چیک پوسٹوں پر تذلیل، لاپتہ افراد اور بارڈر ٹریڈ پر بندش سے بلوچستان کے نوجوان حکمرانوں سے ناراض ہیں، ہدایت الرحمان بلوچ

کوئٹہ : جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی بلوچستان،گوادر مکران کو حق دوتحریک کے بانی مولاناہدایت الرحمان بلوچ نے کہاکہ چیک پوسٹوں پر تذلیل،آئین معاشی حقوق،بارڈرٹریڈپر بندش،تعلیم وصحت کے منصوبوں،سی پیک کے ثمرات،روزگار،تعلیم سے محرومی،ہر نوجوان کو شک کی نگا ہ سے دیکھنا،،بے گناہوں لاتعلق افرادکو لاپتہ کرنے جیسے نارروااقدامات ومظالم کی وجہ سے بلوچستان کے نوجوان حکمرانوں سے ناراض ہیں۔ہمیں نارواناجائز خلاف قانون اقدامات پر مجبور کرنے والے ہمیں قانونی طریقے سے حقوق دیں اور ہمارے مطالبات فی الفور تسلیم کریں بصورت ہم مکران ڈویژن کیساتھ پورے بلوچستان کو بند کریں گے۔ شٹرڈاؤن،پہیہ جام وہڑتال اورکفن پوش احتجاج سمیت ہرقانونی طریقہ اختیار کریں گے۔ان خیالات کااظہارانہوں نے گوادر میں حق دو تحریک کے زیراہتمام عوامی احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کی بدنیتی،بددیانتی، قول وفعل میں تضاد اہل بلوچستان کی قسمت میں ہمیشہ لاشیں،احتجاج،ردعمل واحساس محرومی ہیں۔بدقسمتی سے بلوچستان کے عوام ونوجوانوں کے حوالے سے حکمرانوں کے فعل وقول میں ہمیشہ تضادرہا ہے۔ گوادر وبلوچستان کو حق دو تحریک کی بدولت انشاء اللہ نوجوانوں کو انصاف ملے گا حکمران ہوش کا ناخن لیں اور اہل بلوچستان کو حق دیں بصورت دیگرہماراراستہ کو ئی نہیں روک سکتا ہم جائزمعاشی آئینی حقوق کے حصول کیلئے ہر حد تک جائیں گے۔ بلوچستان کے نوجوانوں کے مسائل ومشکلات اورظلم وجبر کے ذمہ دار وفاق،اسٹبلشمنٹ کیساتھ صوبائی حکومتیں بھی ہیں مسائل ومشکلات اور پریشانیاں گزشتہ کئی دہائیوں سے قوم پر مسلط نااہل حکمران ہیں کہاں سے آرہے ہوکہاں جارہے ہیں یہ اپنوں کیساتھ نہیں غیروں کیساتھ ہوتا ہے۔چیک پوسٹوں پر بار بارتلاشی کے بہانے تذلیل، لاشیں اُٹھانے کے مظالم آخر کب تک۔ہم نوجوانوں کیساتھ ملکر قوم کو ظلم وجبر،لاقانونیت بدنیتی وجبر سے نجات دلائیں گے اگر ہمارے جائز مطالبات حل نہیں کیے گیے تو پورابلوچستان بند کریں گے۔ نوجوان اتحاد ویکجہتی کے ذریعے قوم کو مسائل وپریشانی کے گرداب سے نکال سکتی ہے۔قوم ہمارا ساتھ دیں تاکہاہل بلوچستان کو حق مل سکیں۔بلوچستان کے مظلوموں کو پینے کاصاف پانی،علاج وتعلیم کی سہولیات میسر نہیں جبکہ منتخب نمائندوں ہر قسم کے وسائل سے مالامال ہورہے ہیں ہم کیوں 74سال بعدبھی پتھرکے دور میں رہ رہے ہیں جبکہ ہم پر مسلط طبقے ہر قسم کے وسائل سے مالامال ہیں ہماری قسمت میں کیوں صرف وعدے،خالی خولی اعلانات اور بے عمل دعوے ہیں۔ان سب زیادتیوں،ناجائز کی وجہ سے ہم اُ ف تک نہ کہیں۔ہمیں مارا پیٹاجارہاہے لیکن ہمیں رونے دونے کی اجازت نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں