صوبے کے زمیندار شدید مالی نقصانات سے دوچار ہیں، زمیندار ایکشن کمیٹی

کوئٹہ:زمیندار ایکشن کمیٹی نے وفاقی حکومت سے بلوچستان کے زمینداروں کیلئے خصوصی پیکج کامطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ صوبے کے زمیندار شدید مالی نقصانات سے دوچار ہیں،کورونا وائرس اور ٹڈی دل کے علاوہ ہمسایہ ممالک سے غیرقانونی اسمگلنگ نے زمینداروں کو نان شبینہ کا محتاج بنادیاہے،وفاقی حکومت زراعت کے شعبے کی بہتری اور زمینداروں کی داد رسی کیلئے کم از کم 100ارب روپے کا خصوصی پیکج کااعلان کریں اس پیکج سے کم از کم زمینداروں کے نقصانات کاایک حد تک ازالہ ممکن ہوگا۔ان خیالات کااظہار زمیندار ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ورکن بلوچستان اسمبلی ملک نصیر احمد شاہوانی،جنرل سیکرٹری حاجی عبدالرحمن بازئی،وائس چیئرمین حاجی ولی محمدرئیسانی،عبدالجبار مجک،سید عبدالقہار آغا،حاجی افضل،کاظم خان اچکزئی،عبیداللہ،حاجی شیر علی مشوانی،حاجی نور احمد بنگلزئی،حاجی عزیز سرپرہ ودیگر نے اپنے بیان میں کیا۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں اکتوبر1947ء سے جو خشک سالی آئی ہے اس کے اثرات آج بھی موجود ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق بلوچستان میں 45لاکھ درخت،4ہزار ٹیوب ویلز،3ہزار کاریزات اور چشمے خشک ہوچکے ہیں جبکہ سوا کروڑ بھیڑ بکریوں میں 75لاکھ جانور ہلاک ہوچکے ہیں،انہوں نے کہاکہ اس تمام تر نقصانات سے مجموعی طورپر زمینداروں کو 600ارب روپے کا نقصان پہنچاہے افسوس کے ساتھ کہناپڑتاہے کہ بلوچستان میں اکثریت لوگوں کا دارومدار زراعت کا شعبہ ہے لیکن اتنے بڑے پیمانے پر نقصان کے باوجود بلوچستان کے زمینداروں کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے جاسکے ہیں انہوں نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ یہاں زیر زمین پانی ختم ہونے کے قریب ہیں اتنے بڑے پیمانے پر خشک سالی کی وجہ سے زمینداروں شدید مالی مشکلات سے دوچار ہیں،فصلات نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ رہی سہی کسر کورونا وائرس، ٹڈی دل نے پورا کرلیا ہے اس لئے ضروری ہے کہ زراعت کے شعبے کی بہتری اور زمینداروں کی داد رسی کیلئے کم از کم 100ارب روپے کا خصوصی پیکج کااعلان کریں اس پیکج سے کم از کم زمینداروں کے نقصانات کاایک حد تک ازالہ ممکن ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں