ایرانی نیوکلیئر ری ایکٹر کے اطراف فضا میں متعدد دھماکوں کی گونج
تہران:ایرانی بوشہر کے نائب گورنر محمد تقی ایرانی نے بتایا ہے کہ پیر کی صبح بوشہر کے جوہری پلانٹ کے نزدیک سنائی دیے جانے والے دھماکوں کا سبب فضائی دفاعی تربیت تھی جو دفاعی نظام کی صلاحیت بڑھانے کے لیے کی جا رہی ہے۔مذکورہ تربیت مسلح افواج کے ساتھ مکمل رابطہ کاری سے پیر کو علی الصبح پانج بجے انجام دی گئی۔دوسری جانب سوشل میڈیا پر سرگرم ایرانی حلقوں نے پیر کی صبح متعدد وڈیو کلپ پوسٹ کیے جن میں بوشہر کے نیوکلیئر ری ایکٹر کے اطراف فضا میں متعدد اجسامی ہتھیار دیکھے گئے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایرانی حلقوں کی جانب سے ٹویٹر پر کہا گیا کہ ری ایکٹر کے اطراف آسمان میں نظر آنے والے غیر مانوس اجسام کو ایرانی فضائی دفاعی نظام نے فضا میں روکا۔روس کا تعمیر کردہ بوشہر نیوکلیئر ری ایکٹر خلیج کے ساحل پر واقع ہے۔ اس علاقے میں اکثر و بیشتر زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہیں۔ اس ری ایکٹر کی گنجائش ایک ہزار میگاواٹ توانائی کے مساوی ہے۔ یہ سال 2013 سے کام کر رہا ہے۔کچھ عرصے سے ایران کی اہم جوہری تنصیبات میں وقتا فوقتا پراسرار دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اگرچہ ایرانی حکام ان واقعات کی تفصیلات پر پردہ ڈالے رہتے ہیں تاہم ساتھ ہی ان کا الزام اسرائیلی اور امریکی انٹیلی جنس کے سر دھرا جاتا ہے۔


