لاپتہ افراد کے لواحقین مررہے ہیں،ریاست میں احساس نظر نہیں آتا،چیف جسٹس اطہر من اللہ
اسلام آباد :اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے لاپتہ صحافی مدثر نارو کی بازیابی سے متعلق کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری آدھی زندگی غیر جمہوری حکومتوں میں گزری اور یہ انہی کا کیا کرایا ہے۔بدھ کو صحافی اور بلاگر مدثر نارو کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں ہوئی۔سماعت کے دوران وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری، سیکریٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر، لاپتا مدثر نارو کے والد کی جانب سے عثمان وڑائچ ایڈووکیٹ پیش ہوئے جبکہ ایمان مزاری ایڈووکیٹ بیماری کے باعث پیش نہ ہو سکیں۔وفاقی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاسم ودود اور ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ شیریں مزاری صاحبہ، آپ کو اس لیے زحمت دی کہ ریاست نظر نہیں آرہی، ملک میں جبری گمشدگیوں کے واقعات سامنے آرہے ہیں، کسی کا لاپتہ ہو جانا انسانیت کے خلاف جرم ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور کابینہ ارکان لوگوں کی خدمت کے لیے ہیں، لاپتہ شخص کی بازیابی کے لیے ریاست کا ردعمل قابل افسوس ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ریاست، ماں کے جیسی ہوتی ہے مگر وہ کہیں نظر نہیں آرہی، اگر اس عدالت میں کوئی بھی متاثرہ شخص آتا ہے کہ اس کا کوئی عزیز لاپتہ ہو گیا تو یہ ریاست کی ناکامی ہے۔انہوں نے کہا کہ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ لاپتہ شخص کی اہلیہ بھی چل بسی ہیں، تمام ایجنسیاں وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہیں، یہ سمریوں یا رپورٹس کی بات نہیں، لاپتہ شخص کے بچے اور والدین کو مطمئن کریں، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ بچے کی دیکھ بھال کرے اور متاثرہ خاندان کو سنے۔


