22کروڑ عوام پر ایک جرنیل حاوی ہے،یا جنرل کو نیچے آنا پڑے گا یا عوام کو اوپر آنا پڑے گا، علی احمد کرد
علی احمد کرد نے کہا کہ "یہ 22 کروڑ عوام کا ملک ہے جبکہ 22 کروڑ عوام پر ایک جرنیل حاوی ہے۔ یا اس جرنیل کو نیچے آنا پڑے گا یا 22 کروڑ عوام کو اوپر آنا پڑے گا۔اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ اب برابری ہوگی۔ جرنیل میں اور ایک عام شہری میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔”انہوں نے کہا کہ آج ہم اپنی عدلیہ کا احترام کرتے ہیں، کورٹ روم میں بھی تمام ججز کو عزت دیتے ہیں مگر اس عدلیہ میں بھی واضح طور پر تقسیم ہے۔ اس تقسیم پر ہم لوگوں کو کیا پیغام دیتے ہیں۔ ہم کیوں اس حالت تک پہنچے ہیں۔علی احمد کرد نے کہا کہ“یہ 22 کروڑ عوام کا ملک ہے جبکہ 22 کروڑ عوام پر ایک جرنیل حاوی ہے۔ یا اس جرنیل کو نیچے آنا پڑے گا یا 22 کروڑ عوام کو اوپر آنا پڑے گا۔اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ اب برابری ہوگی۔ جرنیل میں اور ایک عام شہری میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔”انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ہم ان لوگوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں جو 70 سال سے ہمیں اپنی آنکھیں دکھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک ریت کی مٹھی کی طرح آپ کے ہاتھوں سے نکل رہا ہے، آپ ملک کو اس حالت میں برقرار نہیں رکھ سکتے۔علی احمد کرد کی تقریر کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور کہا کہ کرد صاحب نے کچھ باتیں کی ہیں جن کا جواب دینا بطور عدلیہ کا سربراہ ہونے کے ناطے ضروری سمجھتا ہوں۔ علی احمد کرد نے اگر میری عدالت کے بارے میں کوئی بات کہی ہے تو اس سے متفق نہیں ہوں۔ سپریم کورٹ کے تمام ججز اورہائیکورٹ کے ججز بھی بہترین کام کررہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ قانون پر عملداری، انصاف کی بلندی کیلئے مستقل کام کررہی ہے اور آج تک کسی سے ڈکٹیشن نہیں لی ہے۔ سپریم کورٹ کسی غیرجمہوری سیٹ اپ کوتسلیم نہیں کرے گی اور ہماری عدالت جو فیصلہ کرناچاہتی ہے وہ کرتی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ میری ماتحت عدلیہ کے ججز بھی محنت سے کام کررہے ہیں اور عدلیہ نے اداروں کا دباؤ بالکل نہیں لیا ہے اور اس حوالے سے کسی کو بھی غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے۔ چیف جسٹس نے زور دے کر کہا کہ میری عدالت لوگوں کو انصاف دیتی ہے اورعلی احمد کرد کو چاہئے کہ وہ عدالت آئیں اور دیکھیں کہ عدالتیں کیسے کام کررہی ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ غلط فیصلہ آیا اور کچھ کہتے ہیں کہ درست فیصلہ آیا ہے، ہرانسان اپنی سوچ کے مطابق بات کرتا ہے،کون سا فیصلہ کسی کے کہنے پر ہوا ہے۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ لوگوں کو جھوٹ نہ بتایا جائے اوراداروں سے اعتماد نہ اٹھایا جائے جبکہ غلط فہمیاں بھی پیدا نہ کریں کیوں کہ ملک کی عدالتیں آئین پر کام کررہی ہیں اور کسی نے بھی میریکام میں مداخلت نہیں کی ہے۔


