گورنر سیکرٹریٹ مداخلت کر رہا ہے، جامعہ بلوچستان کو1996کے ایکٹ کے تحت چلایا جائے، اے ایس اے

کوئٹہ:اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے صدر پروفیسر ڈاکٹرکلیم اللہ بڑیچ کی سربراہی میں کابینہ کے نمائندہ وفد نے گزشتہ دنوں جمعہ بلوچستان کے انتظامی سربراہ ڈاکٹرشفیق الرحمن سے ملاقات کی۔وفد میں اے ایس اے کے نائب صدر فرید خان اچکزئی،جنرل سیکرٹری عبدالباقی جتک،ڈاکٹرفضل کاکڑ، ڈاکٹرفرحت عباس،ہاشم خان کھوسہ،عبدالقدوس کاکڑ، ڈاکٹر عثمان توبہ وال نے خصوصی شرکت کی ملاقات میں اے ایس اے کے صدر اور کابینہ کے دیگرممبران نے واضح کیاکہ چانسلر جامعہ بلوچستان اور ان کی سیکرٹریٹ کی طرف سے مسلسل جامعہ کے انتظامی اور اندرونی معاملات میں بے جا مداخلت اور میرٹ کے برعکس اہم عہدوں پر تعیناتیاں کررہی ہیں جو تعلیم دشمن اقدام ہے وفد نے مزید کہاکہ جامعہ بلوچستان کے موجودہ وائس چانسلر اور پرووائس چانسلر کی تعیناتی غیر قانونی اور 1996ء کے ایکٹ کے برعکس کی گئی ہے جبکہ جامعہ کے کئی ڈینز کو بھی غیر قانونی طورپر تعینات کیاگیا میں جو قابل مذمت اقدام ہے،اے ایس اے کے وفد نے اس آمر پر سخت تشویش کااظہار کیاگیاہے کہ سینڈیکٹ کے 4روزہ جاری رہنے والے اجلاس کئی مہینوں کے بعد بھی مینٹس جاری نہیں کئے گئے حالانکہ اس اہم اجلاس میں چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ،وائس چانسلر،سیکرٹری ایجوکیشن،ممبرصوبائی اسمبلی اور جامعہ وکالجز کے منتخب ممبران نے شرکت کی تھی اور منٹس پر سب نے دستخط بھی کئے تھے لیکن اس کے باوجود چانسلر سیکرٹریٹ نے سینڈیکٹ کے منٹس کو غیر قانونی طورپر قبضہ کرکے جاری نہیں کرنے دیئے جس کے جامعہ کے تعلیمی،تحقیقی کاموں پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں ملاقات میں اس بات پراتفاق کیاگیاہے کہ جامعہ کو ہر صورت 1996ء کے ایکٹ کے مطابق چلایاجائے گااور کسی بھی طرف سے غیر قانونی مداخلت کو برداشت نہیں کیاجائے گاآخر میں اے ایس اے کے منتخب نمائندگان نے اس عزم کااظہار کیاکہ کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے جامعہ بلوچستان بھی دیگر تعلیمی اداروں کی طرح بند ہے لیکن 31مئی کے بعد دل جمعی سے طلباء وطالبات کو ایکسٹرا کلاسز کے ساتھ پڑھایاجائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں