حکومتی منی بجٹ رہی سہی معاشی سرگرمیوں کو بھی زمین بوس کر دیگا، نیشنل پارٹی

کوئٹہ:نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جان محمد بلیدی نے کہاکہ حکومت کی عالمی مالیاتی فنڈ کے شرائط کے تحت منی بجٹ رہی سہی معاشی سرگرمیوں کو بھی زمین بوس کریگا،حکومت کی غلطیوں کا خیمازہ غریب عوام کو مہنگائی اور بے روزگاری کی صورت میں کرنا ہوگا۔ موجودہ منی بجٹ کسی صورت بھی قابل قبول نہیں۔ مجوزہ منی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی تین سالہ بیڈ گورننس نے عام آدمی کا زندہ رہنا پہلے زیادہ مشکل بنا دیا ہے حالیہ منی بجٹ آئی ایم ایف کے طے شدہ شیڈول کے مطابق 350 ارب روپے جو ٹیکس چھوٹ تھا ایسے ختم کیا جارہا ہے اور جو ٹیکس چھوٹ تھی ایسے واپس لیا جارہا ہے موجود ٹیکس تجاویز سے پولیس لیوئی سمیت اسٹیشنری اور بعض فوڈ آٹیم میں اضافے کا سبب بن جائے گا جس کے برائے راست اثرات عام آدمی پر پڑیں گے۔انھوں نے کھاکہ حالیہ منی بجٹ کے بعد پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایک عرب ڈالر کی قسط وصولی کا امکان ہے انھوں نے کھاکہ تحریک انصاف کی حکومت نے گزشتہ تین سالوں کے درمیان 20 کھرب روپے کا قرضہ بین الاقوامی اداروں سے حاصل کی ہے جو مجموعی قرضے کا 40 فیصد بنتے ہیں اس وقت ملک پر مجموعی قرضہ 50 کھرب ہے غلط معاشی پالیسیوں کے سبب ملک روز مزید مشکلات و مسائل کا شکار ہوتا جارہا ہے مہنگائی و بے روزگاری بڑھتی جارہی ہے جبکہ لوگوں کی آمدنی اور تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے حکومتی غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے عوام کی رہی سہی قوت خرید بھی ختم ہوکر رہ گئی ہے۔ انھوں نیکہا عمران حکومت نے اپنے پہلے بجٹ میں قوم سے یہ وعدہ کیاتھا کہ فلاعی ریاست میں پیش کیئیجانیوالیاس بجٹ کے بعد غربت کی چکی میں پسے ہوئے عوام پر منی بجٹ کابوجھ نہیں لاداجائیگااور نہ ہی آئی ایم ایف سے رجوع کیا جائیگا لیکن اسکے بعد ہر بجٹ میں حکومت کی کارکردگی کامعیارگرتے گرتے مائنس ہوچکا ہے آئی ایم ایف سیق رض نہ لینے کا عہد کرنے والے حکمرانوں نے چھ ارب ڈالر کے قرضے کیلئے نہایت حقیر اور توہین آمیز شرائط پرملک اور 22 کروڑعوام کو آئی ایم ایف کی غلامی کاطوق پہنا دیا ہے حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں کا اندازہ اس بات س لگایا جا سکتا ہے کہ ساڑھے تین سال کے عرصے میں یہ چوتھا وزیرخزانہ ہیں، شوکت ترین کا تعلق نہ توکسی سیاسی جماعت سے ہے اورنہ ہی یہ صاحب ماہر معاشیات ہیں یہ محض بینکر اور بین القوامی سامراجی ادارے آئی ایم ایف کے آلہ کارہیں بینکرکے پاس عوام کوریلیف دینے کی کوئی ٹریک نہیں ہوتی انکاکام عوام کی رگوں سے خون نچوڑنا اور بین الاقوامی ادارے کی خوشنودی حاصل کرنا ہوتا ہے۔ مرکزی سیکرٹری جنرل نے کھاکہ تشویشناک امر یہ ہے کہ موجودہ حکومت اپنی غلطیوں اور ناکامیوں تسلیم کرکے درست سمت اختیار کرنے کے بجائے فخریہ انداز اختیار کرکے مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی کے طوفان میں گیرے ہوئے عوام کیزخموں پرنمک پاشی کررہی ہے انہوں نے کہاآج ہمارے ملک کاسب سے بڑا مسئلہ مہنگائی،بیروزگاری، لاقانونیت اور انصاف کی فراہمی ہے اس بدترین صورتحال پراحتجاج کرنے والے اپوزیشن کو جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات میں الجھایا جارہا ہے، انہوں نے کہا ایک آزاد اور خودمختارملک کی حکومت لیے یہ بات باعث شرم ہونی چائیے کہ وہ سامراجی معاشی اداروں کی ایما پر عوام کو دی گئی ٹیکسوں میں چھوٹ اور دیگر مراحات کاخاتمہ کرکے مہنگائی اور بے روزگاری کا سامان کرے اور حکومت کے350ارب روپے کے منی بجٹ کی وجہ سیرہی سہی معاشی سرگرمیاں بھی زمین بوس ہوجائیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں