ہسپتال سے لاپتہ طالبعلم کی بازیابی کا کیس سندھ ہائیکورٹ منتقل

کراچی:سپریم کورٹ نے 10 سال سے لاپتہ 12 ویں جماعت کے طالب علم کی بازیابی کے کیس سماعت کے لیئے سندھ ہائیکورٹ منتقل کرتے ہوئے محمد فیصل آرائیں کی بازیاب کرانے کا حکم دیدیا۔جمعرات کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں 10 سال سے لاپتہ 12 ویں جماعت کے طالب علم کی بازیابی کے کیس کی سماعت ہوئی۔ رشید اے رضوی نے موقف دیا کہ جے آئی ٹی میں کہا گیا کہ نوجوان خود سے لاپتہ ہوا۔ سندھ ہائی کورٹ نے جے آئی ٹی سفارش کو فیصلے کا حصہ بنادیا۔ سندھ ہائی کورٹ کی آبزوریشن نوجوان کی بازیابی کیس میں اثر انداز ہو سکتی ہے۔ محمد فیصل آرائیں کے بوڑھے والدین سپریم کورٹ میں آبدیدہ ہوگئے۔ والدہ نے کہا کہ میرا بیٹا 9 جنوری 2012 کو صدر گیا۔ جب بیٹا لاپتہ ہوا تو 19سال کا تھا۔ شپ اونر کالج میں بارہویں جماعت کا طالب علم تھا۔ ہمیں کچھ نہیں پتہ، بیٹا بازیاب کرایا جائے۔ ہماری زندگی خراب ہوچکی، دھکے کھا رہے ہیں۔ ہماری کوئی نہیں سن رہا، ہمیں بیٹا چاہیے۔ والد نے کہا کہ 29 جے آئی ٹیز ہوئیں مگر کچھ پتہ نہیں چلا۔ ہمارے بیٹے کا کسی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ سپریم کورٹ نے کیس سماعت کے لیے دوبارہ سندھ ہائی کورٹ منتقل کردیا۔ سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کو محمد فیصل آرائیں کی بازیابی کرانے کا حکم دیدیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں