انسانیت اپنی آخری سانس لے رہی ہے
تحریر: سید نعیم شاہ
انسانی حقوق کی بات کی جائے تو لفظ ختم ہو جائیں گے مگر حقوق بیان نہیں ہو پائیں گے ہر انسان کے دوسرے انسان پر کچھ حقوق ہوتے ہیں جو کہ ہر انسان کو خود ادا کرنے ہوتے ہیں لیکن افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج کل کے معاشرے میں کسی بھی انسان کو اس کے حقوق نہیں مل رہے ہیں ہر انسان کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ اپنی رائے کا اظہار کر سکیں کوئی برائی دیکھے تو اس کو ختم کرنے کی کوشش کریں اس دنیا میں مختلف لوگ رہتے ہیں ہر کسی کا اپنا رائے ہوتا ہے لیکن افسوس ہم نے آپنے آپ کو ایسا بنایا ہے کہ ہمارے جسم و دماغ سے انسانی حقوق بلکل مٹ چکے ہیں۔ انسانی حقوق سے مجھے ایک دلخراش واقعہ یاد آیا۔ مجھے وہ دلخراش واقعہ ابھی بھی یاد ہے اس سال کے جنوری مینے میں بلوچستان کے علاقے مچھ میں دلخراش واقعے جب پیش آیا تو لواحقین نے اپنے بنیادی حق کے لئے کوئٹہ کے مغربی بائی پاس میں متاثرین کے لواحقین نے دھرنا دیا تھا اور لواحقین کا کہنا تھا کہ عمران خان کی نا آنے تک ہم اپنی لاشوں کو نہیں دفنائیں گے اورمزید لواحقین کا کہنا تھا کہ جب تک وزیراعظم عمران خان ہمارے مطالبات نہ مانتے ہیں اور وہ کوئٹہ میں تشریف نہ لائے تب تک وہ دھرنا لاشوں کے ساتھ جاری رہے گا اس میں کوئی شک نہیں کے ہزارہ برادری کے ساتھ اس وقت انتہائی ظلم ہوا اور اس کے بعد عمران خان نے بطور الیکٹرونک میڈیا یہ اعلان کیا تھا کہ ہم نے آپ کے سارے مطالبات مان لیں لہٰذا آپ اپنے لاشوں کو دفنائیں کوئٹہ میں جاری دھرنے میں مسلم لیگ ن کے نائب صدر مریم نواز نے بھی شرکت کی تھی مریم نواز نے دھرنے میں اپنی تقریر میں کہا تھا کہ عمران خان نہ آئے تو قوم کرسی پر بیٹھنے نہیں دیگی اور مزید یہ بھی کہا تھا کہ وزیر اعظم اپنی انا چھوڑ کر کوئٹہ آئے اب میں یہاں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی تقریر پر تھوڑا وضاحت کرتا ہوں کہ یہی مریم نواز کہاں تھی جب اس سے پہلے اسی ہزارہ برادری کے ساتھ ایسا ہی ظلم ہوا یہی محترمہ تب کہاں تھی جب اس کے ابّاجان نواز شریف صاحب وزیراعظم تھے اسی طرح محترم سابق صدر کا صاحبزادہ بلاول بھٹو زرداری بھی اس دھرنے میں شریک ہوئے تھے بلاول بھٹو زرداری نے خصوصی فلائٹ سے کوئٹہ آنے کی زحمت کی تھی انہوں نے بھی اپنی تقریر میں کہا تھا کہ یہاں ہر چیز مہنگی ہے عوام کا خون سستا ہے میں بلاول بھٹو کہ تقریر پر بھی یہی کہتا ہوں کہ تب آپ کہاں تھے جب آپ کے ابا جان محترم آصف علی زرداری پاکستان کے صدر تھے اور کوئٹہ میں معصوم جانے ضائع ہوئی تھی اور لاشوں کے ڈھیر لگی ہوئی تھی تب تو نہ اپ ہمیں نظر آئے اور نہ آپ کے محترم ابا جان میری نظر میں ہزارہ برادری کے ساتھ اس وقت انتہائی ظلم ہوا تھا اور کوئٹہ کی اس شدید سردی میں اپنے پیاروں کے ساتھ احتجاجی دھرنا کوئی آسان کام نہیں تھا اور حکومت ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کہ صرف نظارے کر رہے تھے یہاں پر صرف ہزارہ برادری کے ساتھ نہیں بلکہ پورے بلوچستان کی عوام کے ساتھ ظلم ہوتا ہوا ہم برسوں سے دیکھ رہے ہیں میرے خیال کے مطابق اس دھرنے میں جیتنے سیاسی جماعت والے آئے تھے وہ صرف اور صرف اپنی سیاست چمکانے آئے تھے اور اس کے بعد مجھے وہ بھی یاد ہے جب مسلم لیگ ن کے نائب صدر مریم نواز نے اپنی اکاونٹ سے ایک پوسٹ سوشل میڈیا پر جاری کی تھی کہ جس میں انہوں نے یہ کہا تھا کہ میرا کوٹ آنسو سے تر ہو گیا مریم نواز کی یہ بات یقینا افسوسناک تھی لیکن اس وقت مجھے بڑی ہنسی آئی تھی کہ شکر ہے آپ نے یہ نہیں کہا تھا کہ میرا برینڈڈ اور مہنگا کوٹ متاثرین کے لواحقین کی آنسو سے خراب ہوگئی میرے خیال کے مطابق یہ سیاسی نہیں بلکہ منافق لوگ تھے جو دل میں الگ اور عوام کو الگ روپ دکھاتے ہیں یہاں عمران خان کی بھی تھوڑی وضاحت کرتا ہوں کہ اس نے کیا غلطی کیا تھا میرے مشاہدے کے مطابق عمران خان کو دھرنے کے پہلے دن کوئٹہ آنا چاہیے تھا اور دھرنے کے پہلے دن کو لواحقین کے سر پہ ہاتھ رکھ کے سارے مطالبات ماننے چاہیے تھے اس مطالبات سے تو لواحقین اپنے پیاروں کو تو نہیں لاسکتے تھے لیکن تھوڑی ہمدردی ضرور ہوتی اگر وزیراعظم عمران خان پہلے دن دھرنے میں شریک ہوتے تو شاید اس وقت عمران خان پر تنقید نہ ہوتی عمران خان کو اس کا احساس ہونا چاہیے کہ آخر کب تک ظلم جاری رہے گا ہم عمران خان سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ ہر انسان کو اپنی رائے کا حق یقینی بنائے اور اس معاشرے کو یہ پیغام دے کہ ہمیں انسانی حقوق ادا کرنے چاہیے۔


