سال کی تاخیر کے بعد کراچی میں پہلا ماس ٹرانزٹ سسٹم فعال ہوگیا

کراچی (این این آئی) تقریبا 40 سال کی تاخیر کے بعد کراچی میں پہلا ماس ٹرانزٹ سسٹم فعال ہوگیا، گرین لائن بس سروس کا محدود اور آزمائشی آغاز کردیا گیا۔وفاقی حکومت کے زیر انتظام گرین لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم کے تحت نئی جدید ہائبرڈ بسیں سرجانی ٹان تا نمائش چورنگی 21کلومیٹر آپریشنل ہوگئیں اور کراچی کے شہریوں کو بھی پہلے ماس ٹرانزٹ سسٹم کی سہولیات میسر آگئی۔تفصیلات کے مطابق گرین لائن بس سروس کا محدود اور آزمائشی آغاز کردیا گیا، پہلی بس عبداللہ چوک سے روانہ ہوکر اپنے آخری اسٹاپ نمائش پہنچی، گرین لائن بس سروس کے 21اسٹاپس میں سے 11 اسٹاپس پر سہولت میسر ہوگی۔بسیں صرف صبح 8بجے سے دوپہر 12 بجے تک چلائی جائیں گی، آزمائشی بنیادوں پر بسوں کی تعداد بھی محدود کرکے 25 کردی گئی، منصوبہ 10جنوری سے مکمل طور پر80بسوں کے ساتھ آپریشنل ہوگا۔منصوبے کو سرجانی تا ٹاور کے بجائے نمائش تک محدود کردیا گیا، ٹاور تک ٹریک کی تعمیر کے لیے 6 ماہ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ پاور ہاؤس، نمائش اسٹیشز سمیت11 اسٹیشنز پر تعمیراتی کام جاری ہے جبکہ پٹیل پاڑہ، ناظم آباد،گلبہار اسٹیشنزپر تعمیراتی کام باقی ہے۔بس سروس میں ٹکٹ کی ادائیگی چارج ایبل پلاسٹک کارڈز سمیت نقد بھی کی جاسکے گی، چارج ایبل پلاسٹک کارڈز کے ذریعے ایک سے زائد مرتبہ استعمال ہونیوالا ٹکٹ لیا جاسکے گا، پہلی مرتبہ کارڈ بنانے کی لاگت 100روپے ہوگی اور اس میں بیلنس لوڈ کرایا جاسکے گا، کم سے کم کرایہ 15روپے ہوگا جبکہ پورے ٹریک پر سفر کے لیے ٹکٹ 55 روپے ہے۔ترجمان سندھ انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی کے مطابق 10 جنوری سے گرین بس آپریشن مکمل طور پر فعال ہو گا اور اس کے اوقاتِ کار میں بھی اضافہ کر دیا جائے گا۔ادھر سرجانی ٹاون عبداللہ چوک اسٹیشن سے پہلی گرین بس کی روانگی میں سوا گھنٹے کی تاخیر کی وجہ سے ایک شہری کرائے کا سن کر مشتعل ہوگیا۔مسافر کے مطابق سرجانی ٹاون سے ناظم آباد جانے کے لیے 55 روپے کرایہ مانگ رہے ہیں۔مشتعل شہری نے کہا کہ اس سے کم میں تو چنگ چی پر کرایہ لگتا ہے، یہ سب مل کر لوٹ رہے ہیں۔گرین لائن سروس کی بسیں سرجانی ٹرمینل سے نکلنا شروع ہوئیں تاہم پہلا اسٹیشن لوگوں کے لیے تاخیر سے کھولا گیا، اسٹیشن کے باہر شہری بس کے لیے گیٹ کھلنے کے منتظر رہے۔بزرگ شہری نے شکایت کی کہ کافی دیر سے کھڑے ہیں، بس اسٹیشن کے گیٹ بند ہیں، بس لیٹ آنی تھی تو اطلاع کے لیے کوئی بینر یا نوٹس لگا دیتے۔سیکیورٹی عملے نے شہریوں کو جواب دیا کہ وفاقی وزیرآئیں گے اس کے بعد اسٹیشن کھولا جائے گا۔واضح رہے کہ کراچی میں ریپڈ ٹرانزٹ بس منصوبے کے تحت 5 روٹس کی منصوبہ بندی 2014 میں شروع کی گئی تھی اور پہلی گرین لائن کا تعمیراتی کام 2016 میں شروع ہوا۔2016 میں بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کی 2 لائنز گرین لائن اور اورنج لائن کی تعمیر کا کام شروع ہوا تھا۔ ابتدائی منصوبے کے مطابق گرین لائن کا روٹ سرجانی ٹاون سے بزنس ریکاررڈ روڈ تک تھا اور منصوبے کو 6 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کرنا تھا تاہم بعد ازاں منصوبے کے روٹ کو پہلے جامع کلاتھ اور پھر ٹاور تک بڑھا دیا گیا۔ اس طرح منصوبے کی لاگت بھی 27 ارب روپے سے بڑھ گئی۔گرین لائن کے روٹ پر 22 اسٹاپس بنائے گئے ہیں اور ان بس اسٹاپس پر مسافروں کے لیے لفٹس، بزرگ اور خصوصی افراد کے لیے ویل چیئر ریمپ بنائے گئے ہیں۔تمام بس اسٹاپس پر کینٹن، واش روم اور ٹکٹ بوتھ بھی بنائے گئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق چین سے منگوائی گئیں 80 جدید بسوں میں یومیہ ڈیڑھ لاکھ افراد سفر کرسکیں گے۔گرین لائن بس منصوبے کے لیے چین سے منگوائی گئی بسیں 18 میٹر لمبی ہیں اور ان بسوں کے اندر ڈرائیور کے لیے کاک پٹ کیبن بنایا گیا ہے۔ سیٹوں کے لحاظ سے ایک بس میں 44 افراد کے بیٹھنے کی سہولت موجود ہے جبکہ 180 افراد بس میں سفر کر سکتے ہیں۔مکمل طور پر ائیرکنڈیشن بس میں معذور افراد کے لیے بھی جگہ مختص کی گئی ہے جبکہ دوران سفر مسافر وائی فائی، موبائل چارجنگ پورٹ بھی استعمال کر سکیں گے۔ دوران سفر مسافر انٹرٹینمنٹ اسکرین سے بھی لطف اندوز ہو سکیں گے۔بس کے دونوں اطراف تین تین ہیڈولیک کنٹرول دروازے ہیں۔ جن میں ریمپ کی سہولت بھی موجود ہے اور بس میں اشتہارات لگانے کے لیے 18 جگہیں مختص ہیں۔ بس میں نگرانی کے لیے 5 کیمرے لگائے گئے ہیں جو دوران سفر کنٹرول روم سے بذریعہ انٹرنیٹ منسلک ہوں گے۔کراچی کی گرین لائن بس کی خرابی کی صورت میں 2 خصوصی جدید ٹرک ہر وقت تیار رہیں گے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فورا ایکشن میں آئیں گے۔ گرین لائن کے بس ڈپو میں واشنگ ایریا اور پمپنگ اسٹیشن بھی بنائے گئے ہیں اور سرجانی ٹان میں ڈرائیورز حضرات کے لیے ریسٹ روم بھی بنائے گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں