طلباء کی جبری گمشدگی، جامعہ بلوچستان دوسرے روز بھی بند، دھرنا جاری
کوئٹہ(انتخاب نیوز) طلباء تنظیموں اور جامعہ بلوچستان کے طالب علموں کی جانب سے یونیورسٹی ہاسٹل کے اندر سے مبینہ طور پر لاپتہ کرنے کے خلاف گزشتہ دنوں طلباء نے یونیورسٹی کو بند کر دیا تھا جس کے بعد جامعہ میں ہونے والے تمام کلاسز اور امتحانات کینسل ہو گئے تھے۔ گزشتہ رات طلباء تنظیموں اور جامعہ کے طالب علموں کی جانب سے ایک پریس کانفرنس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا تھا کہ جب تک طالب علموں کو بازیاب نہیں کیا جاتا اس وقت تک یونیورسٹی بند رہے گا۔ جبکہ طلباء نے اپنے پریس کانفرنس میں طلباء کی گمشدگی کی ایف آئی آر وائس چانسلر بلوچستان اور دیگر زمہ داران کے خلاف درج کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ اسی طرح آج دوسرے دن بھی طلباء کی جانب سے جامعہ کے اندر دھرنا جاری رہا۔ کل رات یونیورسٹی کی طرف سے جاری ایک اعلامیے میں آج یونیورسٹی کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ دوسری جانب طلباء نے بھی لاپتہ طلباء کی بازیابی تک یونیورسٹی کو بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ آج دوسرے دن اکیڈمک اسٹاف اسوسی ایشن بلوچستان یونیورسٹی نے طلباء کے دھرنے میں شرکت کرتے ہوئے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور انہیں ان کی جدوجہد میں ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی اور طلباء کے مطالبات کی حمایت کا اعلان بھی کیا۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے بھی طلباء کے مسئلے کا نوٹس لیتے ہوئے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی جنہیں 24گھنٹوں کے اندر رپورٹ جمع کرانے کا کہا گیامگر اب تک طالب علموں اور تین رکنی کمیٹی کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہوئے ہیں۔ جبکہ طلباء کی جانب سے دھرنا جاری ہے اور انہوں نے ون پوائنٹ ایجنڈا رکھا ہے کہ جب تک طلباء بازیاب نہیں ہوتے یونیورسٹی بند رہے گی۔


