صوبائی حکومت اٹھارویں ترمیم کے اختیارات کے استعمال میں ناکام ہوچکی ہے نذیر بلوچ

کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی چیئرمین نزیر بلوچ نے کہا ہے بلوچستان کے حوالے سے رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لئے خوشامدی سماج دشمن عناصر کو مسلط کرکے جمہوریت کا نام دیا گیا لیکن وژن و عوامی تائید کے بغیر عوامی ایشوز کو حل کرنا و اچھی طرز حکومت سلیکٹڈ لوگوں کے زریعے ناممکن یے جمہوری عمل کا راستہ روکنے سے ہمیشہ حقیقی سیاسی کارکنوں کو دیوار سے لگایا گیا یہی وجہ ہے عوام کا موجودہ پارلیمانی طرز سیاست سے اعتماد اٹھ چکی جب بھی کوئی حقیقی سیاسی کارکن ایوانوں تک پہنچ بھی جائے تو مسلط شدہ عناصر حقیقی آواز و عوامی مسائل کو بزور طاقت و سازشی حربوں کے زریعے خاموش کرانے کی کوشش کرتے ہے بلوچستان میں احساس محرومی کے دیگر وجوہات کے ساتھ موجودہ مسلط شدہ کٹھ پتلی طرز حکومت ہے اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم صحت سمیت تمام اختیارت صوبائی حکومت کو منتقل ہوچکے لیکن نااہلی و عوامی تائید کے بغیر لوگوں کی وجہ سے بلوچستان حکومت ان مسائل پر مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے جہاں کورنا وباء کی وجہ سے دنیا بھر میں سائنسی طریقہ کار کے مطابق اس سے بچاو و احتیاط کے لئے اقدامات کئے جارہے ہے بلوچستان حکومت محدود ٹیسٹ کے بنیاد پر صرف کیس بڑھنے کے حوالے سے بیانات پر اکتفا کررہی ہے اس اہم ایشو پر میڈیکل سے متعلق ماہرین کے رہنمائی میں سخت عوامی فیصلے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو اس بیماری سے بچایا جاسکے لیکن موجودہ حکومت جہاں لاک ڈاون کرانے میں ناکام ہوچکی ہے وہاں جزوی لاک ڈاون کی وجہ سے عوام کو ریلیف بھی نہیں دی جاسکی ہے ایک طرف مکمل لاک ڈاون نہ ہونے کی وجہ سے کورنا تیزی سے پھیل رہی ہے دوسری جانب سرکاری شعبدہ بازی شدہ لاک ڈاون سے غریب بھوک سے مررہے سنجیدہ اقدامات کا مکمل فقدان اس سے موجودہ انسانی بحران میں مزید شدت آئے گی

اپنا تبصرہ بھیجیں