ہوتے ہیں ادھر حزب اختلاف مہنگائی کے خلاف مظاہرے حکومت نہ بھی گرے عام آدمی کے لئے مشکلات بڑھیں گی قیمت عام آدمی کو چکانی پڑتی ہے۔سماجی معاملات ٹھپ ہوجاتے ہیں سپریم کورٹ سندھ رجسٹری نے2727بھرتیوں میں 313جعلی بھرتیوں کے معاملہ میں سندھ ہائیکورٹ کا برخاستگی کا حکم برقرار رکھا ہے۔ہماری اخلاقی قانونی حکمرانی کی قدریں کیا ہیں کیا یہ سب بڑوں کی مرضی کے بغیر ممکن تھا۔کراچی میں نیسلا ٹاور کی غیر قانونی عمارت گرانے کا حکم ہے۔تجوری ہائٹس کی ناجائز عمارت بھی گرائی جائیگی۔آخر یہ سب راتوں رات تو نہیں ہوا۔
یمن میں حوثی باغیوں پر سعودی عرب نے بمباری کی ہے اب تک 1800حوثی باغی مارے جاچکے ہیں سوڈان کے فوج نے حکومت کو ہٹا کر اقتدار سنبھال لیا ہے مظاہروں میں 7لوگ مارے گئے۔افغان معاملات میں اقوام عالم کی دلچسپی کم ہوگئی ہے حکومت تسلیم نہیں ہورہی۔ادھر ہم معاملہ کو اچھال رہے ہیں۔کسی نے کہا تجھ کو پرائی کیا پڑی تو اپنی تو بیڑ۔ہم کب سدھریں گے۔۔تبدیلی آرہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں