پاکستان نے 14 لاکھ افغان مہاجرین کی رجسٹریشن مکمل کرلی،اقوام متحدہ

اسلام آباد:اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے گزشتہ روز کہا ہے کہ پاکستان نے افغان مہاجرین کی پہلی اسمارٹ کارڈ رجسٹریشن کو کامیابی سے مکمل کرلیا ہے۔

ایک اور رپورٹ میں یو این ایچ سی آر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ایران کی بھی مدد کریں جس نے سال 2021ء میں تقریباً 5 لاکھ افغان مہاجرین کو جگہ دی ہے۔ اس ایجنسی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ رواں ہفتے پاکستان نے تقریباً 14 لاکھ افغان مہاجرین کے ڈیٹا کی تصدیق کا عمل مکمل کیا ہے اور رجسٹرڈ مہاجرین میں 2 لاکھ سے زائد 5 سال سے کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ یو این ایچ سی آر ملک بھر میں افغان مہاجرین کے ڈیٹا کی تصدیق کرنے اور انہیں اسمارٹ کارڈ جاری کرنے پر پاکستان کی تعریف کرتا ہے۔رواں ہفتے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلیپو گرینڈی نے ایران کا 3 روزہ مکمل کیا، اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی طرح ایران بھی لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دے رہا ہے۔

اپنے دورے کے اختتام پر جاری کیے گئے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’ایران کئی دہائیوں سے مہاجرین کی فراخدلی سے میزبانی کر رہا ہے جبکہ اس کی اپنی معاشی صورتحال وبا کے باعث بہت متاثر ہوئی ہے‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’جب تک افغانستان کے حالات بہتر نہیں ہوتے تب تک ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ایران جانے والے مہاجرین کو ان کی ضرورت کے مطابق مدد مل سکے‘۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان نے پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر افغان مہاجرین کی تصدیق کا عمل 31 دسمبر کو مکمل کیا، اس عمل کے نتیجے میں تقریباً ساڑھے 12 لاکھ افغان مہاجرین کے ڈیٹا کی تجدید کی گئی، اس پورے منصوبے کو ڈاکومنٹیشن رینیول اینڈ انفارمیشن ویریفکیشن ایکسرسائز (ڈرائیو) کا نام دیا گیا تھا۔اس منصوبے کے تحت اب تک 7 لاکھ سے زائد نئے اسمارٹ شناختی کارڈ جاری کیے جاچکے ہیں، جبکہ باقی کارڈ بھی رواں سال کے شروع میں ہی تقسم کردیے جائیں گے۔

یہ تمام کارڈ 30 جون 2023ء تک قابل قبول ہوں گے اور ان میں بائیومیٹرک ڈیٹا موجود ہوگا جوکہ پاکستان میں تصدیق کے لیے استعمال ہونے والے نظام کے مطابق ہوگا، ان کارڈز کے ذریعے مہاجرین کو صحت، تعلیم اور بینکنگ سہولیات تک زیادہ تیز اور محفوظ رسائی حاصل ہوگی۔’ڈرائیو‘ افغان پناہ گزینوں کو تحفظ کی کسی مخصوص ضرورت یا کمزوریوں کی نشاندہی کرنے کے قابل بھی بنائے گا، یو این ایچ سی آر کو امید ہے کہ یہ ڈیٹا ان لوگوں کی مدد کے لیے بھی کارآمد ثابت ہو گا جو گھر جانے کا فیصلہ کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے ایرانی شہر زاہدان کا دورہ کیا اور وہاں موجود افغان مہاجرین سے ملاقات کی، ان کا کہنا تھا کہ ’افغان مہاجرین نے اپنے گھروں کو چھوڑنے پر اپنے درد اور مایوسی کا ذکر کیا‘، یونیورسٹی جانے والی خواتین نے ہائی کمشنر کو اپنی پریشانی سے آگاہ کیا کہ انہیں اپنی پڑھائی ترک کرنا پڑی اور نہ جانے ان کا مستقبل کیا ہوگا۔

ایران پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ممالک میں سے ایک ہے جو کہ 4 دہائیوں سے افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، ایران میں پناہ گزینوں کو صحت، تعلیم اور روزگار کے مواقعوں تک رسائی حاصل ہے، ان کی اکثریت دیہاتوں، قصبوں اور شہروں میں اپنے ایرانی میزبانوں کے ساتھ رہتی ہے۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ ایران کو مستحکم کرنے کے لیے جامع اور مضبوط کوششوں کی ضرورت ہے اور مہاجرین کے لیے امداد کو ’ترجیح دی جانی چاہیے، اس میں اضافہ کرنا چاہیے اور اسے زیادہ پائیدار بنانا چاہیے‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں