مذاکرات کرنیوالے بے اختیار،بلوچ نادان نہیں، دھرنا جاری رہیگا، مولانا ہدایت الرحمن
گوادر(بیورورپورٹ)گوادر کو حق دو تحریک کو اٹھارواں دن مکمل۔ حق دو تحریک کی کال پر مکران کوسٹل ہائی وے مختلف مقامات بند۔ تحریک کے سربراہ مولانا ھدایت الرحمن کا مکران کوسٹل ھائیوے کے مختلف مقامات کا دورہ۔ انجمن تاجران کی جانب سے شہر میں مکمل شٹرڈاؤن ھڑتال۔ گوادر کو حق دو تحریک کی جانب سے گوادر پورٹ روڈ پر منعقدہ احتجاجی دھرنے کو اٹھاراں دن مکمل ہوگیا۔ احتجاجی دھرنے کے اٹھارویں روز گوادر کو حق دو تحریک کی اپیل پر کوسٹل ہائی وے اوتھل زیروپوائنٹ۔ اورماڑہ زیروپوائنٹ۔ پسنی زیروپوائنٹ اور سربندن کراس کو لوگوں نے بند کرکے دھرنا دیا جس کے سبب ضلع گوادر اور ضلع لسبیلہ کا کراچی سمیت سندھ کے دیگر علاقوں کے ساتھ زمینی رابطہ مکمل منقطع رہا جبکہ تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن نے سربندن۔ پسنی اورماڈہ کا دورہ کیا اور بند کی جانے والی جگہوں کا معائنہ کیا۔ اسی اثنا میں انجمن تاجران نے بھی گوادر شہر میں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال کرکے گوادر کو حق دو تحریک سے یکجہتی کیا شٹرڈاؤن ہڑتال کے سبب دوکانیں۔ مارکیٹیں اور مالیاتی ادارے مکمل بند رہے جبکہ خطاب کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمن، سنیئر سیاستدان حسین واڈیلہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کوسٹل کو مختلف مقامات پر بند کرکے ضلع گوادر اور ضلع لسبیلہ کے غیور عوام نے ثابت کیا ہے کہ وہ اس ظالمانہ نظام سے تنگ آچکے ہیں اور لوگ چاہتے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین پر آزادانہ سمندر پر شکار اور بارڈر پر کاروبار کرسکیں۔ انھوں نے کہاکہ ہم اٹھاراں دنوں سے احتجاج کر رہے ہیں لیکن ہمارے مطالبات پر عملدرآمد نہیں ہو رہا،حکومتی نمائندے وقتا فوقتا آکر ہم سے مزاکرات بھی کررہے ہیں لیکن سب بے سود عملدرآمد نہیں ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا احتجاج قانونی و جائز ہے ہم کوئی غیر قانونی مطالبہ نہیں کررہے اور نہ ہی کوئی ایسا بڑا مطالبہ کررہے ہیں جو حکومت سے حل نہ ہو۔ انہوں نے کہاکہ سمندر خدا کی طرف سے دیا گیاہمارے روزگار کا ذریعہ ہے اورسینکڑوں سالوں سے ہمارے آباؤ اجداد سمندری شکار پر اپنی گزر بسر کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں لیکن اس روزگار پر بھی قدغن لگایا جارہا ہے فورسز کی جانب سے ماہیگیروں کو روزانہ تنگ کیا جاتا ہے اور سندھ سے آئے ٹرالروں نے سمندر کو بانجھ بنادیا ہے ٹرالروں نے ہمارے غریب ماہیگیروں کے لئے سمندر میں کچھ نہیں چھوڑا ہے جسکا وہ شکار کریں لیکن حکومت بے حس ہو چکی ہے اور ہمارے مطالبات پر سنجیدگی سے عمل نہیں کررہی۔ بارڈر پر ای ٹیگ و ٹوکن سسٹم نے بارڈر پر کام کرنے والوں کو نان شبینہ کا محتاج بنایا ہے ہمارے بہت سے لوگوں کا گزربسر بارڈر پر ہوتا ہے لیکن بارڈر کو عام لوگوں کیلئے بند کردیا گیا۔ مختلف و غیر ضروری چیک پوسٹوں سے لوگ تنگ آچکے ہیں۔ چیک پوسٹیں صرف عوام کی تذلیل اور ان کوبے عزت کرنے کئے بنائی گئی ہیں جسکے سبب ان چیک پوسٹوں کا خاتمہ ضروری بن گیا ہے۔ انھوں نے کھاکہ سرکار بلوچوں کو قباھیلیت و علاقاھیت کی بنیاد پر دست وگریبان کرنے کی کوشش کررہا ہے لیکن اس دھرنے نے ثابت کیا ہے کہ بلوچستان کے تمام بلوچ متحد ہیں۔ بلوچوں کی تاریخ ڈھکی چھپی تاریخ نہیں ہے ھر کوء بلوچوں کی تاریخ سے آشنا ہے بلوچوں نے اپنے مظلوم عوام کے لی? جان تک نچھاور کی ہے۔ بلوچوں کو کم عقل و نادان سمجھنے والے بھول رہے ہیں کہ بلوچوں کی تہزیب سے ثابت ھوتا ہے کہ بلوچ نادان نہیں ہیں۔ انھوں نے کھاکہ ھمارے دروازے بات چیت کرنے کیلئے ہر کسی کیلئے کھلے ہیں لیکن مزاکرات پر آنے والے لوگ خود بے اختیار ہیں اختیارات کسی اور کے پاس ہیں ھم سرکار کی شاطرانہ ڈپلومیسی سے واقف ہیں۔ جو نقطہ ھمارے زندگی و موت کا مسلہ ہے اس پر ھم وقت نہیں دے سکتے ہیں۔ انھون نے کھاکہ ایک طرف حکومتی وفد مزاکرات کے لی? آتی ہے تو دوسری طرف پولیس کی بھاری نفری گوادر بلالیا جاتا ہے اس طرح کی منافقانہ طرز عمل سے سرکار باز آجا?۔ انھوں نے کھاکہ ھمارا آھینی جدوجہد ہے لیکن گوادر میں مختلف علاقوں سے پولیس لانے سے ھم خوفزدہ نہیں ھونگے اور نہ ہی حقوق کی جنگ سے دستبردار ھونگے۔ انھوں ں نے کھاکہ پاکستان بلوچستان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے تو جو سلوک پنجاب کے عوام کے ساتھ کی جارہی ہے بلوچستان عوام کے ساتھ بھی وہی سلوک کیاجا?۔ انھوں نے کھاکہ گزشتہ کء سالوں سے بلوچوں کو دھوکہ دیا جارھا ہے اب بلوچ قوم مولانا ھدایت الرحمن کی قیادت میں متحد ھوچکا ہے اسکو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔ انھوں نے کھاکہ نوجوانو کی اتحاد و اتفاق کو دیکھ کر ھمارے جزبے بھی جوان ھورہے ہیں۔ انھوں نے کھاکہ جبتک ھمارے مطالبات پر عملدرآمد نہیں ھوگا یہ دھرنا جاری رھیگا۔ دیگر مقررین میں پاکستان مسلم لیگ مکران کے جنرل سکریٹری عثمان کلمتی۔ زعمران کے وسیم سفر۔ صادق فتح۔ ماھیگیر رھنما یونس انور سمیت جماعت اسلامی گوادر کے امیر شکیل کے ڈی نے بھی خطاب کیا۔


