کابینہ اجلاس،ملک میں گیس بحران پر حکومتی ارکان پھر بول پڑے

اسلا م آباد:ملک میں گیس بحران پر حکومتی ارکان پھر بول پڑے۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ارکان نے کہا گیس لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، میڈیا اور عوام ہم سے سوالات کر رہے ہیں، کراچی کی انڈسٹری کو بھی گیس نہیں مل رہی۔کراچی کے ساتھ یوریا پلانٹس کو بھی گیس نہیں مل رہی۔ وفاقی کابینہ اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔ذرائع کے مطابق مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے ایکسپورٹ انڈسٹری کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی پر سوالات اٹھا دئیے۔عبدالرزاق داود نے کہا خان صاحب ایکسپورٹ انڈسٹری کو گیس کی سپلائی نہیں ہو گی تو برآمدات متاثر ہوں گی۔حماد اظہر نے کہا انڈسٹری کا دعوی ہے کہ 35 فیصد انڈسٹری بند ہے، حکومتی سروے کے مطابق 95 فیصد انڈسٹری چل رہی ہے۔ایکسپورٹ انڈسٹری کے کیپٹو پلانٹس کو گیس بند کی گئی ہے پراسسنگ یونٹس کو گیس کی سپلائی جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ایکسپورٹ انڈسٹری اور جنرل انڈسٹری کو گیس کی سپلائی کے حوالے سے نظر ثانی کی ہدایت کی ہے۔وزیراعظم نے انڈسٹری کو گیس کی سپلائی پر تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔شوکت ترین، حماد اظہر اور عبدالرزاق داود کمیٹی میں شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق شوکت ترین کو سینیٹر بنے پر کابینہ ارکان نے مبارکباد تک نہ دی۔کے پی الیکشن پر پرویز خٹک کی تعریفیں کی گئیں۔وزیراعظم نے صرف پرویز خٹک کی تعریف کی۔بریفنگ کے دوران عمر ایوب کو لقمہ دیا پھر نہ کہیے گا مہنگائی کی وجہ سے الیکشن ہارے۔#/s#

اپنا تبصرہ بھیجیں