مشیر خزانہ کا بلوچستان میں مہنگے آٹے کی فروخت پر اظہار ناراضگی
اسلام آباد:مشیر خزانہ شوکت ترین نے صوبہ سندھ اور بلوچستان کی حکومت کو گندم کے وفاقی حکومت کی طرف سے آٹے کی ریلیز کے باوجود قیمتوں میں کمی نہ ہونے پرناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومتوں کو کھاد کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ بدھ کو مشیر خزانہ شوکت ترین کی زیر صدارت نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ملک میں گندم،چینی،دالوں، مرغی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ملک میں ہفتہ وارایس پی آئی صورتحال کے بارے میں سیکرٹری خزانہ نے بریفنگ دی اور کہاکہ اس ہفتے میں چھ ضروریات اشیاء کی قیمتوں میں کمی کا رجحان رہا اور پندرہ اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا،دال مونگ اور پیاز کی قیمتوں میں اس ہفتے میں نمایاں کمی رہی۔ سیکرٹری خزانہ نے کہاکہ حکومت کی طرف سے متعین کردہ قیمت پر20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت گیارہ سو روپے اسلام آباد صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومتوں کی فعل کوشش کی وجہ سے اس ہفتے بھی برقرار ہی۔صوبہ سندھ اور بلوچستان کی حکومت کو گندم کے وفاقی حکومت کی طرف سے آٹے کی ریلیز کے باوجود قیمتوں میں کمی نہ ہونے پر مشیر خزانہ نے اظہارناراضگی کیا۔ سیکرٹری خوراک نے بتایاکہ اس وقت ملک میں پاسکو اور صوبوں کے پاس گندم کے ذخائر وافر تعداد میں موجود ہیں۔مشیر خزانہ نے صوبائی حکومتوں کو کھاد کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت اقدامات کی ہدایت کی ہے انہوں نے کہاکہ حکومت ناجائز ذخیرہ اندوزوں کے خلاف پر عزم ہے۔انہوں نے کہاکہ ناجائزذخیرہ اندوزی کے خاتمے کے لیے قانون پرجلد عملدرآمد شروع کیا جائے۔


