سیندک اور ریکوڈک کے معاہدوں کا کبھی چیک اینڈ بیلنس نہیں رہا،سردار اخترمینگل

لسبیلہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ و رکن قومی اسمبلی سردار اخترجان مینگل کی حب آمد۔ سردار اخترجان مینگل نے حب مین بم دھماکوں میں شہید ہونے والے صحافی شاہد زہری اور آواران کی قبائلی شخصیت میر اکرم ساجدی کے لواحقین سمیت حب میں دیگر مختلف شخصیات کے انتقال پر انکے لواحقین سے تعزیتیں کیں اس موقع پر سردار اخترجان مینگل نے قبائلی شخصیت لالا مجید مینگل کے انتقال پر انکی رہائشگاہ پر تعزیت کرنے کے بعد میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیندک کے معائدے کا کبھی چیک اینڈ بیلنس نہیں رہا ہے کبھی بھی سیندک اور ریکوڈک معائدوں کے حوالے نہیں بتایا گیا کہ یہاں سے کتنا سونا چاندی نکالا گیا ہے ہمیشہ سے جسطرح سوئی سے نکلنے والے گیس سے بلوچستان کو محروم رکھا گیا اسی طرح سیندک اور ریکوڈک کے ذخائر کو بھی مال غنیمت سمجھ کر دوسرے کمپنیوں کو بانٹا گیا ابھی جو بریفنگ دی جارہی ہے ہمیں نہیں پتہ کہ اندر کونسی کچڑی پک رہی ہے لیکن کم از کم عوام کو نہ سہی بلوچستان حکومت یا جو جماعتیں جو بلوچستان اسمبلی میں عوام کی نمائندگی کررہی ہیں اور جو ابھی نہیں کررہی ہیں ان سب کو اس میں شامل کرنا چاہیے یہ جو بریفنگ ہورہی ہے یہ کوئی ڈکھی چھپی نہیں رہیگی کہ وفاقی حکومت اور صوبائی یا جو کمپنی جنہوں نے انصاف کی عالمی عدالت میں مقدمہ درج کیا ہے وہ کیا چاہتی ہیں اور بلوچستان کے لیے کیا رکھا جاتا ہے بلوچستان نیشنل پارٹی ایسی کسی معائدے کو قبول نہیں کریگی جس میں اس علاقے اور صوبے کو فائدہ نہ مل رہا ہو…ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گوادر مسئلے پر ہم نے 1998 میں جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت اس وقت جب سی پیک کا نام نہیں تھا اس وقت گوادر رتوڈیرو کا نام تھا ہم نیاس وقت آواز اٹھائی تھی کہ گوادر کو اسکا حق ملنا چاہیے اسکے بعد مشرف دور حکومت میں ہم نے ساحل وسائل پر بلوچستان کی حاکمیت کا نعرہ لگایا اسکے پاداش میں ہمارے ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا اس وقت کسی جماعت کو ساحل و وسائل کا پتہ تک نہیں تھا ہم اس وقت سے آواز بلند کرتے آرہے ہیں چیک پوسٹوں کے خلاف بھی تب سے ہم بولتے آرہے ہیں یہ اور بات ہے اب گوادر کی عوام نے آواز اٹھائی ہے اس میں تمام جماعتیں شامل ہیں ہم بھی اس تحریک میں شامل ہیں.انہوں نے کہا کہ سابق وزیر جام کمال خان کے بیان پر مجھے افسوس ہورہا ہے کہ یہ جو باتیں آپ ابھی کررہے ہو انتقامی کاروائیوں کی کاش اس اقدام آپ ڈھائی سال پہلے خود نہ اٹھاتے تو آج آپکو یہ بیانات نہ دینے پڑتے انتقامی کاروائیوں کی اس عمارت کا بنیاد جام کمال نے خود رکھا تھا اب انکو چاہیے کہ اسکی سائے کا تھوڑا مزہ لے لیکن ہماری پھر ہمدردیاں جام کمال کے ساتھ ہیں اس موقع پر پارٹی رہنماء رکن صوبائی اسمبلی میر اکبر مینگل، جہانزیب رونجھو، بشیر مینگل، نوربخش ڈگارزئی سمیت دیگر موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں